جھلم۔۔ڈسٹرکٹ جیل جہلم میں پنڈدادن خان کے رھاٸشی منشیات فروش رفیق پر جیل عملے کے تشدد واقعہ

جھلم۔۔ڈسٹرکٹ جیل جہلم میں پنڈدادن خان کے رھاٸشی منشیات فروش رفیق پر جیل عملے کے تشدد واقعہ کے حقاٸق سامنے آ گٸے۔
کچھ دن قبل میڈیا پر شاٸع ھونے والی خبر جھوٹ کا پلندہ نکلی۔
پنڈدادن خان کے رھاٸشی رفیق نامی منشیات فروش جیل کے اندر بھی منشیات فروشی جاری رکھنا چاھتا تھا۔سپرنٹنڈنٹ جیل جھلم چوھدری منشاء اور ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ سید حسن مجتبی و عملے کی جانب سے منشیات فروشی پر اندراج مقدمہ اور قصوری چکی میں بند کرنے کی سزاٶں کی وارننگ ملنے پر منشیات فروش نے جیل عملے کو بلیک میل کرنے کا منصوبہ بنایا۔اس نے ریگولر بوتلوں کے خالی ڈھکن لیکر اپنے جسم پر خراشوں سے مشابہ متشدد نشان لگاۓ اور تاریخ پر پیشی کے وقت اس کی تصاویر اپنی بیوی کو دیکر جھوٹ پر مبنی تشدد کا ڈرامہ رچا دیا۔ذراٸع کا انکشاف۔
بی بی سی اردو نے مزید تفتیش کی تو معلوم ھوا کہ ڈسٹرکٹ ھیڈ کواٹر ھسپتال جھلم میں رفیق کے لٸیےقاٸم کٸیے گٸے پانچ رکنی میڈیکل بنچ نے بھی ڈرامے کا بھانڈا پھوڑ دیا۔ڈاکٹر شعیب کیانی ایم ایس ڈسٹرکٹ ھیڈ کواٹر ھسپتال جھلم نے بیورو چیف بی بی سی اردو کو بتایا کہ جب رفیق کو ھمارے پاس میڈیکل کیلٸیے لایا گیا تو اس کے جسم پر کسی بھی قسم کے تشدد کے نشان موجود نہ تھے جو کہ ھم نے مبنی بر حقاٸق میڈیکل رپورٹ ھاٸیر اتھارٹی کو بھجوا دی ھے۔
رپورٹ۔راجہ فیصل کیانی بیورو چیف پنجاب



