سندھ

گفتگوہزاروں مسائل کا حل ہے،اپنا مدعارکھیں،دوسروں کی سنیں،اس سے حل کا راستہ نکلتاہے

*گفتگوہزاروں مسائل کا حل ہے،اپنا مدعارکھیں،دوسروں کی سنیں،اس سے حل کا راستہ نکلتاہے۔علامہ سید شہنشاہ حسین نقوی*

*مکالمہ ایک ایسا ذریعہ ہے جو غلط فہمیوں کو دور کرنے، اختلافات کو سمجھنے اور پرامن حل تلاش کرنے میں مدد دیتا ہے۔ ڈاکٹر خالد محمودعراقی*

*سچ،حق اور انصاف پر مبنی معاشرہ نہ صرف افراد کی انفرادی فلاح کا ضامن ہوتا ہے بلکہ اجتماعی ترقی و استحکام کا بھی ذریعہ بنتا ہے۔ڈاکٹر خالدعراقی*

کراچی (رپورٹ: جاوید صدیقی) علامہ سید شہنشاہ حسین نقوی نے کہا کہ واقعہ کربلا صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں، بلکہ حق و باطل کے درمیان ایک ایسا معرکہ ہے جو رہتی دنیا تک انسانیت کو یہ سبق دیتا ہے کہ حق کے لیے ڈٹ جانا چاہیے، چاہے حالات کتنے ہی سخت کیوں نہ ہوں اور ظلم و جبر کے سامنے کبھی سر نہیں جھکانا چاہیے۔ حضرت امام حسین ؓ کا پیغام آج بھی ہر مظلوم کے دل میں روشنی پیدا کرتا ہے اور ہر ظالم کے لئے للکار بنتا ہے۔ حضرت امام حسینؓ نے اپنی اس بظاہر آٹھ دن کے قیام کربلا کے دوران جو زندگی گزاری، اس نے ہمیں رہنما اصول عطاکئے، وہ ہم سب کیلئے بلاتفریق ہر شخص کی ضرورت ہے۔ گفتگو ہزاروں مسائل کا حل ہے، اپنا مدعا رکھیں اور دوسروں کی سنیں کیونکہ یہ حل کا راستہ نکالنے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ تمام مسائل اور جھگڑوں کا حل گفتگوسے ہی نکلتا ہے اور یہ کربلا کا پیغام ہے۔ ہمیں ایک دوسرے کو سننے اور برداشت کرنے کی ضرورت ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جامعہ کراچی کے دفتر مشیر امور طلبہ کے زیر اہتمام پارکنگ گراؤنڈ بالمقابل آرٹس لابی جامعہ کراچی میں منعقدہ "یوم حسینؓ ” سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ یومِ حسینؓ نہ صرف مسلمانوں کیلئے بلکہ ہر دردِ دل رکھنے والے انسان کیلئے ایک یاد دہانی ہے کہ ظلم و ناانصافی کے خلاف خاموشی جرم کے مترادف ہے۔ آج ہمیں امام حسینؓ کی تعلیمات سے سبق لیتے ہوئے معاشرتی عدل، انسانی حقوق اور امن و بھائی چارے کے فروغ کیلئے عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر خالد عراقی نے مزید کہا کہ انکی یہ عظیم قربانی صرف ایک مذہبی واقعہ نہیں بلکہ پوری انسانیت کیلئے ظلم کے خلاف کھڑے ہونے کی ایک لازوال مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ مکالمہ ایک ایسا ذریعہ ہے جو غلط فہمیوں کو دور کرنے، اختلافات کو سمجھنے اور پرامن حل تلاش کرنے میں مدد دیتا ہے۔ جب لوگ سننے اور سنانے کا حوصلہ رکھتے ہوں، تو بڑے بڑے تنازعات بھی آسانی ختم ہوجاتے ہیں۔ ڈاکٹر خالد عراقی نے کہا کہ ہتھیار، فوجی سازوسامان، اور افراد کی بڑی تعداد وقتی اور مادّی طاقت فراہم کرسکتی ہیں، لیکن ایمان وہ روحانی اور باطنی طاقت ہے جو انسان کو حق، صبر، استقلال اور قربانی کے راستے پر قائم رکھتی ہے، حتیٰ کہ وہ ظاہری شکست کو بھی فتح میں بدل دیتی ہے۔ سچ،حق اور انصاف پر مبنی معاشرہ نہ صرف افراد کی انفرادی فلاح کا ضامن ہوتا ہے بلکہ اجتماعی ترقی و استحکام کا بھی ذریعہ بنتا ہے۔ مولانا منظرالحق تھانوی نے کہا کہ آج ہماری زندگی میں حسینیت کتنی ہے، سب کو اپنا جائزہ خود لینا ہے، اگر حسینیت کی کمی ہے تو ہم درندگی اور یزیدیت کی طرف جارہے ہیں اور اگر حسینیت کا بول بالا ہورہا ہے تو شکر کے لمحات ہیں اور یہ سجدہ شکر کا لمحہ ہے۔اس موقع پر علامہ سید احمد اقبال رضوی و دیگر نے بھی خطاب کیا۔

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You