”کتاب اللہ کا علم کیا ہےحق یہ کہ کتاب محض الفاظ ومعانی ہی نہیں ہوتےبلکہ ہر لفظ میں انوارات

مولانا امیر محمد اکرم اعوان رح
”کتاب اللہ “
”کتاب اللہ کا علم کیا ہےحق یہ کہ کتاب محض الفاظ ومعانی ہی نہیں ہوتےبلکہ ہر لفظ میں انوارات و تجلیات اور کیفیات ہوتی ہیں جو سب نبی کے دل پر وارد ہوتی ہیں اور اس کی حقیقت متبعین کو سینہ بسینہ نصیب ہوتی ہیں انہی کیفیات کے حامل ولی اللہ کہلاتے ہیں اور ایسے علماء ہی انبیاء کے وارث ہوتے ہیں ورنہ محض الفاظ و معانی سے کھیلنے والے عموماً کتاب اللہ کو بھی ذریعہ معاش بنا پاتے ہیں اور بس۔ان کیفیات کے حامل لوگوں میں تصرف کی قوت بھی حسب استعداد ہوتی ہےجس کا اظہاربھی مختلف مواقع پر ہوتا رہتا ہے ۔ قلبی طور پر اس کی تحقیق جو حضرت کے حکم پر کی گئی تھی یہ سمجھ آئی تھی کہ اس شخص نے جو آپ کا صحابی اور درباری تھااور مفسرین جس کا نام اآصف بن برخیا لکھا ہےاپنے قلب کے انوارات تخت پر القا ء فرما کرایک بار اللہ کہاتو تخت سامنے پڑا تھا“۔
مگر یہاں ایک نہایت اہم اور باریک نکتہ قابلِ توجہ ہے، جس کا جاننا اور سمجھنا ہر طالبِ حقیقت کے لیے ضروری ہے۔روحانی تصرف یا کشف و کرامت کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ اولیاء اللہ جب چاہیں، جہاں چاہیں، اور جیسے چاہیں، کشفاً دیکھتے رہیں یا تصرف کرتے رہیں۔ ایسا عقیدہ نہ صرف حقیقت سے بعید ہے بلکہ توحیدِ خالص کے منافی بھی ہے۔
اصل بات یہ ہے کہ قدرتِ مطلقہ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات کو حاصل ہے۔ وہی ہے جو جب چاہے، جیسے چاہے، اور جہاں چاہے تصرف فرما سکتا ہےاور اگر وہ کسی ولی کے ذریعے کوئی کام کروا دے، تو وہ ولی محض سبب ہوتا ہے، فاعلِ حقیقی نہیں۔جب اللہ چاہتا ہے تو اس دارالاسباب کی دنیا میں وہ اپنے کسی محبوب بندے کے دل میں ایک بات ڈال دیتا ہے۔ جوں ہی وہ ولی توجہ کرتا ہے اللہ اپنے فضل سے وہ کام پورا فرما دیتا ہے یا اس پر کشفاً وہ حالات ظاہر بھی ہو جاتے ہیں اور اسی عمل کو کرامت کہا جاتا ہے۔بلکہ اکثر اوقات کرامت خود صاحبِ کرامت کے لیے بھی باعثِ حیرت ہوتی ہے، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ یہ اس کی اپنی طاقت یا مرضی سے نہیں ہوابلکہ یہ تو محض فضلِ الٰہی ہے، جو کسی سبب سے ظاہر ہوا ۔
یہاں ایک باریک بین اور فکری لحاظ سے نہایت اہم نکتہ توجہ طلب ہے کہ اہلِ اللہ کی زندگی محض ظاہری اعمال تک محدود نہیں ہوتی، بلکہ ان کی باطنی کیفیات، مشاہدات اور واردات اُن حقائق پر مشتمل ہوتی ہیں جو عام عقل و ادراک کی گرفت سے ماورا ہوتے ہیں۔ ان حضرات کے لیے عالمِ شہادت اور عالمِ غیب کے درمیان حجاب اٹھ جاتا ہےجس کی وجہ سے ان پر حقائق آشکار ہونے لگتے ہیں۔
روزمرہ کی زندگی میں ان پر انوارِ الٰہی کی تجلیات نازل ہوتی ہیں، فرشتگانِ رحمت کی زیارت نصیب ہوتی ہے، اور وہ مشاہدات کی دنیا میں ایسے لطائف و اسرار کو دیکھتے ہیں جو ایک عام انسان کے لیے ناقابلِ فہم ہوتے ہیں۔ یہ تمام کیفیات اگر بیان کر دی جائیں، تو عوام الناس کی نگاہ میں ان کا ہر دن کیا ہر لحظہ ایک کرامت سے کم محسوس نہ ہومگر حقیقتِ حال یہ ہے کہ کرامت کی معراج یہ نہیں کہ کوئی خارقِ عادت بات نظر آئے بلکہ اصل کرامت وہ روحانی استقامت ہے جو صاحبِ حال کو باطل کے خلاف سینہ سپر کر دیتی ہے۔ وہ لمحہ جب ایک مردِ حق، اللہ کی عطا سے فتنوں کے سیلاب میں بھی حق کا عَلَم بلند رکھتا ہے، شریعتِ مطہرہ کی حفاظت کرتا ہے اور اپنے کردار سے نورِ نبوی ﷺ کی جھلک دکھاتا ہےبس وہی لمحہ دراصل اس کی سب سے بڑی اور اصل کرامت ہوتا ہے۔
يہ حکمت ملکوتی ، يہ علم لا ہوتی
حرم کے درد کا درماں نہیں تو کچھ بھی نہیں
يہ ذکر نيم شبی ، يہ مراقبے ، يہ سرور
تري خودی کے نگہباں نہیں تو کچھ بھی نہیں



