{23 ستمبر یوم سیاہ پر ٹیم گرین کے چیرمین محسن اعوان کا عافیہ کی رہائی کی اپیل}

{23 ستمبر یوم سیاہ پر ٹیم گرین کے چیرمین محسن اعوان کا عافیہ کی رہائی کی اپیل}
رپورٹ بشریٰ جبیں
ٹیم گرین کے چیرمین ملک محسن اعوان ، صدر میلاد احمد وائس چیرمین سردار محمد عدنان ایڈوائزر ہیڈ عبداللہ منصور اور ویمن ونگ کی صدر مناہل عمران نے کہا ہے کہ 23 ستمبر
2010 جب امریکی کورٹ میں انصاف کے تقاضے پورے کیے بغیر عافیہ کو 86 سال قید تنہائی کی ظالمانہ سزا دے دی۔
محسن اعوان نے کہا کہ امریکہ دنیا بھر میں انسانی حقوق کا چیمپین ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اورامن پسند بنتا ہے جبکہ اس نے عافیہ صدیقی کو کراچی سے اغواہ کر کے پہلے افغانسان جیل میں رکھا پھر غیر قانونی طور پر امریکہ منتقل کیا اور آج 21 سال سے عافیہ جیل میں ذہنی ، جسمانی اور جنسی تشدد کا شکار ہو رہی ہے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ عافیہ کو اقوام متحدہ کے طے شدہ قیدیوں کے حقوق بھی نہیں دئیے گۓ
صدر ٹیم گرین میلاد احمد نے کہا کہ 21 سال سے ہم آج بھی اپنی حکومتوں کو جگا رہے ہیں کہ اپنے شہری کو بچانے کیلئے اپنے سفارتی اور قانونی ذرائع استعمال کریں لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ کسی پاکستانی حکومت نے اپنے شہری کی رہائی کیلئے کچھ نہیں کیا۔
عبداللہ منصور نے کہا ہے کہ مقتدریہ سے ہم رحم کی اپیل کے ساتھ مطالبہ کرتے ہیں کہ عافیہ صدیقی کو جلد از جلد وطن واپس لایا جاۓ ۔ اسکی بحالی صحت کیلئے علاج کی ضرورت ہے۔ اسکا وزن 37 کلو سے کم ہو چکا ہے۔ جیل میں تشدد سے اسکی قوت سماعت اور بصارت کمزور ہو چکی ہے ۔ اسے اپنے بچوں کے ساتھ زندگی گذارنے دی جاۓ۔ اسکی رہائی کیلئے ہمدردانہ غور کیا جاۓ۔
مس مناہل عمران صدر وومن ونگ اور وائس چیرمین سردار محمد عدنان نے کہا کہ 21 سال سے عافیہ صدیقی کے بچے اور اسکی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی ہر روز شدید ذہنی کرب اور اذیت کا شکار ہیں ۔ جبکہ عافیہ کی والدہ اپنی بیٹی سے ملنے کی امید میں اس دنیا سے رخصت ہو گئی۔ عافیہ کے ساتھ ہونے والے ظلم نے اسکے سارے خاندان کو دکھی کیا ہے۔
ملک محسن اعوان اور ٹیم گرین وزیراعظم پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ امریکی صدر کو انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر عافیہ کی رہائی کیلئے ایک خط لکھا جاۓ تاکہ عافیہ صدیقی کو جلد از جلد رہا کروایا جا سکے ۔جیل میں صحت خرابی اور تشدد کی وجہ سے اسکی زندگی کو شدید خطرہ لاحق ہے۔



