اہم خبریںسائنس اور ٹیکنالوجی

چاند زمین کا ایک قدرتی سیٹیلائٹ ہے جو زمین کے گرد کروڑوں سالوں سے گھومتی آرہی ہے

چاند زمین کا ایک قدرتی سیٹیلائٹ ہے جو زمین کے گرد کروڑوں سالوں سے گھومتی آرہی ہے۔

چاند ایک ایسی دنیا ہے جسکے بارے میں astronomers زیادہ جانتے ہیں کیونکہ ایک تو یہ زمین کے بہت زیادہ قریب موجود ہے اور دوسرا یہ زمین کا قدرتی سیٹیلائٹ بھی ہے جو زمین کے آربٹ میں ہے۔ astronomers کے مطابق چاند ہر سال ہم سے 6 سنٹی میٹر دور ہوتا جارہا ہے مطلب یہ کہ آج سے کروڑوں سال بعد اگر زمین پر انسان موجود ہوئے تو وہ چاند کے بارے میں صرف قصے کہانیاں ہی سنیں گے اور ان کی کتابوں میں چاند کے بارے میں لکھا ہوگا کیونکہ اس وقت چاند زمین سے بہت زیادہ دور جا چکا ہوگا اتنا دور کہ یہ زمین سے ایک نقطے کی مانند نظر آئے گا۔

آج ہم جانتے ہیں کہ چاند کی وجہ سے زمین کو کافی فائدہ ہورہا ہے سمندروں میں مدوجزر پیدا ہورہے ہیں جسکی وجہ سے آبی زندگی برقرار ہے آج ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ زمین سورج کے گرد اپنا ایک چکر 365 دنوں میں مکمل کرتی ہے وہی اپنے axis پر یہ اپنا ایک چکر صرف 24 گھنٹوں میں مکمل کرتی ہے لیکن چاند ایسا بلکل نہیں کرتا۔ چاند اپنا ایک چکر زمین کے گرد صرف 27 دنوں میں مکمل کرتی ہے وہی اپنے axis پر بھی یہ اپنا ایک چکر 27 دنوں میں ہی مکمل کرتی ہے مطلب یہ کہ چاند کی محور پر گھومنے کی رفتار اور زمین کے گرد گھومنے کی رفتار ایک جیسی ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہمیں ہمیشہ چاند کا ایک ہی حصہ نظر آتا ہے۔ امید ہے آپ سمجھ گئے ہونگے۔

اب تک انسانوں نے چاند پر جو قدم رکھے ہیں وہ اسی حصے میں رکھے ہیں جو رات کو ہمیں نظر آتا ہے یعنی جو رات کو ہم چاند کا جو حصہ دیکھ رہے ہوتے ہیں یہ وہی حصہ ہے جس پر انسانی قدم رکھے گئے ہیں نا صرف یہ بلکہ انسانی ہاتھوں بنائے گئے سپیس کرافٹس بھی اسی حصے میں اتاری جاتی ہیں اور وہ اسلئے تاکہ ساینسدانوں کو زمین والوں سے رابطہ کرنے میں کوئی مشکل پیش نہ آئے لیکن یہ مت سوچنا کہ ہم نے چاند کا دوسرا حصہ explore نہیں کیا ہے بلکہ چاند کا وہ حصہ جو ہمیشہ انسانی نظروں سے اوجھل ہوتا ہے اس حصے پر کئی سارے خلائی مشنز بھیجے جاچکے ہیں جن کی بدولت چاند کا وہ حصہ بھی ہم کھوج پائے ہیں جو ہمیں نظر ہی نہیں آتا۔ اس حصے کی بے شمار تصاویریں آپ کو ناسا کی official ویب سائٹ سے مل جائیگی۔ ویسے سائینسدانوں نے اس چھپے حصے کو Dark side of the moon کا نام دیا ہے لیکن حقیقت میں چاند کا یہ تاریک حصہ دراصل میں اس حصے سے زیادہ روشن ہے جو ہمیں رات میں نظر آتا ہے مطلب یہ کہ رات کو روشن آنے والا حصہ اتنا روشن نہیں ہے جتنا روشن چاند کا دوسرا حصہ ہے اور یہ واقعی میں انسانی عقل کو حیران کر دیتی ہے۔

تحریر : کاشف_احمد

نظام شمسی کے کناروں سے دور ایسا کیا موجود ہے جو آج تک انسانی آنکھوں نے نہیں دیکھا ہے ؟ وڈیوں دیکھنے کیلئے اس لنک پر کلک کیجئے

👇👇👇

MKB Creation

Mehr Asif

Chief Editor Contact : +92 300 5441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

MKB Creation
Back to top button

I am Watching You