اہم خبریںپنجاب

اینٹی نارکوٹکس فورس اکیڈمی نے اینٹی منی لانڈرنگ اور کاؤنٹر فنانسنگ ٹیررازم پر 3 روزہ ورکشاپ

اینٹی نارکوٹکس فورس اکیڈمی نے اینٹی منی لانڈرنگ اور کاؤنٹر فنانسنگ ٹیررازم پر 3 روزہ ورکشاپ / سیمینار کا اہتمام کیا. اے این ایف اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں سے 53 انویسٹیگیشن افسران اور پبلک پراسیکیوٹرز نے ورکشاپ / سیمینار میں شرکت کی.

چیف انسٹرکٹر اینٹی نارکوٹکس فورس اکیڈمی صاحب خان نے شرکاء کو خوش آمدید کہا اور ورکشاپ کی اہمیت کے بارے انہیں آگاہ کیا۔

انسداد منی لانڈرنگ اور انسداد فنانسنگ آف ٹیررازم پر متعلقہ سٹیک ہولڈرز کے ماہرین جن میں فنانشل مانیٹرنگ یونٹ (ایف ایم یو)، اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی)، قومی احتساب بیورو (نیب)، فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے)، ایف اے ٹی ایف سیکرٹریٹ اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) اسلام آباد سے مہمان مقررین کو مدعو کیا گیا تھا۔ کمانڈنٹ اینٹی نارکوٹکس فورس اکیڈمی بریگیڈیئر غازی کمال کیانی نے ورکشاپ/سیمینار کے آخری روز اختتامی تقریب میں خصوصی شرکت کی۔

کمانڈنٹ اے این ایف اکیڈمی نے منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت سے متعلق اے این ایف اکیڈمی کی جانب سے مختلف اسٹیک ہولڈرز کو متعلقہ امور پر تربیت کا پلیٹ فارم فراہم کرنے کی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے ایف اے ٹی ایف کے تقاضے پورے کرنے کے لئے پالیسی، طریقہ کار اور آپریشنل سطح پر پاکستان کی کاوشوں کو بھی اجاگر کیا۔ انہوں نے اے این ایف کی اہمیت کو "قومی مربوط نقطہ نظر” میں ایک اہم کڑی کے طور پر منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کیخلاف مختلف قومی فورمز کا کلیدی رکن ہونے کی حیثیت سے اجاگر کیا۔ چونکہ یہ کام ملٹی سیکٹر کی کوشش ہے، اے این ایف ایک وقف شدہ فوکل پرسن پر مشتمل ڈیسک کے ذریعے معلومات کی شراکت، تعاون اور ڈیٹا کی فراہمی کے لئے تمام اسٹیک ہولڈرز یعنی ایم او آئی، نیکٹا، ایف اے ٹی ایف سیکریٹریٹ، ایف ایم یو، پولیس، ایف آئی اے، نیب، سی ٹی ڈی اور ایف بی آر کے ساتھ فعال طور پر مصروف عمل ہے۔

اینٹی نارکوٹکس فورس اکیڈمی (اے این ایف اے) صلاحیت کی تعمیر کے لئے قومی سطح پر خصوصی کورسز اور ورکشاپس کے انعقاد میں سب سے آگے رہنے کی کوشش کرتی ہے کیونکہ اس کے نتیجے میں، منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے خلاف قومی کوششوں میں خدمات فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے تفتیشی افسران اور پراسیکیوٹرز کی مسلسل صلاحیت کی تعمیر کی ضرورت پر زور دیا، ان کا کہنا تھا کہ اثاثوں کی تحقیقات بشمول مالیاتی انٹیلی جنس کے ساتھ بہتر طور پر ڈیل کیا جائے تاکہ اثاثوں کی تحقیقات اور منی لانڈرنگ کے مقدمات کے فعال تعاقب کو عمل میں لایا جاسکے۔

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You