راولپنڈی(افتخار خٹک) راولپنڈی میں ہنی ٹریپ کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ دیکھنے میں

راولپنڈی(افتخار خٹک) راولپنڈی میں ہنی ٹریپ کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے جبکہ بعض مقدمات میں پولیس افسران اور اہلکاروں کے مبینہ طور پر ملوث ہونے کے انکشافات نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر بھی سوالات کھڑے کر دیئے ہیں ذرائع کے مطابق گزشتہ چند ماہ کے دوران راولپنڈی کے مختلف تھانوں میں ہنی ٹریپ سے متعلق متعدد مقدمات درج کیے گئے ہیں جن میں شہریوں کو سوشل میڈیا، موبائل فون کالز اور دیگر ذرائع کے ذریعے جھانسے میں لے کر بلیک میل کرنے اور بھاری رقوم بٹورنے کی وارداتیں سامنے آئی ہیں تفصیلات کے مطابق ہنی ٹریپ گروہ پہلے اپنے شکار سے سوشل میڈیا پر دوستی کرتے ہیں بعد ازاں ملاقات کے بہانے مخصوص مقامات پر بلا کر قابل اعتراض ویڈیوز یا تصاویر بنائی جاتی ہیں بعد ازاں متاثرہ افراد کو بدنامی کی دھمکیاں دے کر لاکھوں روپے وصول کیے جاتے ہیں بعض مقدمات میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ گروہوں کو بااثر افراد اور چند پولیس اہلکاروں کی پشت پناہی حاصل ہے جس کے باعث متاثرین شکایات درج کرانے سے گریز کرتے ہیں پولیس ذرائع کے مطابق حالیہ تحقیقات کے دوران بعض اہلکاروں کے کردار کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے اور ایسے عناصر کے خلاف محکمانہ کارروائی سمیت قانونی اقدامات پر غور کیا جا رہا ہے حکام کا کہنا ہے کہ کسی بھی سرکاری ملازم کو قانون سے بالاتر نہیں سمجھا جائے گا اور ملوث افراد کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی شہری اور سماجی حلقوں نے ہنی ٹریپ کے بڑھتے ہوئے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث گروہوں کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کیا جائے اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے ان نیٹ ورکس کا سراغ لگا کر قانون کے کٹہرے میں لایا جائے ماہرین کے مطابق سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے استعمال کے باعث شہریوں کو بھی محتاط رہنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ نامعلوم افراد کے جھانسے میں آ کر مالی اور سماجی نقصان سے محفوظ رہ سکیں دوسری جانب پولیس حکام نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر غیر معروف افراد سے رابطوں میں احتیاط برتیں، کسی بھی مشکوک سرگرمی کی فوری اطلاع متعلقہ تھانے یا قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دیں اور بلیک میلنگ کی صورت میں خاموش رہنے کے بجائے قانونی مدد حاصل کریں مبصرین کے مطابق ہنی ٹریپ کے بڑھتے ہوئے واقعات نہ صرف شہریوں کی عزت، وقار اور مالی تحفظ کے لیے خطرہ بن رہے ہیں بلکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ساکھ کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج ثابت ہو رہے ہیں جس کے تدارک کے لیے مؤثر اور شفاف کارروائی ناگزیر ہے۔



