کیا آپ کو نہیں پتہ کہ ہماری آدھی قوم یوٹیوبر یا نام نہاد صحافی بن چکی ہے ۔ مجھے بہت سے لوگوں

تحریر
برگیڈئیر (ریٹائر)بشیرآرائیں*
*حمیرااصغرعلی*
(إِنَّا لِلَّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ)
کیا آپ کو نہیں پتہ کہ ہماری آدھی قوم یوٹیوبر یا نام نہاد صحافی بن چکی ہے ۔ مجھے بہت سے لوگوں کے فون آٸے کہ میں نے اداکارہ حمیرا اصغر کی افسوسناک موت پر کچھ لکھا کیوں نہیں؟
انسان کیا لکھے جب کچھ جانتا ہی نہ ہو ۔ اب ٹی وی ۔ یوٹیوب اور اخبارات سے کچھ اگاہی ہوٸی ہے کہ مرحومہ کون تھی ۔ معاشرے کے حالات ایسے ہیں کہ *اگر کوٸی دو چار ہزار روپے کا نیلا پیلا ماٸیک خریدلے اور رگوں میں گندگی سے بھرپور تربیت ملا خون دوڑ رہا ہو تو وہ یوٹیوبر یا صحافی 22-23 کروڑ عوام کی زاتی زندگی بارے سب جاننے لگتا ہے* اور حمیرا اصغر کیس کی رپورٹنگ اسکا جیتا جاگتا ثبوت ہے ۔
میں چونکہ نہ صحافی ہوں نہ یوٹیوبر تو لوگوں کی زاتی زندگی ، کس کے والدین بےحس ہیں ، کون بچی یا بچہ خراب ہے کیسے جان سکتا ہوں ۔
بس اتنا بتا سکتا ہوں کہ آج کے والدین کو اپنی اولاد کی تربیت پر اتنی توجہ تو ضرور دینی چاہیے کہ *گھر میں کیسا ہی طوفان آجاٸے ، باہمی گلے شکوے اور ناراضگیاں کسی بھی نہج پر پہنچ جاٸیں ہمارے بچے اپنا گھر چھوڑ کر جانے کا کبھی نہ سوچ پاٸیں*۔
اور
بچوں کو والدین سے کسی ناراضگی پر قطع تعلق کرنے , آزاد اور خودمختار زندگی اپنانے سے پہلے یہ ضرور سوچ لینا چاہیے کہ *ماں کی روک ٹوک مگر محبتوں بھری آغوش اور باپ کی ڈانٹ ڈپٹ اور ان کہی شفقت بہتر ہے یا تنہاٸیوں سے بھری زندگی کا کسی فلیٹ میں لاوارث گلی سڑی لاش والا اختتام*۔
آج کے *والدین اور جوان ہوتی اولاد کو آمنے سامنے بیٹھ کر ایک دوسرے کا ہاتھ بہت محبت سے تھام کر مشترکہ فیصلے کرنے چاہییں* ۔
شاید یوں ہم اس انتہاٸی تکلیف دہ دوطرفہ نقصان سے بچ سکیں ۔



