پاکستان اور افغانستان کی موجودہ کشیدہ صورتحال اور پائیدار حل پر جامع مؤقف

پاکستان اور افغانستان کی موجودہ کشیدہ صورتحال اور پائیدار حل پر جامع مؤقف۔
تحریر:صفدر خان باغی
پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ کشیدگی کی بنیادی وجوہات میں سرحدی انتظام کا مسئلہ، دہشت گرد تنظیموں خصوصاً TTP کی سرحد پار سرگرمیاں، بارڈر پر فائرنگ و تجارتی رکاوٹیں، اور افغان مہاجرین سے متعلق انتظامی چیلنجز شامل ہیں
دونوں اسلامی برادر ھمسایہ ممالک کے درمیان مسلسل بے اعتمادی اور الزام تراشی نے خطے میں امن و استحکام کے امکانات کو متاثر کیا ہے
پاکستان کا مؤقف دو ٹوک واضع ہے کہ موجودہ صورتحال کو صرف جامع سیاسی رابطوں، مشترکہ سکیورٹی تعاون اور باہمی احترام کے اصولوں کے مطابق ہی حل کیا جا سکتا ہے۔ اس سلسلے میں پاکستان درج ذیل اقدامات کو خطے کے امن کے لیے ناگزیر سمجھتا ہے
1۔بارڈر پر فوری اعتماد سازی اور فائر بندی کامستقل نظام دونوں ممالک کے مقامی کمانڈرز کےدرمیان رابطہ اور مشترکہ ہاٹ لائن کے ذریعے سرحدی تناؤ کو کم کرنا۔
2.ٹی ٹی پی TTP اور دیگر شدت پسند گروہوں کے خلاف واضح سکیورٹی تعاون شواہد کی بنیاد پر مشترکہ مانیٹرنگ اور معلومات کے تبادلے کا مضبوط اور تحریری طریقہ کار۔
3.مشترکہ سرحدی نگرانی کامؤثر انتظام دونوں ممالک کے نمائندوں پر مشتمل بارڈر مانیٹرنگ سسٹم تاکہ غلط فہمیوں اوراشتعال انگیزی کی روک تھام ہو سکے۔
4.افغان مہاجرین کے مسئلے کا منظم اور باعزت حل بین الاقوامی اداروں کے ساتھ مل کر مرحلہ وار، قانونی اور انسانی تقاضوں کے تحت واپسی کا عمل آگے بڑھانا۔
5.معاشی اور تجارتی تعاون میں اضافہ بارڈر مارکیٹس، ٹرانزٹ ٹریڈ اور کراسنگ پوائنٹس کی بحالی کےذریعے کشیدگی کو اقتصادی تعاون میں تبدیل کرنا۔
6.طویل المدتی سیاسی مذاکرات سرحدی انتظام، علاقائی سلامتی اور دوطرفہ تعلقات پر بات چیت کے ذریعے مسئلوں کا مستقل حل۔
پاکستان خطے میں امن، ترقی اور باہمی احترام پر مبنی تعلقات کا خواہاں ہے اور امید رکھتا ہے کہ افغانستان کے ساتھ تمام تنازعات کو سفارتی مکالمے اور مشترکہ تعاون کے ذریعے حل کیا جائے گا۔
پاکستان اور افغانستان کے مابین تنازع کے حل کے چند اہم اور بنیادی نکات سرحدی اعتماد سازی
بارڈر پر فوری فائر بندی، رابطہ نظام اور مشترکہ مقامی کمانڈ کنٹرول ٹی ٹی ہی TTP کے خلاف مضبوط موثر تعاون شواہد کی بنیاد پر تحریری سکیورٹی معاہدہ اور مشترکہ مانیٹرنگ کمیٹی جس میں علاقائی عمائدین جرگہ ثاکثان کی نمائندگی سر فہرست نمائندگی غیر سیاسی بنیاد پر ہونے چاہیے
سرحدی نگرانی کا مستقل نظام دونوں برادر اسلامی میں ھمسایہ ممالک کے نمائندوں پر مشتمل مشترکہ بارڈر مانیٹرنگ کمیٹی
افغان مہاجرین کی باعزت اور مرحلہ وار واپسی
*UNHCR کے ساتھ کوآرڈینیشن
کے ذریعے منظم عمل۔
تجارت اور معاشی روابط کی بحالی:
بارڈر مارکیٹس، ٹرانزٹ ٹریڈ اور تجارتی گزرگاہوں کو کھول کر تناؤ کم کرنا۔
طویل المدتی سیاسی مذاکرات:
ڈیورانڈ لائن، سکیورٹی اور علاقائی تعاون پر مرحلہ وار بات چیت۔


