کالم/مضامین

عنوان: آرمی چیف کی تعیناتی کا طریقہ کار۔۔۔!!

ٹائٹل: بیدار ھونے تک

عنوان: آرمی چیف کی تعیناتی کا طریقہ کار۔۔۔!!

کالمکار: جاوید صدیقی

آئین پاکستان کے آرٹیکل 243 کے سیکشن 3 کے مطابق صدر، وزیر اعظم کی سفارش پر سروسز چیفس کا تقرر کرتا ہے۔‎ عام طور پر جی ایچ کیو چار سے پانچ سب سے سینیئر لیفٹیننٹ جنرلز کے ناموں کی فہرست اور ان کی تفصیلات وزارت دفاع کو بھیجتا ہے، جس کے بعد یہ فہرست وزیر اعظم کی میز پر پہنچتی ہے جو صدر سے مشاورت کے بعد اس عہدے پر تعیناتی کرتے ہیں۔ اس معاملے پر مزید غور و خوض کیلئے اگر وزیر اعظم چاہیں تو کابینہ کے سامنے بھی یہ معاملہ زیرِ بحث لایا جاسکتا ہے اور وزیر اعظم سبکدوش ہونے والے آرمی چیف کے ساتھ غیر رسمی مشاورت کر سکتے ہیں۔ فوج میں یہ قانون تو نہیں تاہم روایت ضرور ہے کہ فور اسٹار جنرل یعنی آرمی چیف یا چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کے عہدے پر ترقی پانے والے افسران بطور لیفٹننٹ جنرل کمانڈ اور اسٹاف دونوں فرائض سر انجام دیتے ہیں۔ پاکستانی فوج میں اب تک صرف ایک افسر ایسے ہیں جو کور کی کمان کئے بغیر فور اسٹار کے رینک تک پہنچے۔ یہ اس وقت ہوا تھا جب سابق فوجی صدر جنرل محمد ضیاء الحق نے جنرل خالد محمود عارف ( کے ایم عارف ) کو وائس چیف آف آرمی اسٹاف کے عہدے پر ترقی دی تھی۔ خیال رہے کہ ایک لیفٹننٹ جنرل کے عہدے کی مدت چار سال ہے جس میں سے عام طور پر دو سال پرنسپل اسٹاف ڈیوٹی جبکہ دو سال کسی بھی کور کی کمان میں صرف کئے جاتے ہیں۔ آرمی ایکٹ کے مطابق کسی بھی افسر کی لانگ کورس میں سینیارٹی ملٹری اکیڈمی کاکول سے پاسنگ آؤٹ کے موقع پر ملنے والے نمبر ، جسے پاک آرمی یا پی اے نمبر کہا جاتا ہے، کی بنیاد پر طے کی جاتی ہے۔ سروس کی عمر یا اس رینک کیلئے مختص مدت میں سے جو پہلے آئے، اسی کے مطابق ریٹائرمنٹ ہو جاتی ہے۔ مثلا موجودہ آرمی چیف اگرچہ اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ ایک ہی دن پاس آوٹ ہوئے تاہم آرمی چیف بننے سے قبل وہ اپنے کورس میں سینیارٹی میں چھٹے نمبر پر تھے جس کی وجہ ان کا پی اے نمبر تھا۔ اسی طرح موجودہ سینیئر ترین لانگ کورس کے لیفٹیننٹ جنرل سید عدنان اپنے رینک کی مدت پوری ہونے پر اکتوبر 2022 میں ریٹائر ہوں گے اور یوں وہ فور اسٹار جنرل کی دوڑ میں بھی شامل نہیں ہوں گے۔
*|فوج کا 76 واں لانگ کورس|*
نومبر 2022 میں اگر وزیر اعظم شہباز شریف سینیارٹی کو مدنظر رکھتے ہوئے آرمی چیف کا انتخاب کرتے ہیں تو موجودہ فوجی سربراہ کی ریٹائرمنٹ کے وقت 76 ویں لانگ کورس کے افسران فوج میں سب سے سینیئر ہیں۔ اس لانگ کورس میں اعزازی شمشیر حاصل کرنے والے افسر لیفٹیننٹ جنرل سید عدنان کا ذکر ہم پہلے کر چکے، ان کی طرح لیفٹیننٹ جنرل وسیم اشرف بھی آرمی چیف قمر جاوید باجوہ کی ریٹائرمنٹ سے صرف آٹھ دن پہلے ریٹائر ہوجائیں گے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کے بڑے بھائی لیفٹیننٹ جنرل نعیم اشرف تھے اور اگر جنرل قمر جاوید باجوہ کو ایکسٹینشن نہ ملتی تو وہ اس وقت آرمی چیف کیلئے تین سینئر ترین افسران میں سے ایک تھے۔
*لیفٹینٹ جنرل عاصم منیر*
لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر کا تعلق او ٹی ایس کے اس کورس سے ہے جو 75 ویں لانگ کورس سے جونیئر اور 76 ویں لانگ کورس سے سینیئر ہے۔ اُن کی ترقی موجود کور کمانڈر لاہور، منگلا، ڈی جی ایس پی ڈی اور آئی جی ٹی اینڈ ای کے ساتھ اکتوبر 2018 میں ہوئی تھی۔ تاہم انھوں نے رینک تقریباً ڈیڑھ مہینے کی تاخیر سے لگایا جس کی وجہ سے ان کی ریٹائرمنٹ کی تاریخ اپنے جونیئرز کے بھی بعد ہے۔ موجود آرمی چیف کی ریٹائرمنٹ کی تاریخ سے دو روز پہلے ہی ان کی ریٹائرمنٹ ہوجائے گی۔ اس کی بنیاد وہی قواعد و ضوابط ہیں جن کا ذکر پہلے ہو چکا یعنی مدت ملازمت یا رینک کیلئے متعین مدت میں سے جو پہلے آجائے، اسی تاریخ پر افسر کی سروس ختم ہو جاتی ہے۔
اس لئے ان کی چار سالہ مدت ملازمت 27 نومبر کو یعنی موجود آرمی چیف کی ریٹائرمنٹ سے صرف دو دن پہلے پوری ہوگی اور وہ اس دوڑ میں اسی صورت میں شامل ہوسکتے ہیں کہ انھیں دو دن کی ایکسٹینشن مل جائے۔ لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر پاکستان ملٹری اکیڈمی کے فارغ التحصیل نہیں بلکہ انھوں نے آفیسرز ٹریننگ اسکول سے فوج کی فرنٹیئر فورس رجمنٹ میں کمیشن حاصل کیا تھا۔ ممکنہ طور پر لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کے عہدے کیلئے منتخب ہونے کے اہل ہوسکتے ہیں۔ کیونکہ اُن کی ریٹائرمنٹ کے دن جنرل عاصم حاضر سروس ہوں گے۔ آرمی چیف کے عہدے کیلئے انھیں دو دن کی توسیع یا موجودہ آرمی چیف کی دو روز قبل ریٹائرمنٹ کرنا ہوگی۔ لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر کے بعد اس کورس میں اب سب سے پہلا نام لیفٹننٹ جنرل ساحر شمشاد مرزا کا ہے جبکہ لیفٹیننٹ جنرل چراغ حیدر چھٹے نمبر پر ہیں۔
*لیفٹننٹ جنرل ساحر شمشاد مرزا*
سندھ رجمنٹ سے تعلق رکھنے والے ساحر شمشاد مرزا اس وقت ٹین کور، جسے راولپنڈی کور بھی کہا جاتا ہے، کمان کر رہے ہیں۔ خیال رہے کہ اس سے قبل خود آرمی چیف قمر جاوید باجوہ نے بھی یہی کور کمان کی تھی۔ یہ علاقے کے لحاظ سے فوج کی سب سے بڑی کور ہے جو کشمیر اور سیاچن جیسے علاقوں کی نگرانی کرتی ہے۔ اس سے پہلے وہ فوج کے اہم ترین عہدوں میں سے ایک یعنی بطور چیف آف جنرل اسٹاف تعینات رہے۔ وہ اپنے کیریئر میں تین بار یعنی بطور لیفٹیننٹ کرنل، بریگیڈیئر اور پھر بطور میجر جنرل ملٹری آپریشنز یعنی ایم او ڈائریکٹوریٹ میں تعینات رہے۔ وہ وائس چیف آف جنرل اسٹاف رہے جو ملٹری آپریشنز اور ملٹری انٹیلی جنس کی نگرانی کرتا ہے۔ جس کے بعد وہ چیف آف جنرل اسٹاف بنے۔ بطور میجر جنرل انھوں نے ڈیرہ اسماعیل خان کی ڈویژن کی کمانڈ کی جو اس وقت جنوبی وزیرستان میں ہونے والے آپریشنز کی نگرانی کر رہی تھی۔
*لیفٹیننٹ جنرل اظہر عباس*
بلوچ رجمنٹ سے تعلق رکھنے والے اظہر عباس سینیارٹی میں دوسرے نمبر پر ہیں۔ وہ اس وقت فوج کے اہم ترین عہدوں میں سے ایک یعنی چیف آف جنرل اسٹاف کے طور پر تعینات ہیں۔ اس سے قبل انھوں نے بطور کور کمانڈر ٹین کور کمان کی ہے۔ ان دو عہدوں کی حد تک جنرل اظہر عباس اور ساحر شمشاد مرزا کی پروفائل ملتی جلتی ہے۔ اظہر عباس بطور میجر جنرل کمانڈنٹ انفنٹری اسکول تعینات رہے جبکہ سابق فوجی سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کی طرح وہ مری کے جی او سی بھی رہے۔ جنرل (ر) راحیل شریف کے پی ایس سی یعنی پرنسپل سیکرٹری بھی رہے ہیں۔ بطور لیفٹیننٹ جنرل وہ ڈائریکٹر جنرل جوائنٹ اسٹاف رہے ہیں۔
*لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود*
اگرچہ نعمان محمود سینیارٹی میں تیسرے نمبر پر ہیں مگر ایک مضبوط کیریئر کے حامل ہیں۔ فوج میں انھیں خاص طور پر پاکستان کی مغربی سرحد کا ماہر مانا جاتا ہے۔ ان کے والد کرنل راجہ سلطان نے 1971 کی جنگ میں شامل تھے تاہم وہ مسنگ ان ایکشن افسر ہیں یعنی ان کے لاپتہ ہونے کے باعث ان کے زندہ ہونے یا نہ ہونے سے متعلق علم نہیں۔ بعد میں نعمان محمود نے اپنے والد کی یونٹ 22 بلوچ کی کمانڈ بھی کی۔ بلوچ رجمنٹ کے لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود اس وقت نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے پریذیڈنٹ ہیں۔ جبکہ اس سے قبل وہ پشاور کے کور کمانڈر تعینات رہے ہیں۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ عام طور پر دفتر میں نہیں پائے جاتے اور ان کا زیادہ وقت فارورڈ ایریاز میں گزرتا ہے۔ انھیں سابق فاٹا کی جنگ کا ماہر سمجھا جاتا ہے جس کی وجہ ان کی اسائنمنٹس ہیں۔ وہ بریگیڈئیر کے طور پر الیون کور میں ہی چیف آف اسٹاف رہے، بطور میجر جنرل انھوں نے شمالی وزیرستان میں ڈویژن کی کمان سنبھالی اور افغان سرحد کے ساتھ باڑ لگانے کے منصوبے کی نگرانی کی۔ خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی میں بھی تجزیاتی ونگ کے ڈائریکٹر جنرل رہے۔ جبکہ لیفٹیننٹ جنرل کے طور آئی جی سی اینڈ آئی ٹی رہے۔
*لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید*
پاکستانی فوج کی خفیہ ایجنسی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کا تعلق بلوچ رجمنٹ سے ہے۔ وہ اُس وقت جنرل قمر جاوید باجوہ کے چیف آف اسٹاف تھے جب جنرل باجوہ ٹین کور کمانڈ کر رہے تھے۔ بطور میجر جنرل انھوں نے پنوں عاقل کی ڈویژن کی کمانڈ کی۔ وہ آئی ایس آئی میں ہی ‘سی آئی’ یعنی کاؤنٹر انٹیلیجنس سیکشن کے ڈائریکٹر جنرل رہ چکے ہیں اور آئی ایس آئی کی سربراہی سے قبل کچھ ہفتوں کیلئے ایجوٹنٹ جنرل کے عہدے پر بھی فائز رہے تھے۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی ریٹائرمنٹ کے وقت وہ سینیارٹی میں چوتھے نمبر پر ہوں گے۔ اُن کے بارے میں فوج میں ایک یہ رائے پائی جاتی ہے کہ وہ اپنے کام کو تکمیل تک پہنچا کر دم لیتے ہیں۔
*لیفٹننٹ جنرل محمد عامر*
یہ اس فہرست میں غالبا خاموش ترین طبیعت کے افسر کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ آرٹلری سے تعلق رکھتے ہیں اور سابق صدر آصف علی زرداری کے ملٹری سیکرٹری بھی رہے ہیں۔ وہ سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے ڈائریکٹر جنرل اسٹاف ڈیوٹیز تھے اور آرمی چیف سیکرٹریٹ کے امور کی نگراتی کرتے تھے۔ بطور میجر جنرل انھوں نے لاہور ڈویژن کمانڈ کی۔ اس وقت اس وقت وہ گجرانوالہ کور کی کمان کر رہے ہیں۔ اس سے قبل وہ جی ایچ کیو میں ایجوٹنٹ جنرل تھے.
*لیفٹننٹ جنرل چراغ حیدر*
لیفٹینٹ جنرل چراغ حیدر کا تعلق فرنٹئیر فورس رجمنٹ سے ہے۔ وہ پاکستان ملٹری اکیڈمی کے فارغ التحصیل نہیں ہیں بلکہ انھوں نے آفیسر ٹریننگ اسکول سے فوج میں کمیشن حاصل کیا تھا۔ بطور بریگیڈیئر وہ ملٹری انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ میں تعینات رہے۔ انڈیا کی جانب سے ستمبر 2019 میں لائن آف کنٹرول کے پاس سرجیکل اسٹرائیک کے وقت وہ جہلم کا ڈویژن کمانڈ کر رہے تھے۔ لیفٹیننٹ جنرل چراغ حیدر ڈائریکٹر جنرل ملٹری ٹریننگ رہے جبکہ ڈی جی جوائنٹ اسٹاف کے عہدے پر بھی تعینات رہے ہیں۔ اس وقت وہ کور کمانڈر ملتان ہیں۔

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You