
افغانستان کے عوام اب طالبان حکومت کے پیچھے نہیں کھڑے۔وفاقی وزیر اطلاعات
پاک فوج کے بھرپور جواب کے بعد جھڑپوں کا سلسلہ رک گیا۔عطا تارڑ
اسلام آباد( نمائندہ نازش جبین) گلوبل ٹائمز میڈیا یورپ کے مطابق وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ افغانستان کے عوام اب طالبان حکومت کے پیچھے نہیں کھڑے، اب اگر انہوں نے پھر ایسا کوئی کام کیا تو بھرپور جواب ملے گا۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عطا تارڑ کا کہنا تھاکہ پاک فوج کے بھرپور جواب کے بعد جھڑپوں کا سلسلہ رک گیا ہے اورپاک فوج نے افغان جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا ہے، 200 سے زائد افغان طالبان ہلاک ہوئے ہیں، اپنی پوسٹیں چھوڑ کر بھاگ گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ طالبان کا وزیر خارجہ بھارت میں بیٹھ کر پاکستان کے خلاف بیان دیتا ہے، اسی رات پاکستان پر دہشت گردوں سے مل کر افغان طالبان حملہ کرتے ہیں، افغانستان کی سرزمین ہمارے خلاف استعمال ہوتی رہی، کئی بار ہم ان کو بتا چکے ہیں، ہمارے پاس جو ثبوت موجود ہیں، تانے بانے وہاں سے ملتے ہیں۔وفاقی وزیر کا کہنا تھاکہ افغانستان کے عوام اب طالبان حکومت کے پیچھے نہیں کھڑے، اب اگر انہوں نے پھر ایسا کوئی کام کیا تو بھرپور جواب ملے گا، دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کی کوئی گنجائش نہیں۔انہوں نے مزید کہاکہ 2014 میں آپریشن کے ذریعے دہشت گردوں کا خاتمہ کیا، بانی پی ٹی آئی نے دہشت گردوں کو واپس لاکر بسایا، دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کےلیے بھی کوئی گنجائش نہیں۔خیال رہے کہ گزشتہ شب افغان طالبان اور بھارت کے حمایت یافتہ فتنہ الخوارج نے پاک افغان سرحد کے وسیع حصے پر بلا اشتعال اور دشمنانہ کارروائی کی، پاک فوج کی بھرپور جوابی کارروائی میں 200 سے زائد طالبان اور ان کے حمایتی دہشت گرد ہلاک کردیے، بڑی تعداد میں دہشت گرد زخمی بھی ہوئے۔جھڑپوں میں 23 بہادر جوانوں نے جام شہادت نوش کیا اور 29 سپاہی زخمی ہوئے۔ائی ایس پی آر کا کہنا ہےکہ مسلح افواج نے افغان علاقے میں دہشت گردی کی منصوبہ بندی میں استعمال ہونے والے متعدد تربیتی کیمپس کو تباہ کیا گیا، پاکستان نے سرحد پار دشمن کی 21 پوزیشنز پر بھی وقتی قبضہ کیا اور افغان طالبان کی جانب سے یہ سنگین اشتعال انگیزی طالبان کے وزیرِ خارجہ کے دورہ بھارت کے دوران کی گئی۔



