کالم/مضامین

اک رسم تھی باہمی بھائی چارے ،محبتوں کا بہانہ تھا

” ونگار ”
اک رسم تھی باہمی بھائی چارے ،محبتوں کا بہانہ تھا.

وِنگار جسے پنجاب میں "ونگار ” پختون علاقوں میں "بلاندرہ” اور”اشر” کےنام سے بھی جانا جاتا ہے۔ ونگار کالفظی مطلب

جو میں سمجھا ہوں کہ ،بلا معاوضہ اجتماعی کام ( بلا معاوضہ کام میں مدد کروانا)
جب جدید زرعی آ لات نہیں تھے ۔ کھیتی باڑی کے کام ہاتھوںManually ہوتے تھے۔ہمارےعلاقہ میں بیلوں کے ذریعے ہل چلائےجاتے (نالی پھیرنا) کھیت کو ہموار(سوہاگا) کرنا۔ تال ، وغیرہ۔ مختلف فصلوں کی بوائی، کٹائی اور گہائی کا مرحلہ ہوتا، پڑ لگائے جاتے۔ کباڑ ،جڑی بوٹیاں (بھوکل) وغیرہ تلف کی جاتیں۔ یہ سارے کام چونکہ مشقت طلب تھے اور زیادہ افرادی قوت کی ضرورت ہوتی تو سب کاشتکار مل کر باری باری ایک دوسرےکے کام کرتے تھے ۔
اس کے علاوہ جب کچے مکانات کی تعمیر یا چھتوں کی مرمت کی جاتی مٹی اور گارا چڑھایا جاتا یا نئی چھت ڈالنے کا بھاری کام ہوتاتواس موقعےپر بھی وِنگار کا بلاوا یا درخواست کی جاتی۔
یہ سارے کام سب لوگ خوشی، جوش و ولولے سے انجام دیتے تھے۔ایسے موقعوں پر کبھی کبھی ڈھول اور شہنائی والے کو بھی جوش جزبہ اور خوشی کے لیےبلایا جاتا تھا۔ اور کام کے دوران کچھ منچلوں کا رقص وغیرہ بھی ہوتا تھا اور ڈھول کی تھاپ پر درانتی بھی چلائی جاتی تھی۔
نوجوان،(کچھ بزرگ بھی) کام کرتے ہوئے مذاق میں ایک دوسرے پرفقرے کستے اور ہنسی مذاق کے ساتھ بخوشی سارا کام ہو جاتا تھا ۔
اب بھی کہیں کہیں یہ رواج نسبتاً بارانی علاقوں میں موجود ہے لیکن کم کم۔کیونکہ جدید زرعی آلات اور زمانے کی ترقی نےان سارے کاموں کو آسان بنا دیا ہے۔
ایک وقت تھا کہ جیسے ہی مرغ نے اذان دے کر طلوع سحرکا اعلان کیا۔ اور مساجد سے اللہ اکبر کی صدائیں بلند ہوئیں تو گھروں میں بندھے بیلوں کے گلوں میں لٹکتی گھنٹیاں بجنے لگتیں۔
ہر گھرسے جفاکش،محنتی کاشتکار اپنے بیل اور دیگر ضروری جانور لے کر گاؤں، محلہ کے چوک میں جمع ہوتے، پھر ایک سیدھی لائن میں کھیتوں کی جانب رواں دواں، ایک کاشتکار کے کھیت میں پہنچ کر سب ہل جوت لیتے۔یا اگر فصلوں کی کٹائی کا معاملہ ہوتا تو مقررہ کھیت میں پہنچ جاتے۔یا گھروں کی تعمیر وغیرہ ہوتی تو اس جگہ پہنچ جاتے یہ مل کر کسی ایک بھائی کا ملکر کام میں ہاتھ بٹانے کا سلسلہ’’ونگار‘‘ کہلاتا تھا۔
ونگار کے یہ مناظر ہمیں آج سے دو تین دہائی قبل تھل،یا بارانی علاقوں کےسب دیہاتوں میں عام طور پر نظر آتے تھے۔ جہاں کبھی کام اور دکھ درد سانجھے ہوتے تھے۔
کھیتوں کی تیاری، یا فصلوں کی کٹائی، گہائی، شادی بیاہ کی تقریبات، علاقہ کے فلاحی کام جیسےکنوے کی صفائی وغیرہ سب مل جل کر ونگار جیسی رسموں سے نمٹائے جاتے تھے۔
جس شخص نے ونگار لینا ہوتی وہ شام کو ہی اطلاع کر دیتا کہ صبح اس کا کونسا کام ہے۔شاذو نادر ہی کوئی فرد انکار کرتا تھا اور سب لوگ خوشی خوشی صبح اجتماعی طور پر کام کے لیے چلے جاتے تھے جس سے دنوں کاکام لمحوں میں ہوجاتا تھا اور اتفاق، اتحاد اور محبت بھی قائم رہتی۔ونگار والے دن ونگاریوں کا ناشتہ، لنچ ونگار لینے والے کے ذمہ ہوتا۔
خواتین عموماً ونگار میں کام تو نہیں کرتی تھیں لیکن ونگار میں شامل لوگوں کے لیے خالص دیسی مزیدار کھانے پکاتی تھیں۔ ہم بچوں کے ذمہ کھانا کھیت میں پہنچانا ہوتا تھا۔ پانی وغیرہ علی الصبح ھی روانہ کر دیا جاتا اور یہ ہم بچوں کی ڈیوٹی ہوتی کہ چھوٹی جھاڑیوں کے سائے میں رکھے گھڑوں کو پانی گرائے بنا کیسے سائے کی طرف سرکاتے رہنا ھے۔ اتنا ٹھنڈا اور مذیدار پانی کہ برف اور واٹر فلٹر کی کوئی بھی ضرورت نہیں تھی۔ہمارے فرائض منصبی میں ایندھن اکٹھا کر کے حقہ بھرنا بھی شامل تھا۔
کھانا ہمیشہ روائتی اور دیسی ہوتا تھا جس میں تندوری گداز روٹی، چاٹی کی لسی، مکھن کے ساتھ گڑ یا شکر، اچار وغیرہ لازمی شامل ہوتے۔ کچھ لوگوں کی ونگار میں چٹنی اضافی آ ئٹم تھا۔ دوپہر کو اکثر لوگ تندوری روٹیاں پکاتے۔ اس کے علاوہ مسی روٹی جس کے آٹے میں پیاز آلو اور دیگر لوازمات شامل کیے جاتےجس سےونگار والے کام کے ساتھ ساتھ لذیذ مزیدار کھانے سے بھی لطف اندوز ہوتے تھے۔
یہ وہ دور تھا جب دلوں میں خلوص، لہجوں میں اپنائیت، اور رشتوں میں محبت باقی تھی۔ جب بڑوں میں شفقت اور چھوٹوں میں ادب کی خوبصورت عادت تھی۔
جدید گلوبلائزیشن کی اہمیت و افادیت اور مشینری کا دور اپنی جگہ لیکن ان کے فوائد سے بھی انکار ممکن نہیں۔ ہم اپنائیت سے دور ہوتے جارہے ہیں۔
ایک مقامی شاعر ” درد”نے کیا خوب کہا ھے۔۔
"جداں تنگ حالات دی جنگ چھڑ پئی”۔۔”تینوں "درد” ونگار نہ لبھی

منقول۔انتخاب۔ عاصم آرائیں جہلمی

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You