کالم/مضامین

عنوان : حماس حملہ کے اسباب اور پس منظر ۔۔۔ !!

ٹائٹل: بیدار ھونے تک

عنوان : حماس حملہ کے اسباب اور پس منظر ۔۔۔ !!

کالمکار: جاوید صدیقی

دنیا میں پیدا ھونے والی جنگوں کے اسباب اور پس منظر لازمی ھوتے ہیں جو وقت کے گزرنے کے بعد تاریخ کا حصہ بن جاتے ھیں، تاریخ شاہد ھے کہ یہودی و عیسٰی اور ہندو زائینسٹوں نے ہمیشہ امن و سکون، پیار محبت، ترقی و تمدنی، اخلاق و کردار کو تباہ و برباد کرنے میں ہمیشہ اپنا منفی کردار ادا کئے رکھا۔ انیس ویں صدی کے آخیر اور بیس ویں صدی کے اوائل میں ان تینوں نے دنیا کی معیشت، مالیت اور صنعت کو منجمد کرنے، بیروزگاری بڑھانے اور انسانیت کا نا حق خون بہانے میں جو اپنا منفی کردار جاری رکھا اس کے نتیجہ میں مظلوم نہتے اور کمزوروں میں دفاعی عمل بھی پیدا ھوگیا۔ جو انکے ظلم کی حقیقی تصویریں فلسطین اور کشمیر کی شکل میں ھیں۔ یہ تینوں زائینسٹ قوتیں شیطانی و دجالی پیروکار ھونے کی وجہ سے ظالم و بر بریت اور وحشی پن میں شیطان کو پیچھے چھوڑ آئیں ہیں ان کا علاج صرف اور صرف دین محمدی ﷺ میں ھے وہ ھے "جہاد”۔ ان تینوں زائینسٹوں نے نام نہاد مسلم رہنماؤں کے ایمان کو خرید کر ہمیشہ سے اسلامی ریاستوں اور دین محمدی ﷺ کو ضرب پہنچایا لیکن اللہ نے ہر دور میں سپہ سالار سلطان صلاح الدین ایوبی ؒ، سپہ سالار سلطان محمود غزنوی ؒ، سپہ سالار طارق بن زیاد ؒ، سپہ سالار حیدر علی ؒ، سپہ سالار ٹیپو سلطان ؒ، سپہ سالار محمد بن قاسم ؒ، سپہ سالار سلطان نورالدین زنگی ؒ، سپہ سالار سلطان ارتطغل ؒ، سپہ سالار سلطان عبدالحمید ؒ، اور دیگر مسلم سپہ سالاروں سلطانوں حاکموں جیسے سے ان شرانگیزی پھیلانے والے کفار و مشرکین زائینسٹوں کو واصل جہنم کیا اور انشاءاللہ یہ سلسلہ جاری رہیگا کیونکہ یہ اسلامی گروہ اور مجاہدین جانتے ھیں کہ قرآن میں واضع طور پر اللہ نے سختی سے متنبہ کردیا کہ یہ کفار و مشرکین ہرگز ہرگز تمہارے دوست نہیں ھوسکتے اب جو بھی اسلامی ریاست کا سپہ سالار حکمران اور وزراء ان سے دوستی کی امید اور ان سے وفاء کا دم بھرے گا وہ ریاست حکومت عوام اور دین محمدی ﷺ کا غدار اور بے وفا ھوگا، اب ان تمام باتوں کو ذہن میں رکھئے تو آپ جان سکیں گے کہ اسلامی ریاستوں کی تباہ و بربادی ان حکمرانوں بادشاہوں اور جمہوریت پسندوں کی ذاتی نفسانی خواہشات کے سبب رونما ھوئی ھیں۔ معزز قارئین اب میں رخ کرتا ھوں اپنے کالم کے عنوان کی جانب حماس حملہ کے اسباب اور پس منظر کے بارے میں آپ کو بتاتا چلوں کہ غزہ نامی جیل کے تیئس لاکھ قیدیوں نے بالآخر فیصلہ کن معرکے کا فیصلہ کرتے ہوئے اسرائیل کو اسی کی زبان میں جواب دینے کی غرض سے طوفان الاقصیٰ نامی آپریشن کا آغاز کردیا ہے۔ اسرائیل پہ تین اطراف سے کھلے حملے کے ساتھ ساتھ پانچ ہزار راکٹ بھی فائر کئے گئے، جس کے نتیجے میں لگ بھگ سات سو اسرائیلی ہلاک جبکہ دو ہزار کے قریب زخمی ہیں۔ اسرائیل کی جانب سے جوابی حملوں میں ہونے والے نقصانات کا گراف بھی کافی بلند ہے۔ اس وقت غزہ کے اطراف میں دو بدو جنگ جاری یے۔ حماس کے عسکری ونگ الاقصیٰ بریگیڈ نے مقبوضہ علاقوں میں کسی حد تک پیش قدمی بھی کی ہے اور کچھ صہیونی فوجیوں کو یرغمال بھی بنائے رکھا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بیٹھے بٹھائے اچانک حماس کو کیا ہوگیا کہ اس نے اسرائیل سے کھلی جنگ چھیڑ دی ہے؟
فلسطین کی سرزمین پر اسرائیلی قبضے کے بعد سے اب تک فلسطین کے بچے کھچے حصے کے دفاع کیلئے بہت سے گروہ میدان میں ہیں۔ حماس سے قبل سابق فلسطینی صدر یاسر عرفات کی سنہ انیس سو چھپن میں قائم کردہ الفتح نمایاں جماعت تھی۔ الفتح مقبوضہ علاقوں پہ اسرائیل کا حق تسلیم کرتی تھی۔ مجموعی طور پر اس کی پالیسی فلسطینیوں کے امنگوں کی آئینہ دار نہ تھی، جس کی وجہ سے فلسطینی عوام میں بےچینی پائی جاتی تھی۔ اسی بےچینی کا نتیجہ تھا کہ نامور فلسطینی مزاحمتی رہنما شیخ احمد یاسین نے سنہ انیس سو ستاسی میں *”حرکۃ المقاومۃ الاسلامی”* نامی تنظیم کی بنیاد رکھی، جسے زبانِ عام میں *”حماس”* کہا جاتا ہے۔ حماس ہر اعتبار سے فلسطینیوں میں ایک مقبول جماعت ہے۔ اسے دنیا کی منظم ترین مزاحمتی جماعت کہا جائے تو بےجا نہ ہوگا۔ اس تنظیم کا اپنا تعلیمی، فلاحی، سیاسی اور عسکری نظام ہے۔ سنہ دو ہزار چھ کے انتخابات میں فلسطینی عوام نے حماس کو بھاری اکثریت سے کامیاب کرایا مگر حریفوں کی جانب سے اسے اقتدار سے محروم رکھنے کی کوششیں کی گئیں۔ وہ بیرونی طاقتیں جو صبح و شام جمہوریت کا راگ الاپتے نہیں تھکتیں وہ سب بھی اس منصوبے کا حصہ تھیں۔ جب نرم گفتاری اور شیریں لہجے سے مسئلہ حل نہ ہوسکا تو سنہ دو ہزار سات میں حماس نے بزورِ بازو غزہ سے الفتح کو بے دخل کرکے وہاں کا کنٹرول حاصل کرلیا۔ غزہ پر حماس کے قبضے سے الفتح کو تو دھچکا لگا ہی مگر اسرائیل کے مفادات پہ بھی کاری ضرب پڑی۔ جواب میں صہیونی غاصب ریاست نے غزہ کی فضائی، سمندری اور زمینی کڑی ناکہ بندی کرکے اسے جیل میں تبدیل کردیا۔ گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں تو نام نہیں مگر بلاشبہ تیئس لاکھ سے زائد آبادی والے شہر غزہ کو تاریخ کی سب سے بڑی جیل قرار دیا جاسکتا ہے. اس جیل کے قریب پھٹکنے کی کسی میں ہمت نہیں ہے۔ احباب کو ترکی کی جانب سے غزہ بھیجے جانے والے بحری جہاز *”فریڈم فلوٹیلا”* کا حشر تو یاد ہوگا۔ غزہ کے ایک طرف میں سمندر، دو اطراف میں اسرائیل کا قبضہ کردہ خشکی کا حصہ ہے، جبکہ تیسرا خشک حصہ مصر کی سرحد سے ملحق ہے۔ اس جیل کا سب سے المناک پہلو یہ ہے کہ جو حصہ مصر سے لگتا ہے، اس سے بھی فلسطینیوں کو آمد و رفت اور درآمد و برآمد کی اجازت نہیں ہے۔ مصر کی سابقہ اخوانی حکومت کا ایک قصور یہ بھی تھا کہ اس نے فلسطینیوں کیلئے رفاہ کراسنگ یعنی اپنا بارڈر کھول دیا تھا۔ جنرل سیسی کی حکومت لائی ہی اس لئے گئی تھی تا کہ وہ اسرائیلی مفادات کا تحفظ کرسکے چنانچہ اب جب جنرل سیسی چاہتا ہے، بارڈر کھلتا ہے، جب چاہتا ہے، بند ہوجاتا ہے۔ اب بات کرتے ہیں اس سوال کے جواب کی طرف کہ حماس نے اچانک سے اتنی بڑی جنگ کیوں چھیڑ دی؟ جنگی حالات و واقعات سے اندازہ ہوگیا ہوگا کہ حماس اور اہلِ غزہ پہ سخت ترین ناکہ بندی کی صورت میں اسرائیل کا ظلم سنہ دو ہزار سات سے جاری ہے۔ اسی وجہ سے غزہ کی ساٹھ فی صد آبادی بے روزگار ہے اور وہاں غربت عروج پہ یے۔ اس کے علاوہ اسرائیل جب چاہتا ہے فضائی حملے کرتا ہے اور جب چاہتا ہے ڈرونز کے ذریعے فضائی ٹارگٹ کلنگ کرتا ہے۔ حماس کا آج کا حملہ عمل نہیں، بلکہ ان تمام بد معاشوں کا انتہائی مجبوری کے عالم میں دیا جانے والا ردِ عمل ہے۔ دوسری بڑی اور اہم ترین وجہ یہ ہے کہ پہلے فلسطینیوں کو دیگر عرب ممالک سے بہت امیدیں اور توقعات وابستہ تھیں۔ اب جب سے عربوں کو اسرائیل پہ پیار آیا ہے اور وہ دھڑا دھڑ اس سے سفارتی تعلقات استوار کرتے ہوئے اس کے قبضے کو جواز فراہم کرنا شروع ہوئے ہیں تب سے فلسطینیوں کی رہی سہی امیدیں بھی دم توڑتی چلی جارہی ہیں۔
اب انہیں لگتا ہے کہ جو اژدھا انہیں سنہ اڑتالیس سے لقمہ لقمہ نگلتا چلا جارہا تھا، اپنوں کی بے وفائیوں کی وجہ سے وہ اس قابل ہوچکا ہے کہ انہیں یکایک ہڑپ کر لے۔ اس لئے اب مارو یا مرجاؤ کا نعرہ لگاتے ہوئے فیصلہ کن ٹاکرا ناگزیر ہوچکا ہے۔ مجھ سمیت ہر مسلم حماس کی اس جنگ کو انتہائی ناامیدی میں کی جانے والی آخری اور حتمی کوشش کے طور پر دیکھ رھا ھے۔ شائد آج نہیں تو کل یہ ٹمٹماتا چراغ بجھ جائیگا مگر اسے سلامِ عقیدت پیش کرنا میں اپنا فرض سمجھتا ہوں۔ میں خود کو ہمیشہ ان صفوں میں پاتا ہوں جن صفوں میں با غیرت اور با حمیت فلسطینی اور انکے طرفدار کھڑے ہیں۔ سانحۂ فلسطین سانحۂ اندلس سے بڑا سانحہ ہے۔ چاروں طرف اپنے ہیں مگر پھر بھی یہ مظلوم اکیلے ہیں۔ اہلِ فلسطین! لگ بھگ ستاون اٹھاون مسلمان ممالک کی بے حمیتی کی وجہ سے چھٹانک بھر اسرائیل تم کو مٹانے پہ تلا ہے اور شائد وقتی اور لمحاتی طور پر وہ اپنے مذموم ارادوں میں کامیاب بھی ہوجائے مگر مخبر صادق صلی اللہ علیہ و سلم نے تمہاری حتمی فتح اور یہود کی فیصلہ کن شکست، ذلت و ہزیمت کی بشارت چودہ سو سال پہلے دے رکھی ہے۔ ہمیں چڑھتے سورج کی مانند یقین ہے کہ آخری، حمتی اور فیصلہ کن معرکے میں تمہی فتح یاب اور غالب رہو گے۔ ہم بہت دور ہونے کے باوجود تمہارے ساتھ ہیں، ہم دوش ہیں، ہم قدم ہیں اور ہم نفس ہیں۔ یا اللہ پوری دنیا میں جہاں کہیں بھی مسلمان تیرے بابرکت نام کی بلندی کیلئے کوشش کر رہے ان کو غالب اور کفر کو مغلوب فرما، آمین یا رب العالمین ۔۔۔۔ معزز قارئین!! عالم اسلام میں پاکستان واحد ملک ھے جو ایٹمی طاقت کا حامل ھے پاکستان کا بیانیہ مسلم امہ کیساتھ ساتھ عالم دنیا کے تمام غیر مسلم ممالک میں اہمیت کا حامل ھے، ھمارے سیاسی و مذہبی رہنماؤں، نوکر شاہی طبقہ اور عدالتوں نے کفار و مشرکین کی غلامی اور وفاداری میں اس قدر دم بھرا کہ آج انکے پلاننگ اور ایجنڈے کی تکمیل میں کوئی کسر نہ چھوڑی اور ملک و قوم کو مفلوج اور تباہ وبرباد کرکے رکھ دیا۔ ممکن ھے اس میں ہمارے چند ایک سپہ سالاروں کی غلط پالیسی اور غلط اقدامات بھی شامل ھوں بحرحال اب من حیث القوم اور سپہ سالاروں کو ڈوبتی ریاست کو نہ صرف بچانا ھے بلکہ مجرموں کیساتھ بے رحم سزا کا عمل فی الفور ادا کرنا ھوگا تاکہ دنیا کی یہ تینوں زائینسٹ ممالک امریکہ اسرائیل اور بھارت آگے کچھ شرانگیزی کرنے سے پہلے سو بار سوچیں۔ پاکستان کی دنیا کی بدلتی تبدیلی میں اپنا آزادانہ موثر کردار ادا کرنا چاہئے امریکہ کی غلامی کے بجائے برابری کی سطح پر بات کرنی چاہئے سابقہ و موجودہ سیاسی قیادت تمام کی تمام فارغ ھے انکے تانے بانے ملک دشمنوں سے ملتے ھیں نئی قیادت نیا عزم ایمان کیساتھ والوں کو آگے لانا چاہئے اس ریاست اور اسلام کی بقاء و سلامتی کیلئے بصورت ھم مٹ جائیں گے ھماری داستان بھی نہ رہے گی داستانوں میں۔۔۔ اللہ پاکستان اور عالم اسلام کا حامی و ناظر رھے آمین یا رب اللعالمین۔۔۔۔۔۔!!

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You