عنوان: حالیہ مطالعہ پاکستان

ٹائٹل: بیدار ھونے تک
عنوان: حالیہ مطالعہ پاکستان ۔۔۔۔!!
کالمکار: جاوید صدیقی
اللہ کی قدرت کا نظام ھے کہ جیسے انسان اپنی سوچ و افکار اور عمل کا رائرہ رکھنا چاہتا ھے اسے ویسے ہی دوست احباب میسر کردیتا ھے۔ ھم صحافیوں میں بھی کچھ ایسا ہی معاملہ پایا جاتا ھے کچھ ایسے صحافی ھوتے ہیں جو حق و سچ بولنے لکھنے اور کہنے میں ذرا سی بھی نہ تو ہچکچاہٹ گھبراہٹ خوف محسوس کرتے ہیں اور نہ ہی اپنے نقصان و تکلیف و مشکلات کی پرواہ کرتے ہیں ایسے صحافی صاحبِ اقتدار ھو یا امراء و اشرفیہ ان سب کے سامنے حقائق ثبوت کیساتھ کھول دیتے ہیں اور انہں متنبہ بھی کرتے ہیں کہ آپ کے عمل سے ملک و قوم کو شدید نقصان پہنچ سکتا ھے اور کچھ ایسے بھی ھوتے ہیں جو ضمیر کو اثاثہ سمجھتے ہیں اور بولیوں پر بولیاں بڑھاتے ہیں وہ اکثر انگریزی میں اسے ایجنٹ کہتے ہیں اور دیسی زبان میں دلال کہتے ہیں وہ طریقہ کار اپنا کر خود کو بڑا با عزت سمجھتے ہیں۔ جس مزاج کے صحافی اپنے فرائضِ منصبی ادا کرتے ہیں انکے معاونین دوست و احباب بھی انہی کے مطابق خبریں پہنچاتے ہیں مجھے بھی میرے دوست و معاونین نے ایک تحریر شیئر کی ھے جسے پڑھے کے بعد کالم لکھنے پر مجبور ھوگیا ھوں کیونکہ یہ ھماری ریاست اور قوم کے مفادات میں تحریر ھے ۔۔۔۔۔ معزز قارئین!! تحریر کچھ اس طرح سے ھے کہ ریاست پاکستان ایشیا کے جنوب میں واقع ھے۔ اسکا کل رقبہ جتنا بھی ھے سب کے سب پر ہاؤسنگ سوسائٹیاں بن رہی ہیں۔ ریاست کا پوار نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ھے مگر اسلام اور جمہوریت یہ دونوں سے ہی محروم ھے. ریاست کے جھنڈے میں دو رنگ ہیں۔ ایک سبز رنگ مولویوں کی اکثریت کو تو دوسرا سفید رنگ اسٹیبلشمنٹ کی اجارہ داری کو ظاہر کرتا ھے۔ ریاست چار باقاعدہ اور ایک بے قاعدہ صوبوں پر مشتمل ھے. ریاستِ پاکستان چودہ اگست سنہ انیس سو سینتالیس میں انگریزوں سے آزاد ہوئی مگر انگریزوں کے غلاموں سے تا حال آزاد نہیں ہوسکی اور ان سے آزادی کیلئے کوئی بھی کوشش ابھی تک کامیاب نہیں ہوئی ھے۔ ہر حکومت نے ریاستی عوام کو روٹی، کپڑا اور مکان کی بنیادی ضروریات کا اسیر بنا کر رکھا ہوا ھے ریاست پاکستان درحقیقت کئی سو ریاستوں کا ایک مجموعہ ھے۔ جہاں ہر ریاست کے اپنے اپنے قوانین، قاعدے اور ضابطے موجود ہیں چاہے وہ اٹھارہ ویں ترامیم کی مرہونِ منت ہی کیوں نہ ہوں۔ اگر ایک ریاست دوسری ریاست کے معاملے میں ٹانگ اڑائے تو ٹانگ توڑ دی جاتی ھے جیسا کہ ایک ریاست "ریاستِ سند” بھی ھے۔ اسپر پاکستان پیپلز پارٹی کا کئی سالوں سے قبضہ ھے ایسی ہی ایک ریاست کا نام “لبیک” ھے۔ ایسے اور بھی بہت سے مولوی ہیں جنہوں نے اپنی اپنی الگ ریاستیں بنا رکھی ہیں۔ اگر ریاستِ پاکستان کبھی انکے معاملات میں مداخلت کی کوشش بھی کرے تو یہ مدارس کے سپاہی لے کر سڑکوں پہ نکل آتے ہیں اور ریاستِ پاکستان کا سانس بند کردیتے ہیں. دلچسپ اور مزے کی بات یہ ھے کہ ریاستِ پاکستان ایٹمی طاقت بھی ھے۔ ریاست کے اندر تمام ادارے بھی الگ ریاستوں کی حیثیت رکھتے ہیں کہ کوئی بھی ادارہ ریاستِ پاکستان کے کنڑول میں نہیں اور دور دور تک اسکے کوئی امکانات بھی نہیں ہیں. ریاستِ پاکستان کا سب سے بڑا شعبہ زراعت ھے مگر گندم باہر سے امپورٹ کی جاتی ھے. دفاع اس قدر مضبوط ھے کہ چھ گنا بڑے ملک انڈیا کو دن میں تارے دکھا سکتا ھے اور کمزور اتنا ھے کہ چار مولوی کہیں نکل آئیں تو قابو نہیں آتے ریاست کے تاجر عوام کو جی بھر کر لوٹتے ہیں مگر ریاست کو ٹیکس دیتے ہوئے انہیں باقاعدہ موت آتی ھے.ریاست کی سب سے بڑی صنعت کرپشن ھے جس میں دن دگنی اور رات چوگنی ترقی ہورہی ہے. دوسرے نمبر پر مذہب اور تیسرے نمبر پہ سیاست ہے۔ تعلیم، صحت اور انصاف بھی بڑے کاروباروں میں شمار کیئے جتے ہیں۔ ریاست کا آئین "جسکی لاٹھی اسکی بھینس” کہلاتا ھے اور دستور کے مطابق یہاں جنگل کا قانون نافذ ھے. ریاست کا معاشی ڈھانچہ ایسا ھے کہ امیر، امیر تر اور غریب غریب تر ہو رہا ہے. ریاستِ پاکستان کو چلانے والے سب لوگ اس ریاست سے اتنی محبت رکھتے ہیں کہ سب نے دوسرے ممالک کی شہریت حاصل کر رکھی ھے جیسے ہی اقتدار یا عہدے سے فارغ ہوتے ہیں فوراً اپنے اصلی ممالک کو روانہ ہوجاتے ہیں. ریاست میں رشوت لینا اور دینا لازم و ملزوم ھیں ورنہ آپکا معمولی سا کام بھی کبھی نہیں ہوگا۔ کوئی چور اچکا یا بڑا مجرم جتنی مرضی ملک کی مدر سسٹر کرے۔ کانوں پہ جوں تک نہیں رینگتی۔ ریاست میں شخصی حفاظت اور امن و امان صرف سیاسی رہنماؤں اور طاقتور شخصیات کو میسر ہیں۔ غریب آدمی صرف اللہ کے سہارے اورآسرے پہ زندہ ھے۔ ریاست بڑے مجرموں کو وی آئی پی یعنی شاہی پروٹوکول دیتی ھے اور چھوٹے مجرموں کو انکے جرم سے زیادہ سزا دے دیتی ہے۔ انصاف، صحت، تعلیم اور دیگر مراعات لوگوں کو انکی اوقات کے مطابق دی جاتی ہیں اگر آپ اس ریاستِ پاکستان کے شہری ہیں تو آپکی عظمت اور ہمت کو سلام کیوکہ آپ انتہائی قابل تعریف کے لائق ہیں۔ فکر نہ کریں ان دنیاوی تکالیف سے گزرنے کے بعد آپ کی آخرت بھلی ہوگی اور ممکن ھے جنت آپ کو ٹھہرا دی جائیگی۔۔۔۔۔ معزز قارئین!! مجھے خوشی ھوتی ھے کہ میرے قارئین کی بہت بڑی تعداد ایسی ھے جو صرف حق و سچ سننا دیکھنا چاہتی ھے اور وہ بھرپور ایمان یافتہ ہیں جو الله اور اس کے حبیب سے والہانہ سچی محبت رکھتے ہیں۔ مانا کہ موجودہ صورت حال یہی ھے مگر نہ میں مایوس ھوں اور نہ ہی میرے معزز قارئین مایوس ہیں البتہ افسوس اور دکھ و تکلیف سے ضرور گزرتے ہیں کہ اس خوبصورت حسین اور عظیم ریاست کا کیا حال کردیا ھے یقیناً یہ نظام اس قابل نہیں کہ اسے مزید قائم رکھا جاسکے اب ریاست کے مخلصین و امین کو جلد فیصلہ کرنا ھوگا کہ ملک کو بچائیں یا نام نہاد موذی جمہوریت کو قائم رکھیں بحیثیت ایک صحافی میں اپنے ملک و قوم کی بقاء و خوشحالی کیلئے ظلم و بربریت کے خلاف لکھتا رہوں گا اور ملکی تنزلی پر ذمہداروں کا احتسابی عمل اپنی تحریروں سے کرتا رہوں گا انشاءاللہ اور دعا ھے کہ الله اس قوم میں چھپے مافیائی ذہنوں اور منفی سوچ کے حامل افرادوں سے اس ملک اور ریاست کو پاک کردے آمین یا رب العالمین۔۔!!


