*عنوان: عہد ساز شخصیت پیپلزپارٹی کے بانی رکن سینیٹر تاج حیدر۔۔۔!!*

*ٹائٹل : بیدار ھونے تک*
*عنوان: عہد ساز شخصیت پیپلزپارٹی کے بانی رکن سینیٹر تاج حیدر۔۔۔!!*
*کالمکار: جاوید صدیقی*
پیپلزپارٹی کے بانی رکن سینیٹر تاج حیدر سے بنفس نفیس کئی بار ملاقات رہی یہ ان دنوں کی بات ھے جب میں اےآروائی میں بحیثت نیوز پروڈیوسر جاب کرتا تھا، ایک دفعہ کا واقع ھے کہ تاج حیدر مرحوم ایک روز ریکارڈنگ کے سلسلے میں آئے تو اچانک کمزوری، نکاہت اور بلڈ پریشر کی کمی کے باعث فرش پر گر گئے اور ان پر مدہوشی کی حالت طاری ہوگئی میں نے فوراً انہیں ہنگامی بنیادی طبی سہولت فراہم کیں کچھ دیر ہی میں طبیعت بہتر ہوگئی، خوش ہوکر پوچھنے لگے کیا تم نے ہنگامی طبی کورس کیا ھے جس پر میں نے سر ہاں میں ہلایا خیر آپ سے جب جب ملاقات ہوگئی بہت اچھا نہیں بلکہ بہت ہی اچھا محسوس کیا وہ بہت خوش مزاج ہنس مکھ انسان تھے، آپکی گفتگو میں شائستگی ادب اور تہذیب جھلکتی تھی کیونکہ آپ کا خاندان ایک انتہائی مہذب اور علمی گھرانا تھا۔ ہمارے والد مرحوم سردار حسین صدیقی علیگیرین ہندوستان سے ہجرت کرکے خیرپور میرس آبسے تھے اور وہیں سے محکمہ تعلیم میں تقرری حاصل کی والد محترم نے علیگڑھ یونیورسٹی سے گریجویشن کی ڈگری حاصل کی ہوئی تھی آپ نے خیرپور میرس کے گورنمنٹ ناز پائلٹ ہائی اسکول اور کچھ قلیل عرصہ ممتاز کالج میں بھی درس و تدرس کے منصب پر رھے۔ ہمارے والد کی انتہائی قربت اور دوستی تاج حیدر مرحوم کے والد پروفیسر کرار حسین مرحوم سے بھی تھی، آپ اکثر و بیشتر انکا بہت اچھے لفظوں میں گھر پر ذکر کرتے اور اپنی دوستی پر ناز رکھتے تھے وہ ان دنوں بہت چھوٹا ھوا کرتا تھا۔ پچاس اور ساٹھ کی دہائی میں خیرپور میرس علم و ادب اور سماجی روایت کا مرکز تھا لیکن ستر کی دھائی سے لسانی فسادات کے سبب اسی نوے فیصد لوگ کراچی، حیدرآباد اور میرپورخاص اور دیگر شہروں میں منتقل ہوگئے، انتقال شہر میں بڑے بڑے خاندانی لوگ اور بڑی بڑی علمی و ادبی شخصیات نے خیرپورمیرس کو خیرباد کہہ دیا اسکے بعد سے خیرپور ویران و بیابان رھا ھے علم و ادب اور خاندانی شخصیات کی بنیاد پر دور حاضر میں یہاں جس کے پاس روپیہ پیسہ آیا وہی باعث عزت کہلوانے لگا، نہ ادب نہ تہذیب نہ اخلاق نہ تمدن رھا ھے بس ایک بھیڑ چال چل پڑی ھے طاقتور اپنی طاقت کے غرور پر اور جاہل اپنی جاہلیت کے عروج پر مغرور ہوتا نظر آرھا ھے ۔۔۔ معزز قارئین!! گزشتہ روز ممتاز دانشور، کہانی نویس، ماہر ریاضی اور پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی رکن سینیٹر تاج حیدر کے انتقال کی خبر ملی تو دکھ بہت دکھ اور رنج ہوا اور دل سے دعا نکلی اللہ انکی اگلی منزل کو آسان فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مرتبہ سے نوازے آمین یا رب العالمین۔ حقیقت تو یہ ھے کہ عقل و دانش، شعور، انسانی حقوق، تہذیب، ثقافت، ظلم سے مزاحمت اور بھٹو دور کا ایک اور بہت اہم چراغ بجھ گیا ھے۔ اپنے استاد محترم جناب ناصر بیگ چغتائی المعروف این بی سی صاحب سے تاج حیدر مرحوم کے متعلق کافی معلومات حاصل ہوئیں این بی سی صاحب نے اپنے فیس بک پیج پر لکھا کہ پاکستان پیپلزپارٹی کے بانی رکن سینیٹر تاج حیدر جوہری سائنس اور فلسفہ کے بھی ماہر تھے اور دور بھٹو میں انہوں نے جوہری پروگرام کی ضرورت پر پارٹی کے لئے کئی مقالے لکھے تھے۔ پی ٹی وی پر ڈراموں کی اسکرپٹنگ میں انکا جواب نہیں تھا۔ وہ آزادی سے قبل راجستھان کے علاقے کوٹا میں پیدا ہوئے۔ انکی عمر تیراسی برس تھی۔ انکے والد پروفیسر کرار حسین اپنے دور کے مفکر استادوں کے استاد تھے۔ ڈاکٹر جمیل جالبی، حسن عسکری، انتظار حسین، سلیم احمد اور درجنوں گوہر نایاب پروفیسر کرار کے میرٹھ اتر پردیش میں شاگرد بنے۔ پروفیسر کرار حسین کے دوسرے بیٹے ایک اور دانشور جوہر حسین تھے۔ تاج حیدر بنیادی طور پر مارکسی تھے۔ سنہ انیس سو اڑسٹھ عیسوی میں ایک سوشلسٹ کنونشن کے بعد وہ پاکستان پیپلز پارٹی میں شامل ہوئے ایسے بہت کم لوگ ہیں جو موضوع پر عبور رکھتے ہوں، تاج حیدر مرحوم کئی موضوعات پر عبور رکھتے تھے، ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے بعد وہ سیاست سے الگ ہوگئے اور پی ٹی وی کے لئے کہانیاں لکھنے لگے لیکن پھر مشرف کے خلاف بینظیر بھٹو کی تحریک کے دوران پارٹی میں واپس آئے۔ وہ فیض، میجر اسحاق، فتحیاب علی خان، معراج محمد خان کے "قبیلے” سے تھے۔ میرے مشفق اور مربی تھے، جب کسی کم علم کا سامنا ہوتا تو یہی کہتے ارے یہ تو پورے موضوع پر عبور رکھتے ہیں۔ کئی بار میرے اسٹوڈیوز میں پروڈکشن کے سامنے میرے بارے میں ایسی باتیں کیں تو میں شرمندہ سا ہوگیا، عام طور پر وہ بھابی ناہید کے ساتھ اسٹوڈیو آتے تھے۔ ناہید وصی سے دلی تعزیت ھے ۔۔۔۔ معزز قارئین!! ھم میڈیا پرسن لاکھوں کی تعداد میں جناب ناصر بیگ چغتائی المعروف این بی سی سے آج بھی مستفید ہوتے رہتے ہیں خاص طور پر میں ادنیٰ سا شاگرد جب اپنی تحریر میں الجھ جاتا ہوں تو استاد محترم سے ہی رہنمائی حاصل کرلیتا ہوں یہی کالم دیکھ لیجئے کہ تاج حیدر مرحوم سے کئی بار بنفس نفیس ملاقات کے باوجود آپ کی نجی زندگی کے متعلق نا بلد تھا میں شکریہ ادا کرتا ہوں اپنے استاد محترم کا کہ جنکی بدولت اپنا کالم مکمل کرسکا۔ اور دعا کرتا ہوں کہ اللہ ہمارے استاد این بی سی کو صحت کیساتھ لمبی عمر عطا فرمائے۔ آمین وہ انگریزی کا محاورہ ھے نا "اولڈ از گولڈ” سر ہمارے سر کا تاج ہیں۔۔!!



