فاٹا میں 12 سال قید، تشدد کا شکار فرانسی خاتون اور 5 بچے بازیاب – بڑے بیٹے کی بہادری سے کھلا

فاٹا میں 12 سال قید، تشدد کا شکار فرانسی خاتون اور 5 بچے بازیاب – بڑے بیٹے کی بہادری سے کھلا راز
– فرانس سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون کو فاٹا کے علاقے میں مبینہ طور پر 12 سال تک ایک کمرے میں قید رکھنے کے بعد پولیس نے بازیاب کروا لیا ہے۔ خاتون کے ساتھ ان کے 5 بچے بھی تھے جن میں سے ایک معذور ہے۔
تفصیلات کے مطابق خاتون نے 2003 میں آسٹریلیا میں ایک پاکستانی شہری سے شادی کی تھی۔ 2014 میں وہ پاکستان کے شہر پشاور منتقل ہوئیں اور بعد ازاں انہیں فاٹا کے علاقے میں لے جایا گیا۔ الزام ہے کہ گزشتہ 12 سال سے انہیں بنیادی سہولیات سے محروم ایک کمرے میں رکھا گیا۔ بازیابی کے وقت خاتون کے جسم پر تشدد کے نشانات بھی دیکھے گئے۔
پولیس کے مطابق خاتون کے بڑے بیٹے نے بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے گھر سے چھپ کر پولیس کو اطلاع دی، جس پر فوری کارروائی کرتے ہوئے ماں اور تمام بچوں کو بازیاب کروا لیا گیا۔ بازیاب ہونے والے بچوں کو تعلیم سے بھی محروم رکھا گیا تھا۔
فرانسی سفارتخانے نے واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ خاتون اور بچوں کی محفوظ واپسی کو یقینی بنانے کے لیے پاکستانی حکام سے رابطے میں ہے۔
*قانونی کارروائی کا مطالبہ*
اس واقعے نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ "ریاست ماں جیسی ہوتی ہے” کا سبق ہمیں دنیا سے سیکھنا ہو گا۔ چند افراد کی غیر انسانی حرکت کی وجہ سے پورے پاکستان کا نام بدنام ہو رہا ہے۔
قانون کی حکمرانی کے لیے ضروری ہے کہ ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ آئندہ کوئی بھی اس طرح کی حرکت کرنے سے پہلے ہزار بار سوچے۔ پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیں، لیکن خواتین کا اعتماد توڑنے والے عناصر کو قرار واقعی سزا ملنا پاکستان کی عزت کے لیے ناگزیر ہے۔
*اہم پیغام*
بیرون ملک بیٹھی تمام لڑکیوں اور پاکستان میں موجود ہر بیٹی سے گزارش ہے کہ کسی پر اس طرح اندھا اعتماد نہ کریں جس کی قیمت آپ کو اپنی پوری زندگی سے چکانی پڑے۔ ہمیشہ اپنے والدین کی رضامندی اور مشاورت سے شادی کا فیصلہ کریں۔ ماں باپ آپ کے مستقبل کے سب سے بہترین ضامن ہیں۔



