اہم خبریںکالم/مضامین

تھام لیں اُن ہاتھوں کو،، ڈور سانسوں کی ٹوٹنے سے پہلے

( ایک نظم ۔ ۔ ۔ ملک میں سیلابی صورتحال سے متاثرہ افراد کے نام )

***

ہاتھوں کی کپکپاہٹ

قدموں کی لڑ کھڑاہٹ،

گھٹتی سانسیں،، بے پناہ گھبراہٹ

ڈگمگا گیا ہے وجود ہی سارا

ہو چکی ہے غائب،

تھی جو چہرے پر مسکراہٹ

عجب قیامت ٹوٹی ہے

اُن کچے گھر کے مکینوں پر

نہ آٹا، شکر نہ دال، مٹر

ہیں بھوک سے کئی شکم خالی

تھے جو کل تک برسرِروزگار،

وہ آج بن گئے ہیں سوالی

معصوم چہرے بچوں کے

ہیں نگاہوں کے سامنے،

مادر، پدر کی بے بسی

ہے نوحہ کناں ہواؤں میں،

لب خاموش ہیں، کوئی مدد مانگنے کو

مگر دلوں کی افسردگی،

بھانپ لی ہے فضاؤں نے

تبھی تو بے رنگ ہیں آج سارے نظارے

زوروں پر حدّتِ آفتاب

چاند کی مدھم روشنی،

بے نور ہیں ستارے

بوجھ ِ زیست نہ سہار سکیں گے

بہت دنوں تک وہ بے گھر، شکم بھوکے

پھر ٹوٹے کی ڈور سانسوں کی ایسے،

جھڑ جاتے ہیں شجر سے جیسے

خزاں میں پتّے سوُکھے!

چلو بنتے ہیں ہم سہارا اُنکا

جو رہ گئے ہیں تنہا، اکیلے

اور تھام لیتے ہیں اُن ہاتھوں کو

ڈور سانسوں کی ٹوٹنے سے پہلے

****
کاشف شمیم صدیقی

سیلاب
کاشف شمیم صدیقی
عطیات

(ہاتھوں کو تھام لیجئے۔ ۔ ۔ دل کھول کر عطیات دیجئے)

کاشف شمیم صدیقی

سیلاب
کاشف شمیم صدیقی
عطیات

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You