پاور سیکٹر کے گردشی قرضے میں 100ارب روپے اضافے کا خدشہ لمحہ فکریہ ہے:انجینئر ندیم ممتاز قریشی

پاور سیکٹر کے گردشی قرضے میں 100ارب روپے اضافے کا خدشہ لمحہ فکریہ ہے:انجینئر ندیم ممتاز قریشی
وفاقی و صوبائی حکومتی ادارے بجلی واجبات کے 2.56ٹریلین سے زائدکے نادہندہ، ا دائیگی کی جائے:چیئرمین
گردشی قرض کا بوجھ عوام پر ڈالنے کی بجائے حکومت آئی پی پیز معاہدوں پر نظر ثانی اور متبادل ذرائع پر توجہ دے:گفتگو
اس وقت پاور سیکٹر کا گردشی قرضہ 2400 ارب کے لگ بھگ، جون 2025ء تک 2550 ارب روپے سے تجاوز کرجائے گا
چیئر مین مستقبل پاکستان انجینئر ندیم ممتاز قریشی نے کہا کہ بجلی کی قیمت میں مسلسل اضافے کے باوجود پاور سیکٹر کے گردشی قرضے میں 100ارب روپے اضافے کا خدشہ لمحہ فکریہ ہے،ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت پاور سیکٹر کا گردشی قرضہ 2400 ارب روپے کے لگ بھگ ہے جو جون 2025ء تک 2550 ارب روپے سے تجاوز کرجائے گا،گردشی قرض میں اضافے کی وجہ بجلی کا نظام چلانے والی کمپنیوں کو ادائیگیا ں اور حکومتی اداروں کا بل ادا نہ کرنا ہے،اس وقت وفاقی و صوبائی حکومتی ادارے بجلی واجبات کے 2.56 ٹریلین سے زائدکے نادہندہ ہیں ستم ظریفی تو یہ ہے کہ حکومت ان اداروں کے واجبات ادا کرنے کی بجائے عوام پر بجلی بلوں کا بوجھ بڑھا رہی ہے اور اب تو قوم کی ہمت بھی جواب دے چکی ہے مگر اس کے باوجود حکومت اپنی ظالمانہ پالیسیوں پر کمی نہیں لا رہی،توانائی بحران کے خاتمے اور قیمتوں میں کمی کے لئے حکومت کو بجلی کے متبادل ذرائع پر توجہ دیتے ہوئے درآمدی مہنگے ایندھن سے جان چھڑانی ہوگی کیونکہ آئے روز کی مہنگی ہوتی بجلی وجہ سے جہاں گھریلو صارفین کا جینا دو بھر ہوگیا وہاں انڈسٹری بھی تیزی کے ساتھ بند ہورہی ہے۔ان خیالات کا اظہار پاور سیکٹر کے گردشی قرض میں اضافے کے خدشے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ آئی پی پیز کی کیپسٹی پیمنٹس ملکی معیشت پر اضافی بوجھ ثابت ہوچکی ہیں ان کے معاہدوں پر نظر ثانی کرنے کے ساتھ پن اور شمسی توانائی کے منصوبوں پر توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے تاکہ قوم کی مہنگی بجلی سے جان چھوٹ سکے۔انجینئر ندیم ممتاز قریشی نے کہا کہ روز بروز کی بڑھتی ہوئی مہنگائی اور معاشی مسائل میں اضافے کی وجہ سے پاکستان میں خودکشیوں کی شرح سو فیصد بڑھ چکی ہے اس میں کمی کے لئے ضروری ہے کہ حکومت عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرے تاکہ اُن میں زندہ رہنے کی امید بڑھ سکے۔
میڈیا سیل مستقبل پاکستان
10-09-2024



