عنوان:ھم اور ھمارا معاشرہ

ٹائٹل: بیدار ھونے تک
عنوان:ھم اور ھمارا معاشرہ۔۔۔!!
آج میں اپنے معزز قارئین کی خدمت میں ایسا کالم تحریر کررہا ہوں جس کی شدت سے کمی محسوس کررہا تھا۔ وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ بحیثیت ایک مسلمان ایک پاکستانی ھم اور ھمارا معاشرہ کی جانب رواں دواں ہوچلا ھے اس راہ کو دیکھ کر کانپ گیا ہوں کیونکہ اس راہ میں ایک جانب ایمان تو دوسری جانب ادب و تہذیب کے زیاں ہونے کا خدشہ ہے۔ چلئے میں اپنی اس بات کو اس طرح سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں۔۔۔۔ معزز قارئین!! شہر کے بیچ میں جامع مسجد کے پاس عادل کا چائے کا ہوٹل ہے۔ اس نے ہوٹل کی دیوار پر ایل ای ڈی لگا رکھی ہے جس پر سارا دن لوگ فلمیں دیکھتے ہیں جس میں ہندی، چائنیز، انگریزی اور کبھی کبھار پاکستانی۔ رات دس بجے کے بعد والے شو بالغ افراد کیلئے ہوتے ہیں۔ عادل پانچ وقت کا نمازی بھی ہے۔ جیسے ہی آذان ہوتی ہے وہ دکان چھوٹے لڑکے کو سونپ کر مسجد کا رخ کرتا ہے۔ اس کا ماننا ہیکہ پنجگانہ نماز کی بدولت ہی اسکے کاروبار میں برکت ہے۔ یوں عادل کا سارا دن فلموں میں اور پانچ مرتبہ کچھ منٹ مسجد میں گزرتا ہے مگر تمام لوگوں کا ماننا ہیکہ عادل ایک نیک اور نمازی پرہیزی آدمی ہے۔مسجد کے امام کا نام مولانا۔۔ ہے۔ مولانا پچیس سال کے خوب رو باریش نوجوان ہیں حالیہ دنوں میں تازہ تازہ درس نظامی کرکے آئے ہیں اور مسجد میں بلا معاوضہ امامت و تدریس کی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ نماز پڑھانے اور بچوں کو درس دینے کے بعد مسجد سے ملحق ہجرے میں جا بیٹھتے ہیں اور کتابوں میں کھو جاتے ہیں۔ ایک روز عصر کی نماز کے بعد مولانا صاحب کا چائے پینےکا من ہوا تو مولانا صاحب کے دل میں خیال آیا کیوں نا آج اپنے عادل بھائی کے ہوٹل سے چائے پی جائے۔ مسجد کے صدر دروازے پر ہوٹل ہے۔ چنانچہ وہ ہجرے کی کواڑ لگا کر چپل پہنے ہوٹل میں داخل ہوئے۔ تمام فلم بین جو پیشاب روکے، آنکھیں پھاڑے فلم میں مست تھے، مولانا صاحب کو دیکھ کر یوں چونکے جیسے کوئی خلائی مخلوق ہوٹل میں داخل ہوگئی ہو۔ مولانا صاحب نے چائے کا کہا اور ٹی وی پر لگی فلم دیکھنے لگ گئے۔ تیسری آنکھ سے دیکھنے والے کو صاف معلوم پڑتا تھا کہ اس وقت ہوٹل میں مجرم فقط ایک ذات تھی یعنی”مولانا…۔صاحب”۔ چائے پینے اور پندرہ بیس منٹ فلم دیکھنے کے بعد مولانا صاحب ہجرے میں لوٹ آئے۔ نمازِ مغرب کی آذان دے کر مولانا صاحب مصلے امامت تک تشریف لائے تو مقتدیوں کے چہرے یوں بدلے ہوئے تھے جیسے کوفہ والوں کے مسلم بن عقیل کو دیکھ کر بدلے تھے۔ اطراف میں بات پھیل چکی تھی کہ مولانا صاحب فلمیں بہت دیکھتے ہیں اور انکے پیچھے نماز جائز نہیں۔مولانا صاحب کی چھٹی کروا دی گئی۔عشاء کے وقت جب مولانا صاحب اپنا سامان سمیٹے مسجد سے نکل رہے تھے تو عادل بھائی کے ہوٹل میں بیٹھے چاچا شریف نے عادل کو پکارتے ہوئے کہا "اچھا کیا مولانا صاحب کی چھٹی کروا دی۔ ایسے مولویوں کی وجہ سے اسلام بدنام ہے اور ہم مسلمانوں کی عزت نہیں ہے۔” عادل نے ہاں میں ہاں ملائی اور پھر سے سب دوبارہ فلم میں مگن ہوگئے۔۔۔معزز قارئین!! یقیناً واقعہ تو آپ نے پڑھ لیا ھوگا کہ ھم خود کو سب کچھ کرنے کے باوجود گناہ اور برائی سے مبرا سمجھتے ہیں ہم جانتے بھی ہیں کہ ہمارے قبیحہ اعمال شیتیر سے بھی بڑے ہیں ہم اسے چھپانے کیلئے دوسروں کے بال برابر گناہ غلطی کو نہیں بخشتے۔ اپنی اصلاح سے کتراتے ہیں اور دوسروں کو اذیت پہنچا کر نیکی کا کام سمجھتے ہیں اور اپنے بد اعمال ہونے کے باوجود اپنے لیئے فرشتے تلاش کرکے ہیں اور فرشتوں کی خواہش رکھتے ہیں ہم نے ہی معاشرہ کو ابتر پرگندہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ اب مجھ سمیت ہر ایک کو اپنے اعمال کودرست کرنا ھوگا بصورت ہم ایک تباہ شدہ اور برباد ہوکر رہ جائیں گے۔ الله ہم سب کو ہدایت بخشے اور رحم فرمائے آمین ثما آمین!!
کالمکار: جاوید صدیقی



