ڈیرہ غازی خان : سابق چیئرمین لیبر اینڈ ہیومن ریسورس پی ایف سی ڈپاٹمنٹ عامر محمود

ڈیرہ غازی خان : سابق چیئرمین لیبر اینڈ ہیومن ریسورس پی ایف سی ڈپاٹمنٹ ڈسٹرکٹ ڈیرہ غازی خان عامر محمود نے کہا کہ
کشمیر کا مسئلہ ہماری تاریخ کا وہ باب ہے جو 1947 سے آج تک کھلا ہے۔ تقسیم کے فوراً بعد طاقت کے بل پر ہونے والا الحاق، کشمیری عوام کی رائے کے برخلاف، ایک ایسا زخم بن گیا جو آج بھی تازہ ہے۔ یہ محض سرحد کا تنازع نہیں، بلکہ ایک انسانی، اخلاقی اور سیاسی حق کا سوال ہے۔
وقت کے ساتھ یہ جدوجہد مختلف ادوار سے گزری، مگر 1989 کے بعد جب وادی میں عوامی مزاحمت نے نئی شدت اختیار کی تو بھارتی ریاستی جبر، محاصرے، فوجی کاروائیوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔ ہزاروں کشمیری شہید کیے گئے، بے شمار زخمی ہوئے، سینکڑوں گھر اجاڑ دیے گئے، اور ایک بڑی تعداد آج بھی لاپتہ ہے۔ یہ سب ایک ہی بات کی گواہی ہے:
آزادی کی تمنا کسی طاقت سے دبائی نہیں جا سکتی۔
بھارت نے کبھی میڈیا پر پابندی لگا کر، کبھی فوجی طاقت کے زور پر، کبھی سیاسی حق کو معطل کر کے یہ کوشش کی کہ کشمیری آواز خاموش ہو جائے، مگر یہ آواز آج بھی دنیا کے ضمیر کو جھنجھوڑ رہی ہے۔ پاکستان کا مؤقف واضح ہے: کشمیر کے عوام کو ان کا حقِ خودارادیت ملنا چاہیے — وہ حق جس کی ضمانت بین الاقوامی اصول اور اقوامِ متحدہ کی قراردادیں پہلے ہی دے چکی ہیں۔
ہم کشمیریوں کی ثابت قدمی، ان کے حوصلے اور ان کی قربانیوں کو سلام پیش کرتے ہیں۔ ان کی جدوجہد صرف ان کی نہیں، بلکہ ہماری بھی ہے — کیونکہ پاکستان کی سلامتی، وقار اور نظریاتی بنیاد اسی اصول پر قائم ہے کہ ظلم کے مقابلے میں سچ کا ساتھ دیا جائے۔
آج کے دن جب ہم یہ بات دل سے دہرا رہے ہیں، اسی لمحے دنیا بھر میں آڈیو ویژول ورثے کا عالمی دن بھی منایا جا رہا ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ قومیں اپنی تاریخ، اپنی آواز اور اپنی شہادتوں کو محفوظ رکھ کر ہی باقی رہتی ہیں۔ کشمیر کی جدوجہد، پاکستان کی قومی کہانی، اور ہمارے لوگوں کی قربانیاں — یہ سب وہ اثاثے ہیں جنہیں آئندہ نسلوں تک پہنچانا ہمارا فرض ہے۔
اللہ پاکستان کو ہمیشہ باوقار، منظم اور متحد رکھے۔
اور اللہ کشمیر کو آزادی کی صبح دکھائے۔



