اہم خبریںسائنس اور ٹیکنالوجی

ابتدائے حیات اور اے بائیو جینیسس نظریہ

ابتدائے حیات اور اے بائیو جینیسس نظریہ

(ملر اور یوری تجربے کے بعد کی کہانی )
اسٹینلے ملر Stanley Miller کا ایک گمشدہ تجربہ زندگی کی ابتداء کے بارے میں مظبوط اشارہ دیتا ہے
زندگی زمین پر پیدا ہوئی یا کہیں اور
کہیں اور تو زندگی کہاں سے کیسے آئی
کئی صدیوں سے انسانیت اس سوال کا جواب دینے کی
کوشش کر رہی ہے کہ زمین پر زندگی کی ابتدا کیسے ہوئی
یہ موضوع آج کل دلچسپی کا حامل رہا ہے اور بہت سارے لوگوں کے لئے بھی دلچسپی کا حامل ہے اور نہ صرف سائنس دانوں اور محققین کو ایسا لگتا ہے کہ سائنس آگے بڑھ رہی ہے
سائنسدان مسلسل نئی دریافتوں کے ساتھ ہمیں حیرت میں ڈال رہے ہیں اور زمین پر زندگی کی ابتدا
اس کا میکانزم انسانیت کی تاریخ میں سب سے زیاہ پوچھا جانے والا سوال ہے اور یہ فطری بات بھی ہے
کیونکہ جب یہ انکشاف انسان پر ہوا کہ زمین کے علاوہ فی الحال جب کہیں زندگی کا کوئی سراغ نہیں اب تک ملا تو ایسی کیا وجوہات تھیں جس کی بنا پر زمین پر ہم زندگی اپنی بھرپور توانائیوں سے موجود پاتے ہیں

مختلف مکتبہ فکر سے مختلف نطریات گزشتہ ادوار میں پیش کیے گئے اور لوگوں نے اپنے اپنے مزاج کے حساب سے اس کے جوابات بھی دیے
جو کسی گروہ کے نزدیک درست مانے گئے اور کسی کے نزدیک غلط
سائنس چونکہ عقلی اور منطقی وجوہات کی تلاش میں رہتی ہے اس لیےدیرینہ سوال کا جواب بھی سائنس کے زریعے ایسا ڈھونڈا جانے لگا جس کو عقلی بنیادوں پر تسلیم کیا جا سکتا ہو

جان‌داروں کے خلیوں کے اندر ڈی‌این‌اے ہوتا ہے جن میں اُن کے تمام اعضا کی بناوٹ کے بارے میں معلومات موجود ہوتی ہے لیکن ڈی‌این‌اے کیسے وجود میں آیا؟

سائنس‌دان مانتے ہیں کہ اِس بات کا اِمکان بہت کم ہے کہ ڈی‌این‌اے بےجان مادے سے خودبخود وجود میں آیا
اِس لیے بعض سائنس‌دان یہ نظریہ پیش کرتے ہیں کہ ڈی‌این‌اے کے وجود میں آنے سے پہلے ایسے مالیکیول موجود تھے جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ڈی‌این‌اے بن گئے۔
اُن کے خیال میں یہ ایسے مالیکیول تھے جو آسانی سے خودبخود وجود میں آ سکتے تھے
تو چارلس ڈارون نے سب سے پہلے اپنی مشہور کتاب انواع کا ماخذ Origin Of Species میں ایسے خیالات کا اظہار کیا کہ شائد زمین پر زندگی کا آغاز ایک نیم گرم ابلتے ہوئے سوپ جیسے جوہڑ یا سمندری مقام سے ہوا تھا
جہاں یہ نامیاتی مرکبات پائے جاتے تھے
یہ نامیاتی مرکبات مختلف کیمیائی تعماملات سے حاصل ہوتے ہیں اور ان کو بنانے والے وہی سارے کے سارے اجزاء ہیں جو زمین پر پائے جاتے ہیں
مضمون میں آگے ان کی نشاندہی کی گئی ہے

پھر ڈارون نے صرف تجویز کیا تھا لیکن اس نے کوئی عملی ثبوت نہیں دیا تھا
لیکن بعد کے آنے والے کچھ سائنسدانوں نے اس مفروضے کے عملی اقدامات پر بھی سنجیدگی سے عمل کرنے کا سوچا اور قدیمی زمین کے ماحول میں موجود مرکبات کے زریعے وہ سادہ نامیاتی اجزاء تیار کرنے کا سوچا جو زندگی کے لیے ضروری ہوتے ہی
ان سائنسدانوں میں جہاں اور بھی نام شامل ہیں وہاں اسٹینلے ملر Stanley Miller اور ان کے استاد ہیرلڈ یورے Harold Urey ایسے دو سائنسدان تھے جنہوں نے 1950 کی دہائی میں ایسے تجربات کی سیریز انجام دی تھی
جس نے صدیوں پرانے اس سوال کا جواب جاننے کی کوشش کی تھی کہ زمین پر ابتدائے حیات کیسے ہوئی

1953 میں اسٹینلے ملر اور ہیرالڈ یوری نے اوپرین اور ہالڈین (دو روسی سائنسدان) کے انکے نامیاتی حیات سے متعلق خیالات کو جانچنے کے لیے ایک تجربہ کیا
انہوں نے پایا کہ ایسے نامیاتی مالیکیولز کو تخفیف کرنے والی حالتوں سے بے ساختہ اور خو د بخود پیدا کیا جا سکتا ہے
جن کے بارے میں سوچا جاتا ہے کہ وہ ابتدائی زمین کی حالات سے مشابہت رکھتے ہیں
یہ تجربہ کامیابی سے ہمکنار ہوا اور انہوں نے بہت سارے ایسے نامیاتی اجزاء بنا ڈالے جو آج ہم ماڈرن حیاتیات کے حساب سے جانتے ہیں کہ وہ زندہ اجسام میں ضروری ہوتے ہیں
پھر ملر اور یوری نے اپنے مشہور تجربے کے بعد اور بھی چند تجربات کیے
اور ان کے بعد بھی کئی مزید سائنسدانوں نے تجربات آگے کیے
جنہوں نے اس نظریات پر مہر تصدیق ثابت کر دی کہ زندگی کا آغاز زمین پر ہی دستیاب چیزوں اور مرکبات سے ہوا
اور وہ اشیاء زمین کے قدیمی حالات سے بالکل میل کھاتی ہیں
آنے والا مضمون دراصل انہی تجربوں کے متعلق ہے جو 1953 کے بعد ملر اور یوری کے تجربات کے بعد دہرائے گئے
اور ان کو دہرانے کے لیے ناسا نے فنڈ بھی مہیا کیے اور اپنی تحقیقاتی لیبارٹری بھی مہیا کی
اس کی تفضیل نیچے بتائی گئی ہے

1950 کی دہائی میں کیے جانے والے ڈاکٹرا سٹینلے ملر کی طرف سے کیے گئے کلاسیکی تجربات کی ایک قسم سے اس کے تجربے باقیات کے تجزیے کے مطابق زندگی کی ابتدا ایک بدبودار مادے سے ہو سکتی ہے
1958 میں اسٹینلے ملر کے مشہور تجربے کے بعد کچھ ایسے شیشے کے باکس منظر عام پر آئے جو ملر کے تجربے سے منسوب تھے
اور اس کے ایک شاگرد جیفری باڈا Jeffrey Bada کی تحویل میں رکھے ہوئے تھے
شیشے کی یہ وائل واقعی اسٹینلے ملر سے منسوب تھیں جن کو کچھ نامعلوم وجوہات کی بناء پر ملر نے کبھی ان کا تجزیہ نہیں کیا
حالانکہ یہ ہائیڈروجن سلفائیڈ H₂S کا استعمال کرتے ہوئے ان کا پہلا تجربہ ہے
ان شیشے کی وائل پر لیبل ملر کی اصل تحریر کو ظاہر کرتا ہے اور یہ نمبر p 114 اس کی نوٹ بک سے مراد ہے
جارجیا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اٹلانٹا کے ایرک پارکر Eric Parker نے کہا
اس تجربے اور ملر کے دوسرے تجربات کے درمیان بنیادی فرق میں سے ایک ہائیڈروجن سلفائیڈ (H₂S) گیس کا استعمال ہے جو اولین زمینی قدیم ماحول کی تقلید میں مدد کرتا ہے
یعنی زمین کی پیدائش کے فوری بعد زمین کا کیسا ماحول تھا اس کی نقل کرتا ہے
ہائیڈروجن سلفائیڈ گیس H₂S جو عام طور پر کسی گلتے سڑتے جسم سے نکل رہی ہوتی ہے اور اس کی بو سڑے ہوئے انڈوں سے نکلنے والی خوفناک بدبو جیسی ہوتی ہے
پارکر اس تحقیق پر ایک مقالے کے سرکردہ مصنف ہیں جو 21 مارچ 2014 کو نیشنل اکیڈمی آف سائنسز کی کارروائی کے آن لائن ابتدائی ایڈیشن میں شائع ہوئے ہیں

سان ڈیاگو میں یونیورسٹی آف کیلی فورنیا کے سکریپس انسٹی ٹیوشن آف اوشیانوگرافی کے پروفیسر جیفری باڈا نے کہا
ہمارے لیے حیرت کی بات ہے ملر کے ہائیڈروجن سلفائیڈ کے تجربے سے امینو ایسڈ کی پیداوار اس کے کسی دوسرے تجربے سے بہت زیادہ ہے
جیف باڈا پروفیسر ملر کے شاگرد رہ چکے ہیں اور اس تحقیقی مقالے کے متعلقہ مصنف ہیں

1953 سے 1954 تک اسٹینلے ملر جو اس وقت شکاگو یونیورسٹی کے گریجویٹ طالب علم تھے نے ساتھی ہیرالڈ یوری کے ساتھ پانی اور سادہ گیسوں کے مرکب پر مشتمل بند فلاسکس کے نظام کا استعمال کرتے ہوئے تجربات کی ایک سیریز کی
اس وقت تجربے میں استعمال ہونے والی گیسیں (ہائیڈروجن، میتھین اور امونیا) زمین کی قدیم فضا میں عام سمجھی جاتی تھیں
اور یہ عمومی خیال کیا جاتا تھا کہ قدیم نوزائدہ زمین کی آب و ہوا دراصل انہیں گیسوں سے مل کر بنی ہے
گیس کو برقی چنگاری کے ساتھ بار بار اسپارک کیا گیا تھا
کچھ دنوں تک تجربہ کرنے کے بعد پانی بھورا ہو گیا
جب ملر نے پانی کا تجزیہ کیا تو اس نے پایا کہ اس میں بہت سارے امینو ایسڈ موجود ہیں جو پروٹین کے بنیادی بلاکس ہیں
زندگی کی ٹول کٹ جو کہ بالوں اور ناخن جیسے ڈھانچے سے لے کر کیمیائی رد عمل کو تیز کرنے، سہولت فراہم کرنے اور ان کو منظم کرنے تک ہر چیز میں استعمال ہوتی ہے
چنگاری نے گیس کے مالیکیولوں کو ہائیڈروجن سائینائیڈ، الڈیہائیڈز اور کیٹونز جیسے مرکبات میں دوبارہ جوڑنے کے لیے توانائی فراہم کی جو بارش کے پانی کی صورت میں برستے ہیں
وہاں یہ مرکبات امونیا کی موجودگی میں مزید ردعمل کرتے ہوئے امینو ایسڈ تیار کرتے ہیں
ملر کے تجربے نے دکھایا کہ کس طرح سادہ مالیکیولز کو قدرتی عمل کے ذریعے زندگی کے لیے ضروری زیادہ پیچیدہ مالیکیولز میں جمع کیا جا سکتا ہے
جیسے زمین کے قدیم ماحول میں بجلی کے اثر سے ان سادہ مالیکیولوں کی وجہ سے پہلا وہ خلیہ وجود میں آیا جو زندگی کی خصوصیات رکھتا ہو گا

2007 میں ملر کی وفات کے بعد جیفری باڈا نے اصل تجربات کے نمونوں پر مشتمل شیشیوں
(جو پروفیسر ملر کے ہی تجربات کی باقیات میں سے تھے) کو دریافت کیا
2008 میں باڈا اور ان کی ٹیم جو ناسا اور یونیورسٹی کے محققین پر مشتمل تھی نے جدید آلات کے ساتھ ان نمونوں کا تجزیہ کیا تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ آیا وہ ایسے کیمیکلز کو دریافت کر سکتے ہیں
جن کا پتہ 1950 کی دہائی کی تکنیک سے نہیں لگایا جا سکتا تھا
یہ نمونے ملر کے کلاسک ڈیزائن کے مختلف قسم کے ذریعہ تیار کیے گئے تھے
جس نے آتش فشاں پھٹنے سے بادل میں حالات کی تقلید کے لیے بھاپ کا ایک جیٹ متعارف کرایا تھا

اکتوبر 2008 میں ٹیم نے رپورٹ کیا کہ انھوں نے نمونے میں 22 امینو ایسڈز دریافت کیے
جن میں سے 10 اس طرح کے کسی دوسرے تجربے میں کبھی نہیں پائے گئے
یعنی یہ 22 نئے امینو ایسڈز وہ تھے جو ملر کے ابتدائی تجربے میں ظاہر نہیں ہوئے تھے

نئی تحقیق میں باڈا کی ٹیم نے 1958 میں کیے گئے تجربے کی ایک اور قسم کے نمونوں کا تجزیہ کیا جس میں ملر نے مرکب میں کاربن ڈائی آکسائیڈ اور ہائیڈروجن سلفائیڈ گیس کا استعمال کیا
یہ کئی دہائیوں سے کہیں کھو گیا تھا کیونکہ چند نامعلوم وجوہات کی بناء پر ملر نے کبھی بھی اپنے ان دوسری طرح کے نتائج کے تجزیہ کی اطلاع نہیں دی

اسٹینلے نے ہم میں سے بہت سے لوگوں کو بتایا کہ وہ ہائیڈروجن سلفائیڈ کے ساتھ کام کرنے سے نفرت کرتا تھا کیونکہ اس سے بہت بدبو آتی تھی اور اس کی وجہ سے وہ بیمار ہوتے تھے
بڈا کہتے ہیں یہ دیکھتے ہوئے کہ اس نے تجربے میں جو مرکبات بنائے ہیں ان میں سے کچھ بہت خراب بو آ رہی ہے
یہ تجربہ اس کے دوسرے تجربات میں سے H₂S سے نمٹنے میں اس کی ہچکچاہٹ کی بنیاد ہو سکتا ہے
ٹیم نے دریافت کیا کہ ملر کے دوسرے ہائیدروجن سلفائیڈ والے تجربے نے سلفر پر مشتمل امینو ایسڈز بنائے
جس سے پارکر کے مطابق مصنوعی پری بائیوٹک ماحول سے اس طرح کی پہلی ترکیب سے زیادہ نامیاتی مالیکیول حاصل ہوئے
اور وہ آمیزہ حاصل ہوا جس نے انہیں (امینو ایسڈز) کو سب سے زیادہ تنوع اور سب سے زیادہ کثرت میں پیدا کیا

ڈاکٹر ایچ جیمز نے کہا کہ ہم نے جو گندھک پر مشتمل امینو ایسڈ پایا ہے ان میں میتھیونین جیسے اہم حیاتیاتی عنصر شامل ہیں جو کہ جینیاتی کوڈ میں اسٹارٹ کوڈن یعنی پہلا زندہ خلیوں کا کوڈ کی پیداوار ہے
جو کہ سیل کی مشینری کو پروٹین کے ڈیزائن کا ترجمہ شروع کرنے کا آغاز کرواتا ہے

ڈاکٹر ایم ڈی ایچ جیمز
Cleaves Of The Carnegie Institution Of Washington
ایک شریک مصنف ہیں جس نے گرین بیلٹ میں ناسا کے گوڈارڈ اسپیس فلائٹ سینٹر میں تجزیاتی فلکیاتی تجربہ گاہ میں سائنسدانوں کے ساتھ مل کر کچھ تجزیے کیے
اس مطالعہ کے نتائج ان کرداروں کے بارے میں وہ سراغ فراہم کر سکتے ہیں جو زمین کے پہلے نامیاتی مرکبات میں سے کچھ کی تشکیل میں ابتدائی آتش فشاں پلموں نے ادا کیے ہوں گے
پارکر کہتے ہیں قدیم آتش فشاں پہاڑ ماحولیاتی ھائیڈروجن سلفائیڈ H₂S کا ایک قدرتی ذریعہ ہیں
آسمانی بجلی کے واقعات اکثر آتش فشاں کے پھٹنے کے ساتھ ملتے ہیں
اس تجربے میں H₂S کا استعمال، ملر کی استعمال شدہ دیگر گیسوں کے ساتھ مل کر
ساتھ ہی برقی چنگاری خارج ہونے والے مادہ کے ساتھ مل کر
شیشے کے جار میں ہونے والے اسپارک کی ایک نقل قدیم بجلی کا تاثر پیدا کر سکتا ہے
جو اس قدیم معدنیات سے بھرے سوپ پر پڑی تھی
جہاں یہ امیونو ایسڈز بن رہے تھے
اس کا ایک نمونہ جو کہ ابتدائی آتش فشاں پلموں پر مشتمل ہو سکتا تھا
نتائج بتاتے ہیں کہ قدیم زمین پر آتش فشاں علاقے قدیم زمین پر بڑی مقدار میں اور مختلف قسم کے پری بائیوٹک مرکبات کی مقامی پیداوار کے لیے ذمہ دار رہے ہوں گے

گوڈارڈ کی ٹیم نے بہت سے کاربن سے بھرپور شہابیوں کا تجزیہ کیا جن میں مختلف امینو ایسڈز بھی پائے ہیں
جو یہ بتاتے ہیں کہ حیاتیاتی لحاظ سے اہم مالیکیول خلا میں بنائے جا سکتے تھے اور ان کے زمین سے ٹکرانے کے اثرات کے ذریعے یہ امینوایسڈز قدیم زمین تک پہنچائے جا سکتے تھے
جس سے ان تیار حصے سے زندگی کی ابتداء میں مدد ملی تھی جو کسی بھی طرح کی زندگی کے ضرروی تھے
ہم نے پایا کہ ملر کے ہائیڈروجن سلفائیڈ کے کثرت سے تجربے میں پیدا ہونے والے امینو ایسڈز کی اقسام اور انہی کاربن سے بھرپور شہابیوں میں پائی جاتی ہے
اس کے علاوہ ایک نام نہاد کاربوناسیئس کونڈرائٹس میں پائے جانے والے مواد سے بھی زیادہ یہ تعداد میل کھاتی ہے
اور کیمیائی بناوٹ میں ان جیسے ہی ہیں دوسرے الفاظ میں ملر تجربے اور دوراز شہاب ثاقب میں جنم لینے والے امینو ایسذز اور دیگر نامیاتی اجزاء تقریبا ایک ہی جیسے ہیں
اور ملر کے پہلے تجربے کے برعکس دوسرے تجربے کے زیادہ مماثل ہیں
ناسا گوڈارڈ کے ڈاکٹر جیسن ڈورکن کہتے ہیں ایک تحقیقی مقالے کے شریک مصنف اور گوڈارڈ کی فلکیاتی کیمسٹری لیبارٹری کے چیف کہتے ہیں کہ ہمیں اس قدر مماثلت ملنے کی ہرگز توقع نہیں تھی
ان شہابیوں میں جنم لینے والے نامیاتی مادوں سے ملر کے تجربے والے مادے کی قریب تر کیمیائی ترکیب کا میچ اہم ہے
کیونکہ پارکر کے مطابق ہائیڈروجن سلفائیڈ کے تجربے میں ملر کا ماحول زیادہ قدیمی زمین کے آ س پاس کے ماحول سے ملتا جلتا ہے جیسا کہ جیو سائنس دانوں کے خیال میں اسوقت زمین کا ابتدائی ماحول ایسا ہی رہا ہو گا
ہائیڈروجن، میتھین اور امونیا سے بھاری بھر کم ہونے کی بجائے اب بہت سے سائنس دانوں کا خیال ہے کہ زمین کی قدیم فضا زیادہ تر کاربن ڈائی آکسائیڈ، کاربن مونو آکسائیڈ اور نائٹروجن تھی جس میں دیگر گیسوں جیسے ہائیڈروجن سلفائیڈ، میتھین اور امونیا کے ہلکے پھلکی مقداریں تھیں

پارکر کہتے ہیں اس تجربے کے نتائج بتاتے ہیں کہ ہائیڈروجن سلفائیڈ سمیت آکسیڈائزڈ اور دیگر تخفیفی مرکبات سے بننے والا کمپاونڈ، نہ صرف زمین پر
بلکہ ماورائے زمین جیسی دیگر جگہوں مطلب ایک شہابیوں کے بنیادی جسموں کے اندر، امینو ایسڈز اور امائنز کی تشکیل میں اہم کردار کر رہا ہوتا ہے

اس تحقیق کی مالی اعانت
NASA Astrobiology Institute
کی طرف سے کی گئی تھی
جس کا انتظام NASA کے Ames Research Center، Moffett Field، Calif گوڈارڈ سنٹر فار آسٹروبائیولوجی اور ناسا پوسٹ ڈاکیٹرل پروگرام نے مشترکہ طور پر کیا تھا
مزید دو ریسرچ پروفیسرز جو ناسا کے اس تجربے میں شامل تھے، Dworkin اور Cleaves وہ بھی ملر کے گریجویٹ شاگرد تھے
پارکر جو اب جارجیا ٹیک کے گریجویٹ طالب علم ہیں نے اس مطالعہ کی قیادت کی
شریک مصنفین میں واشنگٹن ڈی سی میں کارنیگی انسٹی ٹیوشن آف واشنگٹن میں جیو فزیکل لیبارٹری سے ایچ جیمز کلیویس شامل ہیں
جیسن پی ڈورکن، ڈینیئل پی گلیون اور NASA کے مائیکل پی کالہان ​​گوڈارڈ اینڈریو ڈی
اوبرے ناسا کی جیٹ پروپلشن لیبارٹری، کیلیفورنیا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی، پاساڈینا، کیلیفورنیا اور میکسیکو میں نیشنل خود مختار یونیورسٹی آف میکسیکو کے انتونیو لازکان شہر میں واقع ناسا کے ریسرچ سنٹر کا حصہ ہیں

(مضمون کی تیاری کے لیے ان آرٹیکلز سے مدد لی گئی) ہے
https://www.nasa.gov/centers/goddard/news/releases/2011/lost_exp.html

https://www.nationalgeographic.com/science/article/scientists-finish-a-53-year-old-classic-experiment-on-the-origins-of-life
(تحریر، ترجمہ اور اضافہ جات: حمیر یوسف)

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You