کراچی پریس کلب کا سالانہ کونسل اجلاس مچھلی بازار

کراچی پریس کلب کا سالانہ کونسل اجلاس مچھلی بازار۔۔۔۔!!
گزشتہ چند سالوں قبل سے کراچی پریس کلب کا سالانہ کونسل اجلاس انتخابات کے نتائج سے چند منٹ قبل منعقد کیا جاتا رہا ہے جو نہ صرف ذمہداران کو محفوظ راہداری فراہم کرتا ہے بلکہ راہِ فرار کے راستے بھی پیش کرتا ہے۔ سابقہ منتخب نمائندگان کے حواری ہمیشہ شور شرابا کرتے ہیں اور اسی شور شرابے میں بل / اسٹیٹمںٹ پاس کردیئے جاتے رہیں ہیں جو صحافیوں کے حقوق پر قدغن لگانے کے مترادف ہوتی ہے۔ کراچی میں آرٹس کونسل بھی ہے آرٹس کونسل کے صدر احمد شاہ نے جہاں بیشمار کام کیئے وہیں خود کو بلکہ اپنی ٹیم کو ممبران کی عدالت میں پیش کرتے رہے ہیں یاد رہے کہ آرٹس کونسل کراچی میں ہر دو سال بعد انتخابات ہوتے ہیں آئندہ سال انتخابات ہونگے جبکہ ممبران کی عدالت میں پیش ہونے کیلئے ایک سال قبل یعنی 27 دسمبر 2021 بروز اتوار کو سالانہ اجلاس منعقد کیا ہے۔ اس اجلاس کی صدارت کمشنر کراچی کرتے چلے آرہے ہیں جبکہ انتخابات کا انعقاد پاکستان الیکشن کمیشن کا پروفیشنل اسٹاف خدمات انجام دیتا ہے۔ یہ انتخابات مکمل شفاف اور غیر جانبداری کے اصول پر محیط ہوتا ہے۔ مجھے حیرت اور تعجب ہے کہ کراچی پریس کلب اور کراچی یونین آف جرنلسٹس آخر کیوں شفاف اور غیر جانبدار انتخابات سے کتراتے ہیں۔ جنہیں سچ و حق پر یقین ہوتا ہے وہ ذمہداران عدل و انصاف کے تقاضوں کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے انتخابات کراتے ہیں۔ وقت بدلتا جارہا ہے ممبران کو مزید نہ بے وقوف بنایا جاسکتا ہے اور نہ ہی کسی دھوکے میں رکھا جاسکتا ہے اب وقت آچکا ہے کہ کراچی پریس کلب کے سالانہ کونسل اجلاس کو انتخابات سے قبل کرنا شروع کردیا جائے اور مہذب تہذیب اخلاقیات کیساتھ ایک پڑھا لکھا ماحول پیدا کرتے ہوئے باری باری سوالات کا سلسلہ رکھا جائے اور اسی قدر جواب بھی دیئے جائیں۔ ابتک سالانہ کونسل اجلاس مچھلی بازار بننے کے سبب سنجیدہ اور سینئرز صحافی دوست شرکت سے کتراتے ہیں بہتر ہے کہ ماحول کو ایسا رکھا جائے جس میں برداشت صبر کا عنصر شامل ہو۔ ہم صحافی حضرات سب کو سیلقہ و شعار کا درس دیتے ہیں اور اصلاح معاشرہ و اصلاح ادارہ بنانے میں مضبوط کردار ادا کرتے ہیں۔ میں امید کرتا ہوں کہ ہم سب کلب میں بہتر ماحول اور جمہوری تقاضوں کیساتھ آگے بڑھیں گے۔ انشاءاللہ۔۔۔۔۔!!
جاوید صدیقی ایگزیکٹو ممبر یونائیٹڈ جرنلسٹ پینل کراچی پریس کلب



