اہم خبریںکرائمز

راولپنڈی : ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج راولپنڈی محمد افضل مجوکہ نے توہین مذہب

راولپنڈی : ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج راولپنڈی محمد افضل مجوکہ نے توہین مذہب کے مقدمہ میں نامزدسینئر صحافی کی ضمانت قبل ازگرفتاری 50ہزار روپے کی شورٹی کے عوض منظور کرلی ہے اور فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے19ستمبر کو مقدمہ کا ریکارڈ طلب کر لیا ہے عدالت نے پولیس کو گرفتاری سے روکتے ہوئے درخواست گزار کو ہدائیت کی ہے کہ پولیس کے طلب کرنے پر شامل تفتیش ہو اور ضمانت کنفرم ہونے تک ہر تاریخ پر اصالتا عدالت میں پیش ہو گزشتہ روز سماعت کے موقع پرپاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ کے صدر افضل بٹ، نیشنل پریس کلب کی سینئر جوائنٹ سیکریٹری شکیلہ جلیل،راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹ کے صدر عباد عباسی، سیکریٹری طارق ورک راولپنڈی ہائی کورٹ رپورٹرز ایسوسی ایشن کے نائب صدر بابر ملک، ینگ جرنلسٹ ایسوسی ایشن کے صدر یوسف خان سمیت جڑواں شہروں کی مختلف صحافتی تنظیموں کے عہدیداروں اور صحافیوں کی بڑی تعداد موجود تھی اس موقع پر درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ پریونشن آف الیکٹرانک کرائم ایکٹ 2016 کے تحت بھی یہ کیس تب بنتا ہے جب کسی سے کوئی جھوٹا مواد منسوب کیا جائے لیکن کسی کی کہی ہوئی کسی بات کو شیئر کرنا کرائم نہیں ہے جس پر عدالت نے استفسار کیا کہ جس نے الفاظ کہے کیا اس کے خلاف بھی کوئی کاروائی ہوئی جس پر وکیل نے بتایا کہ اس کے خلاف کوئی کاروائی نہیں ہوئی جس پر عدالت نے قرار دیا کہ جب کہنے والے کے خلاف کوئی کاروائی نہیں ہوئی تو صرف درخواست گزار کے خلاف کیوں کاروائی کی گئی عدالت نے ابتدائی سماعت کے بعد 19ستمبر تک عبوری ضمانت منظور کرتے ہوئے مقدمہ کا ریکارڈ طلب کر لیا ہے نیشنل پریس کلب کے سابق سیکریٹری فنانس اورراولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹ کے سابق صدروقار مسعود ستی نے اپنے وکیل قاضی حفیظ الرحمان کے ذریعے دائر درخواست میں موقف اختیار کیا کہ درخواست گزار کو بے بنیاد الزامات کے تحت مقدمہ میں نامزد کیا گیا ہے حالانکہ درخواست گزار نے ایسے کسی فعل کا ارتکاب نہیں کیا اور درخواست گزار مکمل بے گناہ ہے درخواست گزار کے خلاف درج مقدمہ تعزیرات پاکستان کی سیکشن 196کی خلاف ورزی ہے مقدمہ کے اندراج سے قبل وفاقی یا صوبائی حکومت سے منظوری نہ لینا مقدمہ کا ادراک نہ ہونے کے مترادف ہے جبکہ مقامی پولیس نے بھی پریونشن آف الیکٹرانک کرائم ایکٹ 2016کی خلاف ورزی کی ہے جس سے پولیس اور مقدمہ کے مدعی کی بدنیتی عیاں ہوتی ہے درخواست گزار مکمل بے گناہ ہے اور مقدمہ میں عائد الزامات بے بنیاد ہیں اگر مقدمہ کے مدعی کے مذہبی جذبات مجروح ہوئے ہیں تو اسے یہ الزامات درخواست گزار کی بجائے اپنے لیدر سے منسوب کرنے چاہئیں درخواست میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹ کا سابق صدر اور نیشنل پریس کلب کا سابق سیکریٹری فنانس رہ چکا ہے جو ایسے فعل کا تصور بھی نہیں کر سکتا اس طرح پولیس اس بے بنیاد مقدمہ میں درخواست گزار کو گرفتار کرنا چاہتی ہے درخواست گزار کو سیاسی انتقام کے طور پر مقدمہ میں نامزد کیا گیا ہے جبکہ پراسیکیوشن کے پاس درخواست گزار کے خلاف اس مقدمہ میں کوئی ٹھوس شواہد بھی موجود نہ ہیں درخواست گزارایک قابل عزت اور قانون پسند شہری ہے جو آج تک کسی بھی کیس میں ملوث یا نامزد نہیں رہا درخواست میں استدعا کی گئی درخواست گزار کی ضمانت قبل از گرفتاری منظور کی جائے تھانہ آر اے بازار پولیس نے 27اگست کوکیبل آپریٹرناصر محمود کی مدعیت میں تعزیرات پاکستان کی دفعہ295-Aاور500کے تحت مقدمہ نمبر 566درج کیا تھا دریں اثنا ضمانت منظور ہونے کے بعد احاطہ عدالت میں گفتگو کرتے ہوئے پی ایف یو جے کے صدر افضل بٹ نے کہا کہ وقار ستی کو سیاسی انتقام کے طورایک بے بنیاد لیکن سنگین مقدمہ میں نامزد کیا گیا مقدمہ کے اندراج میں مروجہ قوانین پر بھی عملدرآمد نہیں کیا گیااس والے سے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کے عدالتی احکامات ریکارڈ کا حصہ ہیں جن کے مطابق کسی بھی صحافی کے خلاف کسی شکائیت پر قانونی ضابطے مکمل کئے بغیر کوئی کاروائی نہ کی جائے مقدمہ کا مقصد صرف صحافت پر قدغن لگانا اور میڈیا کی آواز کو دبانا ہے حالانکہ وقار ستی سے جو باتیں منسوب کی گئی ہیں وہ تمام عمران خان عوامی اجتماعات میں کہہ چکے ہیں انہوں نے کہا کہ وقار ستی کو بے بنیاد مقدمہ مٰن نامزد کیا گیا اگر یہ مقدمہ کروانا مقصود بھی تھاتو یہ پولیس کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا اس میں سائبر کرائم ایکٹ کے تحت درخواست ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ کو دی جانی چاہئے تھی لیکن تحریک انصاف کو یہ علم تھا کہ اگر معاملہ سائبر کرائم کے پاس گیا تو مقدمہ کے اندراج سے قبل اس کی مکمل تحقیقات ہوں گی اور اصل ملزم سامنے آجائے گا۔

رپورٹ : افتخار خٹک سے

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You