*کائنات کا سب سے پہلا گناہ کبیرہ، گناہ عظیم*

*کائنات کا سب سے پہلا گناہ کبیرہ، گناہ عظیم*
*تحریر: جاوید صدیقی جرنلسٹ کراچی*
قرآن پاک کی آیات اور احادیث مبارکہ اس حوالے سے صاف صاف بیان کرتی ہے کہ اللہ تبارک تعالیٰ کے حضور مخلوق کی جانب سے رونما ھونے والا پہلا گناہ عظیم گناہ کبیرہ ناتلافی معافی جو تھا وہ ” تکبر، اکڑ، غرور، ضد، ہٹ دھرمی اور سرکشی تھا” نہ شرک تھا نہ جھوٹ نہ بدکاری نہ زناکاری نہ خیانت نہ ناحق قتل نا حق تلفی اور نہ ہی شراب نوشی تھا۔ جب رب العزت نے حضرت آدم علیہ السلام کے جسم مبارک میں روح پھونکی اور حکم دیا کہ میرے بندے کے آگے سجدہ تعظیمی بجا لاؤ تو اس وقت جنوں کی مخلوق کا جن جسے اللہ نے تمام مخلوق بشمول ملائکہ سردار بنایا تو اس نے حکم عدولی کرتے ہوئے انکار کیا اور سبب یہی بتایا کہ یہ انسان مجھ سے کمتر ھے۔ اگر ھم آج بحیثیت خود پر اپنے اعمال پر غور کریں مطالعہ کریں تو شرم سے ڈوب جائیں گے کہ وہ تمام اعمالِ ابلیس اپنائے ہوئے ہیں جو رب العزت کو شدید نا پسند اور ناراضگی کا باعث ہیں پھر بھی عبادات و ریاضت کرکے سمجھتے ہیں کہ ھم مقرب بندوں میں سے ہیں۔ آج ھم پر اللہ کی رحمت برکت فضل و کرم دکھائی نہیں دیتا اسکی سب سے بڑی وجہ ہم سب کے اعمال ہیں۔ اللہ تبارك تعالیٰ نے نبی کریم خاتم النبین امام المرسلین رحمت اللعالمین کے صدقے انسان کو اشرف المخلوقات کے درجہ پر پہنچایا انہیں جنھوں نے حق ادا کیا اور دین محمدی ﷺ پر بناء مسلک خالصتاً دین اور انسانوں کی خدمت کی۔ کسی شاعر نے خوب کہا ” کرو مہربانی اہل زمین پر خدا ہوگا مہربان عرش بریں پر” پھر یہ بھی کہتے سنا ھے دردِ دل کے واسطے پیدا کیا انساں کو وگرنہ کم نہ تھے عبادت کیلئے کروبیاں۔ آج مسلم ریاست کے حکمران بلخصوص پاکستان کے حکمران، جسٹس تاجر علامہ پیر عظام آئمہ کرام اساتذہ جنرلز اور سیاسی رہنما ذرا خود پر توجہ کرلیں کہ وہ کس نظام کی تقلید کئے بیٹھے ہیں اور شرعی نظام سے دوری کیوں اختیار کی ہوئی ھے۔ کیا شریعت کے بناء ھم فلاح و امن و ترقی و خوشحالی و پرہیزگاری عدل و انصاف اور مساوات والی زندگی بسر کرسکتے ہیں یقیناً نہیں تو پھر ھم ابلیس کے تابعدار ٹھرے شیطان ملعون اور دجال کی جیلے ٹہرے ذرا خود پر توجہ کی ضرورت ھے۔


