چیئرمین مستقبل پاکستان کا ضلع کرم میں جاری خون ریزی کی مذمت

چیئرمین مستقبل پاکستان کا ضلع کرم میں جاری خون ریزی کی مذمت
7دنوں سے جاری لڑائی میں 114 افراد مرچکے ہیں:انجینئر ندیم ممتاز قریشی
پارا چنار میں ایسے واقعات کیوں ہوتے ہیں اس کا کھوج لگانا ضروری ہے:چیئرمین
کے پی کے میں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں، عوام کو حملہ آوروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے:گفتگو
وزیر اعلیٰ صوبے میں پرتشدد واقعات کو روکنے پر توجہ دینے کی بجائے سیاسی لڑائی میں مصروف ہیں:اظہار خیال
وفاقی اور صوبائی حکومت آپسی اختلافات کو ایک طرف رکھتے ہوئے خیبر پختونخوا میں امن و امان کے قیام کو یقینی بنائے
( )چیئر مین مستقبل پاکستان انجینئر ندیم ممتاز قریشی نے خیبر پختونخوا کے ضلع کرم میں جاری خون ریزی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ فریقین کے درمیان جنگ بندی معاہدے کے باوجود جھڑپوں کا سلسلہ تشویش ناک ہے اور ایک ہفتے میں حملوں اور تشدد کے واقعات میں مرنے والوں کی تعداد 114سے زائد ہوگئی ہے مگر اس شرانگیزی پر قابو نہیں پایا جارہا،کے پی کے میں چیک پوسٹوں، مسافر بسوں پر حملے اور کرم میں پائی جانے والی بدامنی اور خون ریزی کے واقعات اس امر کی غمازی کرتے ہیں کہ صوبے میں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں اور لوگوں کو حملہ آوروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے اور صوبائی حکومت کو لوگوں کے جان و مال کے تحفظ کا کوئی احساس نہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور صوبے کی حالت بہتر بنانے،پرتشدد واقعات کو روکنے پر توجہ دینے کے بجائے سیاسی لڑائی میں مصروف ہیں،پارا چنار میں ایسے واقعات کیوں ہوتے ہیں اس کا کھوج لگانا ضروری ہے۔ انجینئر ندیم ممتاز قریشی نے کہا کہ ضلع کرم کے علاقے میں لینڈ ریکارڈ ہی موجود نہیں جس کی وجہ سے مختلف مقامات پر مختلف قبائل اور افراد زمین کے ٹکڑوں کے دعویدار بن جاتے ہیں،یہ دعویدار قبیلے فروعی اختلافات میں بھی الجھے رہتے ہیں اور ان کے درمیان تنازعات کا سلسلہ ایک طویل عرصے سے جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ دہشتگردی، بدامنی، خون خرابے اور امن عامہ کے مسائل سے نمٹنے کیلئے زبانی کلامی مذمتوں کی بجائے وفاقی و صوبائی حکومت آپس کے اختلافات کو ایک طرف رکھتے ہوئے آگے بڑھے تاکہ کے پی کے میں امن و امان کا قیام حقیقی معنوں میں ممکن ہو۔
میڈیا سیل مستقبل پاکستان
30-11-2024



