کرائمز

راولپنڈی (افتخار خٹک) لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی کے جسٹس صداقت علی خان اور جسٹس تنویر احمد

راولپنڈی (افتخار خٹک) لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی کے جسٹس صداقت علی خان اور جسٹس تنویر احمد پر مشتمل ڈویژن بنچ نے جواں سال امریکی نژاد پاکستانی خاتون کے قتل میں سزائے موت پانے والے مقتولہ کے شوہر کی اپیل مسترد کرتے ہوئے سیشن عدالت کا فیصلہ برقرار رکھا ہے مقتولہ کے شوہر رضوان حبیب کو ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج راولپنڈی محمد افضل مجوکہ نے 12 نومبر 2022 میں موت کی سزا سنائی تھی قبل ازیں ملزم نے سیشن عدالت کے فیصلے کے خلاف بھی ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی تھی تاہم عدالت نے سماعت کے بعد اپیل دوبارہ سیشن کورٹ کو بھجواتے ہوئے مقدمہ کی ازسرنو سماعت کا حکم دیا تھا جس پر ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج راولپنڈی فیصل رشید نے سابقہ فیصلے کو بحال رکھتے ہوئے ملزم کو سزائے موت کا حکم دیا جس پر ملزم نے دوبارہ ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی تھی تاہم گزشتہ روز سماعت مکمل ہونے پر ہائی کورٹ کے ڈویژن بنچ نے اپیل خارج کردی اور سیشن عدالت کا فیصلہ برقرار رکھنے کا حکم دے دیا گزشتہ روز سماعت کے موقع پر مقتولہ کے بیٹے کی جانب سے بیرسٹر عادل عزیز قاضی عدالت میں پیش ہوئے یاد رہے کہ وجیہہ فاروق سواتی 16 اکتوبر 2021 کو پاکستان آئی تھیں اور پاکستان آنے کے بعد پراسرارطور پر لاپتہ ہو گئی تھیں جبکہ پولیس نے 25 دسمبر 2021 کو ان کی نعش پاراچنار اور ڈیرہ اسماعیل خان کے درمیان پیزو کے علاقے میں ایک گھر سے برآمد کر لی تھی جنہیں گھر کے اندر گڑھا کھود کر دفن کیا گیا تھا جس پر تھانہ مورگاہ پولیس نے وجیہہ سواتی کے اغوا و قتل کے الزام میں گزشتہ سال 2 نومبر 2021 کو مغویہ کے بیٹے عبداللہ مہدی کی مدعیت میں تعزیرات پاکستان کی دفعات365، 302، 201 اور 34 کے تحت مقدمہ نمبر 577 درج کیا تھا جس میں الزام تھا کہ اس کی والدہ اپنے بھانجے کے ساتھ 16 اکتوبر کو فلائیٹ نمبر BA-0261 کے ذریعے برطانیہ سے پاکستان آئی جبکہ انہوں نے 22 اکتوبر کو فلائیٹ نمبر BA-0260 سے واپس جانا تھا ایف آئی آر کے مطابق اس کی والدہ اور ان کے 2 مزید بچے سب امریکی شہریت کے حامل ہیں اور والد کی وفات کے بعد سے امریکہ میں ہی مقیم ہیں جبکہ اس کی والدہ اپنے سابقہ شوہر رضوان حبیب سے جائیداد کے معاملات سلجھانے کے لئے پاکستان آئی تھیں لیکن رضوان حبیب نے انہیں جائیدا دکی خاطر اغوا کیا اور بعد ازاں17 اکتوبر کو قتل کر دیاتھا وقوعہ کے 2 ماہ بعد گزشتہ سال 22 دسمبر پولیس نے مقتولہ کے شوہر رضوان حبیب کو باضابطہ طور پر گرفتار کیا تھا بعد ازاں ٹرائل مکمل ہونے پر عدالت نے مرکزی ملزم و مقتولہ کے شوہر رضوان حبیب کو جرم ثابت ہونے پر 3 مختلف دفعات کے تحت سزائے موت ،مجموعی طور پر17سال قید اور 7 لاکھ روپے ہرجانے کی سزا سنائی تھی عدالت نے مقتولہ کے سسر حریت اللّہ اور اس کے ڈرائیور سلطان احمد پر مشتمل مقدمہ کے 2 شریک ملزمان کو7،7 سال قید اور 1 لاکھ روپے فی کس ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا تھا جبکہ عدالت نے مقدمہ میں نامزد گھریلو ملازمہ زاہدہ یوسف اس کے شوہر یوسف مسیح اور رشید احمد نامی 3 دیگر ملزمان کو شک کا فائدہ دے کر بری کر دیا تھا۔

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You