
اسلام آباد: آزادکشمیر کے سرکاری میڈیکل کالجز میں سیلف فنانس اور اوورسیز میڈیکل سیٹوں پر فیسوں میں کئی گنا اضافہ کر دیا گیا ہے۔فیسوں میں اضافے کیساتھ حکومت نے خلاف قانون اس کا اطلاق ان طلباء پر بھی کر دیاجو پہلے سے زیر تعلیم ہیں۔
تفصیلات کے مطابق اگر کسی طالب علم نے میڈیکل کے پہلے دو سال پانچ لاکھ سالانہ فیس دی ہے تو وہ بھی اب تیسرے سال اضافہ شدہ فیس دینے کا پابند ہوگا، یہ اپنی نوعیت کا انوکھا فیصلہ ہے۔ میڈیکل کالجز کی فیسوں میں یکدم لاکھوں روپے کے اضافے سے والدین جو پہلے ہی بمشکل اپنے بچوں کی فیس ادا کررہے تھے ، سخت پریشان ہیں اور اپنے بچوں کو میڈیکل کے تیسرے اور چوتھے سال میں تعلیم ترک کروانے پر مجبور ہیں۔طلباء نے فیسوں میں اضافے کے خلاف عدالت سے بھی رجوع کرلیا ہے اور استدعا کی ہے کہ فیسوں میں اضافہ زیر تعلیم طلباء پر لاگو کرنے کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دیاجائے ۔
نیوز ڈپلومیسی سے گفتگو کرتے ہوئے آزادکشمیر کے مختلف میڈیکل کالجر میں زیر تعلیم طلباء نے بتایاکہ سیلف فنانس اور، اوور سیز طلباء کی فیسیں پہلے ہی لاکھوں میں ہیں ، ہمارے والدین نے جب ہمیں میڈیکل کالج میں داخلہ دلوایا تو سالانہ فیس کے حساب سے ہمارے اخراجات کی منصوبہ بندی کی لیکن حکومت نے اب فیسوں میں کئی گنا اضافہ کر دیا جو والدین کے لیے ادا کرنا ممکن نہیں رہا۔ ملک بھر کے کسی تعلیمی ادارے میں ایسی پالیسی کی نظیر نہیں ملتی کہ فیسوں میں اضافے کا اطلاق پہلے سے زیر تعلیم طلباء پر بھی ہو بلکہ جو پہلے سمسٹر کی ٹیوشن فیس ہوتی ہے وہ آخر تک برقرار رہتی ہے اور فیسوں میں اضافے کا اطلاق صرف نئے داخلہ لینے والے طلباء پر ہی ہوتا ہے ۔

طلباء کاکہنا تھاکہ اس صورتحال میں مجبوراً چند طلباء میڈیکل کی تعلیم کو بھی خیرباد کہہ چکے ہیں جبکہ کئی نے آزادکشمیر ہائیکورٹ میں رٹ دائر کر دی ہے ۔ ہماری ایک ہی استدعا ہے یہ نوٹیفکیشن کسی بھی طور زیر تعلیم طلباء پر لاگو نہیں ہو سکتا اور اس کا اطلاق تاریخ اجراء کے بعد سے میڈیکل کالجز میں سیلف فنانس اور اوور سیز سیٹوں پر داخلہ لینے والے طلباء پر کیا جائے ۔

طلباء نے یہ استدعا بھی کی کہ عدالت دیگر تعلیمی اداروں کی طرح آزادکشمیر کے میڈیکل کالجز کو بھی طلباء کو پانچ سال کے تعلیمی سیشن کافیس اسٹریکچر جاری کرنے کے احکامات صادر کرے، بصورت دیگر حکومت کا یہ اقدام طلباء کے مستقبل سے کھیلنے کے مترادف ہے ۔
رپورٹ:راجہ فیصل کیانی بیورو چیف پنجاب



