کرپشن کے بادشاہ سابق اکاؤنٹنٹ چودھری صغیر کی تعینات شدہ ایس ایچ او وویمن پولیس سٹیشن

کرپشن کے بادشاہ سابق اکاؤنٹنٹ چودھری صغیر کی تعینات شدہ ایس ایچ او وویمن پولیس سٹیشن T/SI مفرح نے سر عام قانون ہاتھ میں لینا شروع کر دیا
انتہائی نااہل، نان پروفیشنل، سفارشی و کرپٹ T/SI جوکہ SHO وویمن پولیس سٹیشن تعینات ہیں نے اپنا جرم و نااہلی سستی چھپانے لیے نہ صرف سرکاری ریکارڈ ضائع کیا بلکہ اپنی دو جونیئرُز کو بلی چڑھا دیا
مفرح کی ہٹ دھرمی پیچھے ہاتھ ہے کرپشن کنگ چوھدری صغیر کی ہی لگائی گئی ایک اور نااہل، سفارشی و سٹریٹ کرائم کو کنٹرول کرنے میں بری طرح ناکام ایس ایچ او مورگاہ گلناز جنہوں نے مبینہ طور مفرح کو اپنی کھال بچانے لئے روزنامچہ پھاڑنے کا مشورہ دیا
تفصیل اس اجمال کی کچھ یوں ہے کہ تھانہ چکلالہ کی حدود سے ایک نوجوان شادی شدہ عورت گھر سے غائب ہوئی جس کے شوہر نے بعد ازاں تھانے میں اسکے غواہ کا مقدمہ درج کروا دیا
پولیس نے مغویہ کو بازیاب کروا کر عدالت میں پیش کیا جس پر جج نے لڑکی کو دارالامان بھیجے کا حکم صادر کیا جس بعد پولیس مغویہ کو لے کر تھانہ وویمن راولپنڈی آگئی اور اسے بحوالہ ایس ایچ او T/SI مفرح کے حوالے کیا
تاہم نااہل، نان پروفیشنل و سفارشی مفرح مغویہ کی حفاظت نہ کر سکی اور مغویہ تھانے سے بھاگ کر پشاور پہنچ گئی
ادھر مفرح کے پاتھ پاؤں پھول گئے جنہوں نے فوری طور پر اپنی استانی ایس ایچ او مورگاہ گلناز سے رابطہ کیا جنہوں نے اسے اپنا جرم چھپانے کے طریقے بتائے جس پر عمل کرتے ہوئے مفرح میڈم نے تھانے کا روزنامچہ کا صفحہ ہی پھاڑ دیا جس میں مغویہ کی بندی ظاہر کی گئی تھئ اور ساتھ ساتھ مفرح نے سی سی ٹی وی فوٹیج بھی ضائع کر دی اور عذر پیش کیا کہ جب مغویہ تھانے سے بھاگی تو وہ آر پی او آفس بسلسہ پیشی بحضور RPO صاحب گئی تھی اور یہ کہ تھانہ ہذا میں موجود نہ تھی
جبکہ زرائع مطابق مغویہ ایس ایچ او مفرح کے پاس بیٹھی تھی اور پھر موقع پا کر تھانے سے بھاگ کر سیدھی پشاور پہنچ گئی جہاں سر اسے آگے وزیرستان اپنے آشنا پاس جانا تھا
زرائع کا کہنا ہے کہ راولپنڈی پولیس کی ٹیم نے مغویہ کو رات و رات پشاور میں ٹریس کر لیا اور علی الصبع اسے پشاور کے ایک بس اڈے سے گرفتار کر کے واپس تھانےمنتقل کیا
دوسری جانب تھانہ وویمن راولپنڈی کی نااہل ایس ایچ او مفرح باوجود روزنامچہ پھاڑنے کے باوجود تاحال سیٹ براجمان
سی پی او حسن مشتاق سکھیرا کو ایکشن لینا ہوگا



