بہترین تبلیغ یہ ہے کہ ہم خود عملی طور پر اپنا وہ کردار اختیار کریں جس کا دوسرے کو بتا رہے ہیں

بہترین تبلیغ یہ ہے کہ ہم خود عملی طور پر اپنا وہ کردار اختیار کریں جس کا دوسرے کو بتا رہے ہیں کیونکہ اگرہم ممبر پر بیٹھ کر بیان کریں اور اپنا عمل اس سے مختلف ہو تو پھر اس تبلیغ کا اثر نہ ہو گا۔آج بھی مجاہدین جان اللہ کے سپرد کرتا ہے تو اس کے بارے حکم ہے کہ اسے مردہ نہ کہو وہ اللہ کے ہاں سے رزق پاتا ہے تو جو اللہ کا نبی اور رسول ہے اس کا مقام کیا ہوگا۔موت کے بھی درجے ہیں۔
امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے روز خطا ب۔
انہوں نے کہا کہ دین سے دوری بد بختی پیدا کرتی ہے۔ہونا تو یہ چاہیے کہ دینی حکم کو سمجھ کر اس پر عمل پیرا ہوا جائے لیکن آج دینی حکم پر اعتراض اُٹھائے جاتے ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے اپنے اندر نفاق پیدا ہو چکا ہے۔خرابی ہمارے اندر آچکی ہے۔جو اعتراض کرتے ہیں وہ دین کی بجائے اپنی عقل کا استعمال کر تے ہیں اپنی رائے کو مقدم جانتے ہیں۔جب بندہ مشروط اقرار کرتا ہے تو پھر اپنی رائے کو ہی مقدم جانتا ہے اور اس کا سارا زور اسی پر ہوتا ہے۔اعتراض برائے اعتراض اور بات ہے اور جاننے کے لیے سوال کرنا یہ اور بات ہے۔لوگ ماننا چاہتے نہیں اور اپنی ضد اور انا میں پھنسے رہتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ جو حق کے خلاف جا رہا ہوتا ہے اس کے اپنے نقصان کا سبب بن جاتا ہے۔اور جو حق پر عمل کرتا ہے اس کی سلامتی حق پر عمل کرنے سے ہوتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ انبیاء ؑ جب کوئی بات فرماتے ہیں تو اس میں امت کی راہنمائی موجود ہوتی ہے۔وہ ہستیاں جن کی تبلیغ،بیان،تربیت بے مثل و بے مثال ہے۔یہ وہ جماعت ہے انبیاء کی خطا سے پاک ہے جنہیں اللہ کریم نے چن لیا۔کلام ذاتی سے نوازا۔نبی کریم ﷺ کا مزاج مبارک ایسا تھا کہ اللہ کریم فرماتے ہیں کہ اے میرے حبیب آپ ﷺ ان کے دکھ میں اپنی جان ہی دے دیں گے؟آپ ﷺ لوگوں کے لیے اتنا دکھ کرتے کہ میرے ہوتے ہوئے بھی کوئی جہنم چلا جائے اسلام سے محروم رہے۔
لوگ کیا کہتے ہیں یہ نہیں دیکھنا چاہیے بلکہ یہ دیکھنا چاہیے کہ اللہ کا حکم کیا ہے۔نبی کریم ﷺ کا کیا فرمان ہے۔اپنی نیت اور اپنا رخ ہمیشہ صاف، کھرااور خالص رکھیں۔سب سے بہترین تبلیغ اپنی اصلاح ہے اپنے اعمال اور کردار کو درست رکھیں گے تو دوسرے پر بھی اس کا اثر ہوگا۔اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔
آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی۔


