کچھ باتیں IMF سے!

(تحریر: کاشف شمیم صدیقی)
آج یومِ دفاع کے موقع پر میں اپنی جانب سے تمام اہلِ وطن کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرنا چاہوں گا اورآج کے دن پاکستان کے غریب عوام کا دفاع کرتے ہوئے، IMF سے بھی کچھ بات کرنا چاہوں گا۔ ۔ ۔ تو جناب عالی میں آپ سے آج یہ کہنا چاہتا ہوں کہ آپ نے جتنے قرضے بھی فراہم کیے ہیں ان کی وصولی کا آپ کو پورا، پورا حق حاصل ہے، آپ ضرور قرضے واپس لیجئے، ایک ایک پیسہ وصول کر لیجئے ۔ ۔ ۔ لیکن ان لوگوں سے جنہوں نے یہ قرضے آپ سے لیے ہیں!! غریب عوام سے قرضوں کی وصولی کیوں کی جارہی ہے یہ بات سمجھ میں نہیں آرہی۔ ۔ ۔ سر، آج ترستی، بلکتی عوام کی حالت دیکھ کر آپ کو ایسا لگتا ہے کہ ان کی خوشحالی پر کچھ خرچ کیا گیا ہوگا؟ آپ۔ ۔ ۔ آپ پلیز چلیے میرے ساتھ، میں آپ کو اس کے گھر لے چلتا ہوں، جس نے ابھی کچھ دنوں پہلے ہی خود کشی کی ہے ۔ ۔ ۔ وہ ایسا نہ کرتا تو کیا کرتا؟ نہ نوکری تھی، نہ گھر میں کھانے کو روٹی، بچوں کی اسکول کی فیس کئی مہینوں سے ادا نہیں ہوئی تھی، ہر گزرتا دن اس کی اذیتوں کو بڑھا رہا تھا، پھر ایک دن اس نے فیصلہ کر ہی لیا، موت کو گلے لگانے کا!! لیکن سر وہ اکیلا نہیں مرا ہے، اپنے ساتھ اپنے پانچ یتیم بچوں کو بھی مارنے کا سامان کر گیا ہے، کیونکہ اب اس کی وائف اور بچوں کے ساتھ جو ہوگا وہ اسے جھیل نہیں پائیں گے،، سر۔ ۔ ۔ سر پلیز آپ اپنے فیصلوں پر نظر ثانی کریں، غریب عوام کا آپ کے دیے ہوئے قرضوں سے دور، دور تک کا کوئی واسطہ نہیں ہے، لوگ مر جائیں گے سر، کیونکہ مزدور طبقے کے پاس نہ تو دو وقت کی روٹی کھانے کے پیسے ہیں، نہ پٹرول ڈلوانے کے اور نہ ہی بجلی کا بل بھرنے کے، وہ تو اب دال، سبزی بھی افورڈ کرنے کے قابل نہیں رہے۔ ۔ ۔ تینوں ٹائم NGOs کے دستر خوانوں پر بیٹھ کر پیٹ کی آگ بُجھا رہے ہیں، اس لیے میری آپ سے یہ گزارش ہے کہ خدارا غربت، بے بسی اور بیچارگی کی مورت بنے لوگوں کو اس اذیت ناک صورتحال سے باہر لانے میں ان کی مدد کریں، آپ کی عین نوازش ہوگی۔



