اللہ تعالی نے اپنے رسولوں (علیہم السلام) کو” کتاب” اور” میزان” دے کر بھیجا تاکہ لوگوں میں نظامِ عدل

اللہ تعالی نے اپنے رسولوں (علیہم السلام) کو” کتاب” اور” میزان” دے کر بھیجا تاکہ لوگوں میں نظامِ عدل و قسط قائم کیا جائے۔




عدل اسلام کا کیچ ورڈ ہے، پاکستانی معاشرے کی اساس عدل و قسط پر قائم کی جائے۔
اللہ تعالٰی قران کو تھامنے کی بدولت قوموں کو عروج عطا فرمائے گا اور اسی کو ترک کر دینے کی وجہ سے ذلیل و خوار کر دے گا۔
وکلاء برادری حکومت پر بھرپور دباؤ ڈالے کہ فلسطینی مسلمانوں کی مدد کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں ۔ (شجاع الدین شیخ)
’’قرآن کا پیغام ‘‘ (سندھ بار کراچی ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام پروگرام سے امیر تنظیم اسلامی کا خطاب)
کراچی (پ ر): اللہ تعالی نے اپنے رسولوں (علیہم السلام) کو” کتاب” اور” میزان” دے کر بھیجا تاکہ لوگوں میں نظامِ عدل و قسط قائم کیا جائے۔ عدل اسلام کا کیچ ورڈ ہے، پاکستانی معاشرے کی اساس عدل و قسط پر قائم کی جائے۔وکلاء برادری حکومت پر بھرپور دباؤ ڈالے کہ فلسطینی مسلمانوں کی مدد کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں ۔ ان خیالات کا اظہار تنظیم اسلامی کے امیر شجاع الدین شیخ نے جناح آڈیٹوریم کراچی بار ایسوسی ایشن سٹی کورٹ میں ’’ قرآن کا پیغام ‘‘ کے عنوان سے خطاب میں کیا۔انہوں نے کہا کے ختم نبوت کے بعد اسلام کے عادلانہ نظام کے قیام اور نفاذ کی ذمہ داری امتِ مسلمہ پر عائد ہوتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قران کے آفاقی پیغام کو نظر انداز کر کے امتِ مسلمہ نےبحیثیت مجموعی مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیا ہے۔آج دنیا میں 57 مسلم ممالک اور دو ارب کے قریب مسلمان ہیں لیکن اس کے باوجود امتِ مسلمہ پوری دنیا میں بدترین ذلت اور رسوائی سے دوچار ہے۔قران و حدیث میں واضح خبریں موجود ہیں کہ قیامت سے قبل کل روئے ارضی پر اللہ کا دین قائم و نافذ ہو کر رہے گا ۔ ان شاء اللہ!ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ اس اہم ترین ذمہ داری یعنی اقامت دین کی جدوجہد کو ادا کرنے میں ہم کیا کردار ادا کرتے ہیں اور اسی سے متعلق قیامت کے دن ہم سے سوال کیا جائے گا۔ حدیث مبارکہ میں آیا ہے کہ اللہ تعالٰی قران کو تھامنے کی بدولت قوموں کو عروج عطا فرمائے گا اور اسی کو ترک کر دینے کی وجہ سے ذلیل و خوار کر دے گا۔ انہوں نے وکلاء برادری سے اپیل کی کہ وفاقی شرعی عدالت کے سود کے خلاف فیصلہ پر اپیلوں کی سماعت کے لیے سپریم کورٹ کے شریعت ایپلٹ بینچ کی فی الفور تشکیل کے لیے دباؤ بڑھایا جائے تاکہ اللہ اور اس کے رسولﷺ سے جنگ کا جلد از جلد خاتمہ ہو اور ملکی معیشت کو اسلامی اصولوں کے مطابق استوار کیا جا سکے۔ اسی طرح ٹرانس جینڈر قانون کے حوالے سے فیڈرل شریعت کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیلوں کی بھی جلد شنوائی کے لیے دباؤ بڑھایا جائے۔ وکلاء برادری مبارک ثانی قادیانی کے کیس میں بھی سپریم کورٹ کو آئین، قانون اور شریعت کے مطابق معاونت فراہم کرے تاکہ اس فتنے کو بھی جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم قران و سنت کی طرف رجوع کریں، اور انہیں اپنا امام بنا کر مملکتِ خداداد پاکستان کو صحیح معنوں میں اسلامی فلاحی ریاست بنانے کے لیے اپنا تن من دھن لگا دیں۔
غزہ میں جاری اسرائیلی درندگی کا ذکر کرتے ہوئے امیر تنظیم نے کہا کہ صہیونی، سرزمینِ غزہ کو صفحہ ہستی سے مٹانے پر تُلے ہوئے ہیں۔ اسرائیل گزشتہ سات ماہ سے غزہ پر شدید ترین بمباری کر رہا ہے لیکن مسلمان ممالک کی بزدلی کا عالم یہ ہے کہ بڑھتی ہوئی اسرائیلی درندگی کے خلاف کھل کر آواز بلند کرنے کو بھی تیار نہیں بلکہ اپنی مجرمانہ خاموشی کے ذریعے ناجائز صہیونی ریاست کو ہی تقویت دے رہے ہیں۔ آج امتحان غزہ کے مسلمانوں کا بھی ہے اور باقی امتِ مسلمہ کا بھی ہے۔ اہلِ غزہ تو اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے اس امتحان میں کامیاب ہو رہے ہیں۔ باقی امت ِمسلمہ اس امتحان میں کامیاب ہونے کے لیے اپنے مظلوم اور مجبور فلسطینی بھائیوں کی اس مشکل گھڑی میں عملی مدد کرے۔ ۔ انہوں نے کہا کہ وکلاء برادری حکومتِ پاکستان پر فلسطینی مسلمانوں کی عملی مدد کے لیے دباؤ بڑھائے ۔ پھر یہ کہ ناجائز صیہونی ریاست اور اس کے وزیراعظم کے خلاف عالمی عدالت انصاف میں جاری مقدمات میں فریق بننے کے حوالے سے حکومتِ پاکستان کو رہنمائی فراہم کی جائے۔
اللہ تعالیٰ سب مسلمانوں کواپنا دینی فریضہ ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے تاکہ ہمیں اللہ تعالٰی کی خوشنودی اور اُخروی نجات حاصل ہو سکے۔ آمین یا رب العالمین!



