
پی پی کے ہیومن رائٹس سیل کے زیر اہتمام گورنر ہاوس پشاور سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔
جس میں فرحت اللہ بابر، ایم پی اے احمد کریم کنڈی، ملائیکہ رضا، عالمزیب خان مہمند اور دیگر نے شرکت کی۔
پشاور(نمائندہ فاطمہ جعفر)گلوبل ٹائمز میڈیا یورپ کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے ہیومن رائٹس سیل کے زیر اہتمام گورنر ہاؤس پشاور میں ڈائیلاگ آن جوڈیشل ریفارمز کے عنوان سے چوتھے سیمینار کا انعقاد کیا گیا ۔ جس میں ملک کے عدالتی نظام میں اصلاحات پر بات چیت کی گئی۔تقریب سے پیپلز پارٹی ہیومین رائٹس سیل کے صدر فرحت اللہ بابر ، رکن صوبائی اسمبلی احمد کریم کنڈی ، جنرل سیکرٹری ملائیکہ رضا کے علاؤہ قانونی ماہرین نے خطاب کیا ۔ تقریب میں مختلف قانونی اور سیاسی ماہرین، سول سوسائیٹی کے نمائندوں نے شرکت کی مقررین نے اپنے خطاب میں آئینی ترامیم کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ یہ ترامیم تمام صوبوں میں عدالتی نمائندگی کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئینی عدالتیں ابھی تک میثاقِ جمہوریت کا نامکمل حصہ ہیں اور پیپلز پارٹی بنیادی حقوق اور قانون کی بالادستی کے عزم کو دہرارہی ہے۔مقررین نے اس بات کی نشاندہی کی کہ 50 سے زائد جمہوری ممالک نے آئینی عدالتیں قائم کی ہیں، اور ہر پاکستانی شہری ان ترامیم کا اہم اسٹیک ہولڈر ہے۔ پاکستان لیبر فیڈریشن (PLF) کے صدر نے پیپلز پارٹی کے ہیومن رائٹس سیل کی جانب سے قانونی ماہرین اور سول سوسائٹی کے ساتھ مکالمے کو فروغ دینے کی کوششوں کو سراہااور کہا کہ پارٹی چیئرمین واحد سیاسی رہنما ہیں جو عوام سے مشاورت کے لیے آئینی ترامیم کے مسودے کو شیئر کر رہے ہیں۔ پارٹی عدالتی اصلاحات اور پاکستان میں آئین کی بالادستی کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔انہوں نے کہا کہ مجوزہ آئینی اصلاحات کے حوالہ سے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی کاوشیں لائق ستائش ہیں موجودہ صورتحال میں آئینی عدالت کا قیام انتہائی ضروری ہے انہوں نے کہا کہ مجوزہ چھبیسویں آئینی ترمیم کے ملک قوم اور جمہوری سسٹم پر مثبت اثرات مرتب ہونگے تقریب کے اختتام پر شرکاء نے بھی عدالتی اصلاحات کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور مختلف پہلوؤں پر سیر حاصل گفتگو کی۔



