ھم جس ملک میں رہتے ہیں

ھم جس ملک میں رہتے ہیں
یہ وہ ملک ھے جہاں مخلص رہنماؤں کو پاکستان بنتے ہی ایک گیارہ ستمبر سنہ انیس سو اڑتالیس کو ٹی بی کے مرض میں شدید مبتلا تھے ایمبولینس کی خرابی اور تاخیر سے انتقال ھوا گویا ازخود غفلت کی بناء پر مار ڈالا دوسرے کو سولہ اکتوبر سنہ انیس سو اکیاون راولپنڈی کے جلسہ میں شہید کرڈالا یاد رھے ان دونوں عظیم ہستیوں کو مارنے والے اور انکی نسلیں موجودہ پاکستان میں عیش و تعائش کرتی چلی آرھی ہیں دوسرا نقطہ یہ کہ ون یونٹ کو ختم کرنے والے کی نسلیں چاہے وہ بدلی ھوئی کیوں نہ ھو آج بھی پاکستان اور پاکستانی عوام پر راج کررہی ہیں ھم کہتے ہیں اسلامی ۔۔۔ جمہوریہ۔۔۔۔پاکستان ۔۔۔ حقیقت مکمل برعکس ھے یہاں نہ اسلامی قوانین پر عمل درآمد یعنی اسلامی شریعت کے تحت مکمل آئین ہی نہیں اور نہ ہی جمہوریت ھے رہی بات پاکستان کی اسے باپ کی جاگیر ہر کوئی بنائے بیٹھا ھے ذرا سوچئے ہم کب تک اس بھور میں پھنسے رہیں گے مضبوط اور آزاد قومیں سمندر و بحر کی سطح پر رہتی ھیں اور کمزور مغلوب قومیں غرق ہی رہتی ہیں۔ مجھ سمیت ھماری قوم کو وطن عزیز پاکستان, اسلامی قوانین اور عسکری قوتوں کو مضبوط بنانے کیلئے اپنے شعور کو بلند شفاف مثبت اور ایمان کی طاقت سے منور کرنا ناگزیر ھوچکا ھے۔
جاوید صدیقی ایگزیکٹو ممبر کراچی یونین آف جرنلسٹس دستور۔ دستور گروپ


