*عنوان: آئی پی پیز، قوم اور اقدامات۔۔۔!!*

*ٹائٹل: بیدار ھونے تک*
*عنوان: آئی پی پیز، قوم اور اقدامات۔۔۔!!*
*کالمکار: جاوید صدیقی*
دنیا بھر میں معاہدے ہوتے رہتے ہیں معاہدوں کی پہلی شق اور شرط بھی یہی ھوتی ھے بلکہ میں کہتا ہوں کہ بنیاد اساس اور روح یہی ہوتی ھے کہ معاہدہ رقم کے عیوض اشیاء یا سہولت کا فراہم کرنا شرط اول ھے اگر دوسرا رقم کے عیوض کوتاہی غفلت اور معاہدے کی روح سے متواتر روح گردانی کرتا ھے تو وہ مجرم اور قصور وار ٹہرتا ھے جسے عدالتی قوانین کے تحت سزا اور جرمانہ عائد کیا جاتا ھے۔ آئی پی پیز بھی اپنے ہی معاہدوں کی مجرم ھے اور اس پر سزا و جرمانہ عائد ھوگا اس کے خلاف ملکی و بین الاقوامی عدالت میں کیس دائر کرنا ناگزیر بن چکا ھے۔ دنیا بھر کے مذہبی قوانین اور ریاستی قوانین ایسے اشخاص یا کمپنی اور ممالک کو مجرم قرار دیتی ھے اور جو مستقلاً معاہدے کے برخلاف عمل کو جاری رکھے اسے دہشتگرد اور غدار کے زمرے میں پیش کیا جاتا ھے۔ عام طور پر اسے معاشی دہشتگردی کہا جاتا ھے جو کسی بھی ملک یا ریاست کو تباہ و برباد کرنے کیلئے استعمال ھوتا ھے یہ عمل غداری کہلاتا ھے اس جرم کے تحت شامل افراد کمپنیاں یا ملک غدار کہلاتے ہیں۔ ہمارا ملک پاکستان وہ بدقسمت ملک ھے جہاں کی اکثریت عوام جاہل بدترین گمراہ بدترین جذباتی اور بدکرار ھے جو سدھرنے کیلئے توجہ نہیں دیتی اس میں جہاں ان پڑھ کی تعداد ہے وہیں ان سے زائد پڑھے لکھے جاہل مطلق بھی ہیں۔ آئی پی پیز کمپنیاں ہمارے ہی ملک پاکستان کی اشرفیہ، ایلیٹ جماعت، منصفین، محافظین، تاجر اور نوکر شاہی طبقہ سے تعلق رکھنے والے چالیس سے زائد خاندانوں کی ہیں اور انھوں نے اس ملک کو باپ کی جاگیر اور ماں کے جہیز میں آئے ہوئے غلام قوم سمجھ رکھا ھے۔ ہمارے سیاستدان دنیا کے بدترین ہیں، ہمارے حکمران دنیا کے غلیظ ترین ہیں، حکمرانوں کو عائد کرنے والے انتہائی کمین ترین ہیں، اور مذہبی رہنما و پیشوا چند ایک کو چھوڑ کر انتہائی منافقین و بے ایمان ہیں تو پھر اس ریاست کو کون پاک کرسکے گا کون ٹھیک کرسکے گا۔ جماعت اسلامی ہو یا تحریک انصاف یا پھر کوئی اور سیاسی جماعت اس نظام کو نہ درست کرسکتے ہیں اور نہ ہی بہتری کی طرف لاسکتے ہیں البتہ یہ جماعت اسلامی و تحریک انصاف بہت شور شرابے کے بعد چند ایک اپنے ذاتی مفادات کے حصول اور عوامی لولی پاپ کے آمادہ ہوجائیں گے اور پھر چپ سادھ لیں گے اور یہی کہیں گے کہ سب اچھا ھے معاہدہ بڑا پکا ھے صبر کے سوا کچھ نہیں کرسکتے۔ اگر یہ سچے مخلص ہیں تو ملکی و بین الاقوامی عدالت میں کیس دائر کرکے انکے معاہدے کے خلاف ثبوت پیش کرکے ایک جانب ان آئی پی پیز کو بلیک لسٹ مجرم ثابت کر واسکتے ہیں تو دوسری جانب ان سے ہرجانہ بھی وصول کرسکتے ہیں مگر ایسا کوئی بھی نہیں کریگا کیونکہ سب کے چہروں پر منافقت، عیاری، دھوکہ، جھوٹ اور مفادات کی کالک لگی ھوئی ھے۔ پوری قوم متحد ھوکر نکل باہر ھوں اور ان سب آئی پی پیز کا سخت ترین خود احتساب کریں حساب لیں تو شائد قسمت بدل جائے نظام تبدیل ھوجائے وگرنہ اپنی اگلی نسل کو ٹرپتا جھلستا برباد ہوتا دیکھ دیکھ کر خود اس دنیا سے چلے جانا ھے۔۔۔۔معزز قارئین!! اب میں وہ حقائق پیش کررھا ھوں جنکا جاننا، سمجھنا اور آگاہ رہنا ہر قوم کی ذمہداری ھے۔ آپ بجلی سستی ہونے کے خواب دیکھنے چھوڑ دیں کیونکہ حکمرانوں نے آئی پی پیز کے ساتھ معاہدے تیس سال تک کے کر رکھے ہیں۔ ان کی تفصیلات بتانے سے قبل واضع کرتا چلوں کہ آئینی و قانونی اور آرٹیکل کے مطابق حکمران پابند ھے کہ وہ قوم سے خطاب کرکے قوم سے پہلے اجازت طلب کرے کیونکہ اس بوجھ کی ادائیگی پوری قوم کو کرنی ھے بنا بتائے اپنی خودساختہ کمپنیاں بناکر لوٹنے گھسوٹنے کا اختیار کسی طور ان سب کو حاصل نہیں ھے اس عمل سے ہر دور کا حکمران اور انکی پارٹی مجرم ثابت ہورہی ہیں۔ ان کی جعل ساز کمپنیوں کی تفصیلات کچھ اس طرح سے ہیں۔ سنہ دو ہزار چوون یعنی اگلے تیس سال تک کرائے کے بجلی گھروں کے معاہدے ختم ہوں گے۔ ۞ بلیو اسٹار انرجی پرائیویٹ لمیٹڈ کو آٹھ اگست سنہ دو ہزار آٹھ کو لائسنس جاری کیا گیا اور اس کمپنی کے ساتھ تیس اکتوبر سنہ دو ہزار چونتیس تک کا معاہدہ کیا گیا ہے۔ ۞ فرنٹیئر میگا اسٹرکچر اینڈ پاور پرائیویٹ لمیٹڈ کو ستائیس جولائی دو ہزار بارہ کو لائسنس جاری کیا گیا اور اس کمپنی کے ساتھ تیس اکتوبر سنہ دو ہزار چوالیس تک کا معاہدہ کیا گیا ہے۔ ۞ کے اے پاور لمیٹڈ کو بارہ جون سنہ دو ہزار تیئس کو لائسنس جاری کیا گیا اور اس کمپنی کے ساتھ تیس جولائی دو ہزار انسٹھ تک کا معاہدہ کیا گیا ہے۔ ۞ کریمی انرجی پرائیویٹ لمیٹڈ کو آٹھ جنوری دو ہزار چودہ کو لائسنس جاری کیا گیا اور اس کمپنی کے ساتھ تیس جون دو ہزار ستنتالیس تک کا معاہدہ کیا گیا ہے۔ ۞ کے او اے کے پاور لمیٹڈ کو بارہ جون دو ہزار تیئس کو لائسنس جاری کیا گیا اور اس کمپنی کے ساتھ تیس جولائی دو ہزار انسٹھ تک کا معاہدہ کیا گیا ہے۔ ۞ پختونخوا انرجی ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن بالاکوٹ ہائیڈرو پاور پلانٹ کو بائیس نومبر دو ہزار بائیس کو لائسنس جاری کیا گیا اور اس کمپنی کے ساتھ تیس نومبر دو ہزار ستاون تک کا معاہدہ کیا گیا ہے۔ ۞ پختونخوا انرجی ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن گورکن ماٹلٹن ہائیڈل پاور پلانٹ کو پندرہ ستمبر دو ہزار بائیس کو لائسنس جاری کیا گیا اور اس کمپنی کے ساتھ تیس جولائی دو ہزار تریپن تک کا معاہدہ کیا گیا ہے۔ ۞ پختونخوا انرجی ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن کرورا ہائیڈل پاور پلانٹ کو چوبیس اکتوبر دو ہزار اٹھارہ کو لائسنس جاری کیا گیا اور اس کمپنی کے ساتھ تیس نومبر دو ہزار اننچاس تک کا معاہدہ کیا گیا ہے۔ ۞ پختونخوا انرجی ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن دارالخوار ہائیڈرو پاور پلانٹ کو انیس مئی دو ہزار سترہ کو لائسنس جاری کیا گیا اور اس کمپنی کے ساتھ تیس جون دو ہزار سینتالیس تک کا معاہدہ کیا گیا ہے۔ ۞ پختونخوا انرجی ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن جبوری ہائیڈرو پاور پلانٹ کو انتیس اپریل دو ہزار بیس کو لائسنس جاری کیا گیا اور اس کمپنی کے ساتھ انتیس جون دو ہزار پچاس تک کا معاہدہ کیا گیا ہے۔ ۞ پختونخوا انرجی ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن کوٹو ہائیڈرو پاور پلانٹ کو سولہ اکتوبر سنہ دو ہزار بیس کو لائسنس جاری کیا گیا اور اس کمپنی کے ساتھ تیس دسمبر سنہ دو ہزار پچاس تک کا معاہدہ کیا گیا ہے۔ ۞ پختونخوا انرجی ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن لاوی ہائیڈرو پاور پلانٹ کو نو فروری سنہ دو ہزار اکیس کو لائسنس جاری کیا گیا اور اس کمپنی کے ساتھ اکتیس اکتوبر سنہ دو ہزار اکیاون تک کا معاہدہ کیا گیا ہے۔ ۞ پختونخوا ہائیڈل ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن ماچھی ہائیڈرو پاور پلانٹ کو ستائیس نومبر سنہ دو ہزار تیرا کو لائسنس جاری کیا گیا اور اس کمپنی کے ساتھ انتیس اپریل سنہ دو ہزار چوالیس تک کا معاہدہ کیا گیا ہے۔ ۞ سرحد ہائیڈل ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن پیہور ہائیڈرو پاور پلانٹ کو چھبیس نومبر سنہ دو ہزار نو کو لائسنس جاری کیا گیا اور اس کمپنی کے ساتھ پچیس نومبر سنہ دو ہزار انتالیس تک کا معاہدہ کیا گیا ہے۔ ۞ پختونخوا ہائیڈل ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن رانولیا ہائیڈرو پاور پلانٹ کو ستائیس نومبر سنہ دو ہزار تیرہ کو لائسنس جاری کیا گیا اور اس کمپنی کے ساتھ تیس جون سنہ دو ہزار چوبیس تک کا معاہدہ کیا گیا ہے۔ ۞ پختونخوا ہائیڈل ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن ریشن ہائیڈرو پاور پلانٹ کو چار ستمبر سنہ دو ہزار تیرہ کو لائسنس جاری کیا گیا اور اس کمپنی کے ساتھ تین ستمبر سنہ دو ہزار انتیس تک کا معاہدہ کیا گیا ہے۔ ۞ پختونخوا ہائیڈل ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن شیشی ہائیڈرو پاور پلانٹ کو چار ستمبر سنہ دو ہزار تیرہ کو لائسنس جاری کیا گیا اور اس کمپنی کے ساتھ تین ستمبر سنہ دو ہزار انتالیس تک کا معاہدہ کیا گیا ہے۔ ۞ سیفکو ہائیڈرو پاور پلانٹ کو انتیس اپریل سنہ دو ہزار بیس کو لائسنس جاری کیا گیا اور اس کمپنی کے ساتھ انتیس مارچ سنہ دو ہزار چوون تک کا معاہدہ کیا گیا ہے۔ ۞ سفائیر ہائیڈرو لمیٹڈ کو پچیس اگست سنہ دو ہزار اکیس کو لائسنس جاری کیا گیا اور اس کمپنی کے ساتھ اکتیس دسمبر سنہ دو ہزار چوون تک کا معاہدہ کیا گیا ہے۔ ۞ ہائیڈرو پاور پلانٹ کو تیئس اگست سنہ دو ہزار تیرہ کو لائسنس جاری کیا گیا اور اس کمپنی کے ساتھ تیس مارچ سنہ دو ہزار سینتالیس تک کا معاہدہ کیا گیا ہے۔ ۞ ڈیوس انرجن پرائیویٹ لمیٹڈ کو چھبیس فروری سنہ دو ہزار دس کو لائسنس جاری کیا گیا اور اس کمپنی کے ساتھ انتیس جون سنہ دو ہزار چالیس تک کا معاہدہ کیا گیا ہے۔ ۞ فوجی کبیر والا پاور کمپنی لمیٹڈ کو چھبیس اگست سنہ دو ہزار تین کو لائسنس جاری کیا گیا اور اس کمپنی کے ساتھ پچیس اگست سنہ دو ہزار انتیس تک کا معاہدہ کیا گیا ہے۔ ۞ گل احمد انرجی لمیٹڈ کو چھبیس اگست سنہ دو ہزار تین کو لائسنس جاری کیا گیا اور اس کمپنی کے ساتھ پچیس اگست سنہ دو ہزار انتیس تک کا معاہدہ کیا گیا ہے۔ ۞ حبیب اللہ کوسٹل پاور کمپنی پرائیویٹ لمیٹڈ کو چھبیس اگست سنہ دو ہزار تیئس کو لائسنس جاری کیا گیا اور اس کمپنی کے ساتھ دس ستمبر سنہ دو ہزار انتیس تک کا معاہدہ کیا گیا ہے۔ جاپان پاور جنریشن لمیٹڈ کو گیارہ مئی سنہ دو ہزار چار کو لائسنس جاری کیا گیا اور اس کمپنی کے ساتھ انتیس جون سنہ دو ہزار تینتیس تک کا معاہدہ کیا گیا ہے۔ ۞ کوہ نور انرجی لمیٹڈ کو چھبیس اگست سنہ دو ہزار تین کو لائسنس جاری کیا گیا اور اس کمپنی کے ساتھ پچیس اگست سنہ دو ہزار ستائیس تک کا معاہدہ کیا گیا ہے۔ ۞ ٹی این بی لبرٹی پاور لمیٹڈ کو چھبیس اگست سنہ دو ہزار تین کو لائسنس جاری کیا گیا اور اس کمپنی کے ساتھ پچیس اگست سنہ دو ہزار چھبیس تک کا معاہدہ کیا گیا ہے۔ ۞ روش پاکستان پاور لمیٹڈ کو اٹھائیس اگست سنہ دو ہزار چھ کو لائسنس جاری کیا گیا اور اس کمپنی کے ساتھ پچیس اگست سنہ دو ہزار انتیس تک کا معاہدہ کیا گیا ہے۔ ۞ صبا پاور کمپنی پرائیویٹ لمیٹڈ کو چھبیس اگست سنہ دو ہزار تین کو لائسنس جاری کیا گیا اور اس کمپنی کے ساتھ پچیس اگست سنہ دو ہزار انتیس تک کا معاہدہ کیا گیا ہے۔ ۞ سدرن الیکٹرک پاور کمپنی لمیٹڈ کو گیارہ مئی سنہ دو ہزار چار کو لائسنس جاری کیا گیا اور اس کمپنی کے ساتھ دس مئی سنہ دو ہزار تینتیس تک کا معاہدہ کیا گیا ہے۔ ۞ ٹپال انرجی پرائیویٹ لمیٹڈ کو نو مارچ سنہ دو ہزار بیس کو لائسنس جاری کیا گیا اور اس کمپنی کے ساتھ انیس جون سنہ دو ہزار انتیس تک کا معاہدہ کیا گیا ہے۔ ۞ اوچ پاور پرائیویٹ لمیٹڈ کو آٹھ جون سنہ دو ہزار بائیس کو لائسنس جاری کیا گیا اور اس کمپنی کے ساتھ سترہ اکتوبر سنہ دو ہزار تیس تک کا معاہدہ کیا گیا ہے۔ ۞ اے ای ایس لال پیر پرائیویٹ لمیٹڈ کو چھبیس اگست سنہ دو ہزار تین کو لائسنس جاری کیا گیا اور اس کمپنی کے ساتھ پچیس اگست سنہ دو ہزار ستائیس تک کا معاہدہ کیا گیا ہے۔ ۞ اے ای ایس پاک جنریشن پرائیویٹ کمپنی کو چھبیس اگست سنہ دو ہزار تین کو لائسنس جاری کیا گیا اور اس کمپنی کے ساتھ پچیس اگست سنہ دو ہزار چھبیس تک کا معاہدہ کیا گیا ہے۔ ۞ الٹرن انرجی لمیٹڈ کو بائیس ستمبر سنہ دو ہزار چار کو لائسنس جاری کیا گیا اور اس کمپنی کے ساتھ پانچ جون سنہ دو ہزار اکتیس تک کا معاہدہ کیا گیا ہے۔ ۞
الکا پاور پرائیویٹ لمیٹڈ حافظ آباد کو تیرہ اکتوبر سنہ دو ہزار دس کو لائسنس جاری کیا گیا اور اس کمپنی کے ساتھ تیس جولائی سنہ دو ہزار بیالیس تک کا معاہدہ کیا گیا ہے۔ ۞ الکا پاور پرائیویٹ لمیٹڈ ساہیوال کو دس مارچ سنہ دو ہزار گیارہ کو لائسنس جاری کیا گیا اور اس کمپنی کے ساتھ تیس دسمبر سنہ دو ہزار بیالیس تک کا معاہدہ کیا گیا ہے۔ ۞ بلیو اسٹار انرجی پرائیویٹ لمیٹڈ کو تیرہ فروری سنہ دو ہزار اٹھارہ کو لائسنس جاری کیا گیا اور اس کمپنی کے ساتھ تیس جون سنہ دو ہزار پچاس تک کا معاہدہ کیا گیا ہے۔ ۞ چناب انرجی پرائیویٹ لمیٹڈ کو چودہ اکتوبر سنہ دو ہزار بیس کو لائسنس جاری کیا گیا اور اس کمپنی کے ساتھ تیس دسمبر سنہ دو ہزار بیالیس تک کا معاہدہ کیا گیا ہے۔ ۞ گوگیرا ہائیڈرو پاور کمپنی پرائیویٹ لمیٹڈ کو اکتیس جولائی سنہ دو ہزار سترہ کو لائسنس جاری کیا گیا اور اس کمپنی کے ساتھ تیس دسمبر سنہ دو ہزار پچاس تک کا معاہدہ کیا گیا ہے۔ ۞ لاہور زنگزانگ رینیوایبل انرجی کمپنی پرائیویٹ لمیٹڈ کو نو اگست سنہ دو ہزار تیرہ کو لائسنس جاری کیا گیا اور اس کمپنی کے ساتھ تیس جنوری سنہ دو ہزار سینتالیس تک کا معاہدہ کیا گیا ہے۔ ۞ منڈی بہاؤالدین انرجی لمیٹڈ کو تیئس اگست سنہ دو ہزار سترہ کو لائسنس جاری کیا گیا اور اس کمپنی کے ساتھ انتیس مئی سنہ دو ہزار اکیاون تک کا معاہدہ کیا گیا ہے۔ ۞ مہر ہائیڈرو پاور پرائیویٹ لمیٹڈ کو ستائیس نومبر سنہ دو ہزار سترہ کو لائسنس جاری کیا گیا اور اس کمپنی کے ساتھ تیس جون سنہ دو ہزار پچاس تک کا معاہدہ کیا گیا ہے۔ ۞ منتہیٰ پاور پرائیویٹ لمیٹڈ کو اٹھارہ مارچ سنہ دو ہزار چودہ کو لائسنس جاری کیا گیا اور اس کمپنی کے ساتھ اکتیس دسمبر سنہ دو ہزار چھیالیس تک کا معاہدہ کیا گیا ہے۔ ۞ اولمپس انرجی پرائیویٹ لمیٹڈ کو چھبیس جنوری سنہ دو ہزار دس کو لائسنس جاری کیا گیا اور اس کمپنی کے ساتھ تیس جون سنہ دو ہزار چوالیس تک کا معاہدہ کیا گیا ہے۔ ۞ اولمپیا ہائیڈرو پاور لمیٹڈ کو چھ اگست سنہ دو ہزار دس کو لائسنس جاری کیا گیا اور اس کمپنی کے ساتھ تیس جولائی سنہ دو ہزار تیرالیس تک کا معاہدہ کیا گیا ہے۔ ۞ پنجاب پاور ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ کو تیس جون سنہ دو ہزار پندرہ کو لائسنس جاری کیا گیا اور اس کمپنی کے ساتھ ستائیس فروری سنہ دو ہزار چھیالیس تک کا معاہدہ کیا گیا ہے۔ ۞ پنجاب پاور ڈویلپمنٹ کمپنی کو ستائیس جون سنہ دو ہزار چودہ کو لائسنس جاری کیا گیا اور اس کمپنی کے ساتھ تیرہ نومبر سنہ دو ہزار چوالیس تک کا معاہدہ کیا گیا ہے۔ ۞ پنجاب پاور ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ کو ستائیس جون سنہ دو ہزار چودہ کو لائسنس جاری کیا گیا اور اس کمپنی کے ساتھ سنہ دو ہزار انتیس اکتوبر سنہ دو ہزار چوالیس تک کا معاہدہ کیا گیا ہے۔ ۞ پنجاب ہائیڈرو پاور پرائیویٹ لمیٹڈ کو چھ اگست سنہ دو ہزار دس کو لائسنس جاری کیا گیا اور اس کمپنی کے ساتھ چودہ مارچ سنہ دو ہزار تینتالیس تک کا معاہدہ کیا گیا ہے۔ ۞ رسول ہائیڈرو پاور پرائیویٹ لمیٹڈ کو چھ اگست سنہ دو ہزار دس کو لائسنس جاری کیا گیا اور اس کمپنی کے ساتھ چوبیس فروری سنہ دو ہزار تینتالیس تک کا معاہدہ کیا گیا ہے۔ ۞ ٹرائیڈینٹ پاور جی آر پرائیویٹ لمیٹڈ کو چھ ستمبر سنہ دو ہزار سترہ کو لائسنس جاری کیا گیا اور اس کمپنی کے ساتھ سنہ دو ہزار چودہ فروری سنہ دو ہزار پچاس تک کا معاہدہ کیا گیا ہے۔ ۞ ٹرائیڈینٹ پاور جے بی پرائیویٹ لمیٹڈ کو پانچ جنوری سنہ دو ہزار سترہ کو لائسنس جاری کیا گیا اور اس کمپنی کے ساتھ سنہ دو ہزار چودہ نومبر سنہ دو ہزار اڑتالیس تک کا معاہدہ کیا گیا ہے۔ ۞
انرٹیک کوئٹہ سولر پرائیویٹ لمیٹڈ کو تیس اگست سنہ دو ہزار انیس کو لائسنس جاری کیا گیا اور اس کمپنی کے ساتھ انتیس جون سنہ دو ہزار پینتالیس تک کا معاہدہ کیا گیا ہے۔ ۞ انرٹیک بوستان سولر پرائیویٹ لمیٹڈ کو سترہ جنوری سنہ دو ہزار بیس کو لائسنس جاری کیا گیا اور اس کمپنی کے ساتھ انتیس جون سنہ دو ہزار پینتالیس تک کا معاہدہ کیا گیا ہے۔ ۞ پی اینڈ جی انرجی پرائیویٹ لمیٹڈ کو سترہ جنوری سنہ دو ہزار بیس کو لائسنس جاری کیا گیا اور اس کمپنی کے ساتھ انتیس ستمبر سنہ دو ہزار چھیالیس تک کا معاہدہ کیا گیا ہے۔ ۞ چچ پاک پاور پرائیویٹ لمیٹڈ کو تیرہ نومبر سنہ دو ہزار انیس کو لائسنس جاری کیا گیا اور اس کمپنی کے ساتھ تیس دسمبر سنہ دو ہزار باون تک کا معاہدہ کیا گیا ہے۔ ۞ چائنہ پاور حب جنریشن کمپنی پرائیویٹ لمیٹڈ کو آٹھ ستمبر سنہ دو ہزار سولہ کو لائسنس جاری کیا گیا اور اس کمپنی کے ساتھ سات اگست سنہ دو ہزار تینتالیس تک کا معاہدہ کیا گیا ہے۔ ۞ نیشنل پاور پارکس مینجمنٹ کمپنی پرائیویٹ لمیٹڈ کو انتیس ستمبر سنہ دو ہزار سولہ کو لائسنس جاری کیا گیا اور اس کمپنی کے ساتھ اٹھائیس جنوری سنہ دو ہزار اڑتالیس تک کا معاہدہ کیا گیا ہے۔ ۞ نیشنل پاور پارکس مینجمنٹ کمپنی پرائیویٹ لمیٹڈ کو انتیس ستمبر سنہ دو ہزار سولہ کو لائسنس جاری کیا گیا اور اس کمپنی کے ساتھ آٹھ جنوری سنہ دو ہزار ڑتالیس تک کا معاہدہ کیا گیا ہے۔ ۞ پنجاب تھرمل پاور پرائیویٹ لمیٹڈ کو پندرہ فروری سنہ دو ہزار اٹھارہ کو لائسنس جاری کیا گیا اور اس کمپنی کے ساتھ تیس مارچ سنہ دو ہزار پچاس تک کا معاہدہ کیا گیا ہے۔ ۞ صدیق سنز انرجی لمیٹڈ کو آٹھ اگست سنہ دو ہزار اٹھارہ کو لائسنس جاری کیا گیا اور اس کمپنی کے ساتھ اکتیس مئی سنہ دو ہزار اکیاون تک کا معاہدہ کیا گیا ہے۔ ۞ تھل نووا پاور تھر پرائیویٹ لمیٹڈ کو یکم فروری سنہ دو ہزار سترہ کو لائسنس جاری کیا گیا اور اس کمپنی کے ساتھ تیس دسمبر سنہ دو ہزار اننچاس تک کا معاہدہ کیا گیا ہے۔ ۞ تھر انرجی لمیٹڈ کو سات جون سنہ دو ہزار سترہ کو لائسنس جاری کیا گیا اور اس کمپنی کے ساتھ اٹھائیس فروری سنہ دو ہزار پچاس تک کا معاہدہ کیا گیا ہے۔ ۞ قائداعظم تھرمل پاور پرائیویٹ لمیٹڈ کو دو جون سنہ دو ہزار سولہ کو لائسنس جاری کیا گیا اور اس کمپنی کے ساتھ تیس دسمبر سنہ دو ہزار سینتالیس تک کا معاہدہ کیا گیا ہے۔ ۞ ازغور ہائیڈرو پاور کمپنی پرائیویٹ لمیٹڈ کو اکتیس دسمبر سنہ دو ہزار بیس کو لائسنس جاری کیا گیا اور اس کمپنی کے ساتھ اکتیس دسمبر سنہ دو ہزار چوون تک کا معاہدہ کیا گیا ہے۔۔۔۔۔ معزز قارئین!! آئی پی پیز کے معاہدوں کی تاریخ سال اور کمپنیوں کی تفصیلات آپ کے علم میں اس لئے لایا تاکہ ہر پاکستانی اصل حقائق سے واقف ھوسکے اور جان لے کہ ان گزشتہ بیس سالوں میں کن کن کی حکومتیں تھیں اور یہ کمپنیاں کن کن کی ہیں یقیناً اب آپ کے سامنے دودھ کا دودھ پانی کا پانی واضع پیش کردیا گیا ھے۔ آئین و دستور کے مطابق پاکستانی کی سیاسی جماعتیں اور حکمران شق و آریٹکل 61 سے 63 کے علاوہ دیگر شقوں اور آرٹیکلز میں آنے سے کالعدم ہونے کیساتھ ساتھ غداری کے جرم میں آتی ہیں۔ میں یہاں اپنی قوم کو بیدار اور اجاگر کرنا چاہتا ہوں کہ اس سب کی بیگاڑ ہمارا جمہوری نظام ھے جوکہ مکمل اسلام مخالف ھے اس ملک و ریاست کی بقاء صرف اور صرف نظام مصطفیٰ ﷺ میں ہی ھے۔ پاکستان کو کھوکھللا انہیں مردود سیاستدانوں، حکمرانوں اور بے دینی شخصیات نے بیرونی خداؤں کی اطاعت کرتے ہوئے آج یہ حال کردیا ھے۔ یاد رکھیں اے میری قوم اپنے گلشن میں جب دشمن آگ لگادے تو اسے خود ہی بجھانا ہوتا ھے کسی کے آسرے یا امید سے آگ بجھ تو نہیں بجھتی البتہ آگ مزید ضرور بڑھتی ھے۔ اللہ سے صدق دل سے توبہ کریں اور من حیث القوم اپنا قبلہ درست کریں یقیناً ایمان والوں کیساتھ اللہ کی قدرت رہتی ھے اور اللہ انہیں آزمائش کے بعد اپنی نعمتوں سے نہال کردیتا ھے۔ لیکن جو قوم سرکش ضدی جذباتی بے راہ روی شیطانی ابلیسی دجالی اور مخالف سمت دین محمدی ﷺ پر چلنے سے باز نہیں آتی انپر ایسے ہی حکمران عائد کردیئے جاتے ہیں جو انہیں دنیا کا ہر دکھ تکلیف اذیت دینے سے نہیں رکتے۔ یہ دور دجالی ھے خود کو اپنے گجر والوں کو اپنے محلہ اور معاشرے کو اس کے فتنہ سے ہوشیار رکھیں مکمل مکمل دین محمدی ﷺ کی پیروی کریں پھر انشاءاللہ اللہ ھم سب کا حامی و ناظر رھے گا آمین




