کالم/مضامین

عنوان: ہندو پنڈتوں کا تحقیق کے بعد اعتراف

ٹائٹل: بیدار ھونے تک

عنوان: ہندو پنڈتوں کا تحقیق کے بعد اعتراف ۔۔!!

*”وید“* ہندو دھرم کی سب سے مقدس کتاب ہے۔ وید چار ہیں۔ اس وقت دنیا میں ویدوں کا سب سے بڑا عالم پنڈت راجندر پرشاد شرما ہیں۔ وید پر انہیں بھارت میں اتھارٹی مانا جاتا ہے۔ پہلے وہ ادے پور یونیورسٹی کے سنسکرت کے ہیڈ آف ڈپارٹمنٹ تھے، اب انٹرنیشنل یونیورسٹی آف سنسکرت جے پور کے وائس چانسلر ہیں۔ پنڈت بڑے سادہ مزاج کے آدمی ہیں، بہت کم کھاتے، بہت کم سوتے، مسلسل منتھن یعنی مراقبہ کرتے اور دھیان میں وقت گزارتے یا پڑھتے رہتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کے پاس مخمل کا ایک تھیلا ہوتا ہے، جس میں ایک کتاب لپٹی رہتی ہے، وہ اس کتاب کو بہت آدر یعنی احترام سے رکھتے ہیں، ہمیشہ اونچی سے اونچی جگہ اسے رکھتے، اس کو پڑھتے تو پڑھنے سے پہلے اسے چومتے اور سر جھکاتے ہیں۔ پنڈت کے ایک خاص شاگرد ” امیش کمار “ نو مسلم کا کہنا ہے کہ میں نے ایک دن موقع پا کر ان سے معلوم کیا کہ پنڈت جی یہ کون سا گرنتھ ہے، جس کا آپ ویدوں سے بھی زیادہ آدر کرتے ہیں اور اتنے ادب سے اس کو پڑھتے ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ یہ قرآن شریف ہے۔ میں نے کہا آپ بھارت کے اتنے مہان ہندو دھارمک گرو ہو کر قرآن شریف کیوں پڑھتے رہتے ہیں؟ انہوں نے کہا بیٹا تم ستیہ کے سچے راہی ہو، اس لئے تم سے بالکل سچ کہتا ہوں، ویدوں نے بہت جگہ کہا ہے کہ قرآن شریف آجانے کے بعد اس انتم گرنتھ کو پڑھیں، یہ سناتن دھرم کا انتم اور پورنتم یعنی آخری اور مکمل گرنتھ ہے۔ یہ کہہ کر بہت ہی آہستہ سے انہوں نے قرآن شریف سر پر رکھ لیا۔ میں نے گرو جی سے کہا کہ گروجی! ہمارے دھرم گرو ہندوﺅں کو کیوں نہیں بتاتے، پھر تو سارا ہندو مسلم جھگڑا ہی ختم ہو جائے گا؟؟ وہ بولے میرے بیٹے اب دھرم کہاں رہا، دھرم کے چولے میں لوگ کاروبا کررہے ہیں، یہ ختم ہو جائے گا، مگر صحیح وہی ہے جو میں نے تمہیں بتایا، میں نے چاہا تھا کہ اس پر ایک کتاب لکھ دوں اور دیش میں ایک آواز لگاﺅں، مگر مجھے بہت سے لوگوں کی طرف سے جو بڑے بڑے مٹھوں کی گدیوں پر براجمان ہیں، دھمکیاں ملنے لگیں، بس میں نے بھی ہمت ہار دی۔ میں نے پوچھا گرو جی آپ قرآن شریف تک کس طرح پہنچے؟؟ انہوں نے بتایا کہ میں ادے پور یونیورسٹی میں کلاس لے کر کچھ اسٹوڈنٹس کے ساتھ گھر آرہا تھا، راستہ میں ایک مسلمان کے گھر سے قرآن شریف کی آواز آرہی تھی۔ میرا دل اور میری اننت آتما یعنی روح اس آواز کی طرف بہت کھنچی، میں نے اپنے ایک اسٹوڈنٹ سے کہا کہ دیکھو، گھر کے دروازے پر جاکر گھر والوں سے پوچھو کہ کون سا گاین گایا جارہا ہے، اس نے جا کر گھنٹی بجائی، گھر سے ایک چودہ سال کا بچہ نکلا، اس سے معلوم کیا کہ تمہارے گھر میں کون سا گاین گایا جارہا ہے، اس نے غصہ میں کہا گانا کیوں گایا جاتا؟ گانا بجانا تو ہمارے یہاں اسلام میں بڑا گناہ ہے، یہ تو قرآن شریف ٹیپ ریکارڈ میں ہے اور یہ حرم مکہ کے امام صاحب کی آواز میں ہے، اس نے آکر مجھے بتایا تو میں نے کہا کہ اگر یہ قرآن شریف ہے تو سچی ایشوریہ واڑی یعنی آسمانی وحی ہے، وہ بولے یہ آپ کیسے کہہ رہے ہیں؟ میں نے کہا کہ ویدوں کو سن کر اور پاٹھ کرکے جیسے دل سے گندگی اور پاپ کے بادل سے چھٹتے ہیں، اس سے سو گنا زیادہ صرف اِس کی آواز سے دل صاف ہوا جارہا ہے، اس کے بعد میں نے قرآن شریف تلاوت کرنا شروع کیا اور بہت سے مسلمانوں سے قرآن شریف مانگا، ایک سال کے بعد جے پور جا کر مجھے قرآن شریف کا ہندی انواد یعنی ترجمہ مل سکا۔۔۔ معزز قارئین!! سوانح و افکار عطاء اللّٰہ شاہ بخاری میں عطاء اللہ شاہ بخاری فرماتے ہیں کہ میں جیل میں تھا تو مجھے خیال آیا کہ قرآن مجید کا وہ ترجمہ پڑھنےکی سعادت حاصل کروں جو حضرت شاہ عبدالقادر ؒ نے لکھا ہے۔ میں نے قرآن مجید جیل میں منگوایا اور پڑھنا شروع کیا جب میں اللہ الصمد پر پہنچا تو اللہ الصمد کا جو معنی شاہ عبد القادر نے کیا تھا وہ میں نے اس سے پہلے نہ سنا نہ پڑھا تھا۔
حضرت نے اللہ الصمد کا معنی ”نراسترک“ لکھا ہوا تھا جو مجھے سمجھ نہ آیا میں بڑا بےچین ہوگیا پھر مجھے خیال آیا جیل میں ہندو پنڈت بھی قید ہے اس سے نراسترک کا معنی پوچھتا ہوں حضرت عطاءاللہ شاہ بخاری لکھتے ہیں میں اس پنڈت کے پاس گیا اس سے ساری بات کی اور کہا کہ نراسترک کے کیا معنی ہیں میرا پوچھنا تھا کہ پنڈت وجد میں آکر جھومنے لگا میں کافی پریشان ہوگیا کہ میں نے معنی پوچھا اسے دیکھو کیا ہوگیا کافی دیر کے بعد وہ اپنی کیفیت میں واپس آیا تو میں نے اسے کہا اللہ کے بندے میں نے تو نراسترک کا معنی پوچھا اور تو وجدمیں آگیا ایسا کیا ہے؟ پنڈت نے جواب دیا سن سکے گا میں نے جواب دیا ہاں کیوں نہیں
پنڈت بولا تو پھر سن ”نراسترک“ سنسکرت زبان کا لفظ ہے اس کے معنی ہیں۔
وہ جس کا کام کوئی روک نہیں سکتا اور اگر وہ ” نہ چاہے تو کسی کا کام ہو نہیں سکتا “اللہ الصمد“۔ شاہ صاحب فرماتے ہیں بس اس کے بعد مجھے کوئی ہوش نہ تھا پتہ نہیں کب تک میری یہ کیفیت رہی۔ قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌۚ (۱) اَللّٰهُ الصَّمَدُۚ (۲) لَمْ یَلِدْ وَ لَمْ یُوْلَدْۙ (۳) وَ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ كُفُوًا اَحَدٌ۠ (۴) ۔۔۔۔ معزز قارئین!! ہندوﺅں کے بڑے عالم اور پنڈتوں کا اعتراف بنفس تحقیق ہے کہ مسلمانوں کا دین ہی اصل دین ہے مگر وہ دنیاوی اور ابلیس کے ہاتھوں مجبور ہیں کہ ہندو دھرم پر رہیں۔ ان کا برملا اظہار اور اعتراف اس بات کی دلالت کرتا ہے کہ وہ حقیقی زندگی کو اسلام یعنی دینِ محمدی صلی اللہ علیہ وسلم میں دیکھتے ہیں۔
میرا ذاتی تجربہ اور مشاہدہ رہا ہے کہ کئی ہندو خود کو پریت و بلاد سے محفوظ رکھنے کیلئے آیت الکرسی کا تعویذ تو کچھ گلی کا ہار پہنتے دیکھائی دیئے میرے اصرار پر بتایا کہ اس قرآن پاک کی آیت کو پہنے سے دل و روح کو تسکین پہنچتی ہے یہی نہیں ایک نے یہ بھی بتایا تھا کہ جب ہمارے ہندو کی موت آتی ہے تو روح نہیں نکلتی تو ہمارے پنڈت اسے کلمہ پڑھنے کا کہتے ہیں جس سے اس کی روح نکل جاتی ہے۔۔۔۔ معزز قارئین!!
آج کے مسلمانوں کا حال تو یہ ہےکہ ہم انہی کے گانے سن کر دل و دماغ اور قلب و روح کو آلودہ کرتے رہتے ہیں۔ ہم مسلمان بلخصوص پاکستانیوں نے قرآن شریف کو بلند شیلف میں بند کرکے رکھ دیا ہے۔ آج ہمارے ان اعمالوں کے سبب ہم پر اللہ کی رحمت و برکت اٹھ گئی ہیں اور بے برکتی نے آگھیرا ہے۔ ہم نے صراط المستقیم کو چھوڑ دیا تو رب نے بھی ہمیں ہمارے حال پر چھوڑ دیا ایک جانب کفار و مشرکین ہمارے مذہب کی افادیت سے فوائد سمیٹ رہے ہیں تو دوسری جانب مسلمان غفلت گمراہی اور گھاٹے میں جارہے ہیں دعا ہے کہ اللہ امتِ مسلمہ کو ہوش کے ناخن عطا فرمائے آمین یا رب العالمین

کالم کار: جاوید صدیقی

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You