پانی کی کمی فصلوں کے ساتھ انسانی زندگیوں کیلئے بھی تشویش ناک ہے:انجینئر ندیم ممتاز قریشی

پانی کی کمی فصلوں کے ساتھ انسانی زندگیوں کیلئے بھی تشویش ناک ہے:انجینئر ندیم ممتاز قریشی
70 اور 80 کی دہائی کے بعد ملک میں کوئی بھی بڑا ڈیم تعمیر نہ ہونا پانی کے مسائل کو بڑھا رہا ہے:چیئرمین
ملک میں سالانہ بنیادوں پر آنے والے سیلاب سے لاکھوں کیوسک پانی ڈیمز نہ ہونے کی وجہ سے سمندر کی نذر ہوجاتا ہے:گفتگو
فصلوں کی جدید آبپاشی پر توجہ نہ دینے کی وجہ سے جہاں فی ایکڑ پیداوار میں کمی واقع ہورہی ہے وہاں غذائی بحران بھی بڑھتا جارہا ہے
چیئرمین مستقبل پاکستان انجینئر ندیم ممتاز قریشی کا ملک میں آبی ذخائر میں کمی پر تشویش اور حکومت سے اقدامات کا مطالبہ
چیئرمین مستقبل پاکستان انجینئر ندیم ممتاز قریشی نے کہا کہ ملک کے آبی ذخائر میں کمی تشویش ناک ہے،ارسا رپورٹ کے مطابق خریف کے سیزن میں 30 سے 35 فیصد تک پانی کی قلت کا سامنا ہوسکتا ہے جس کا کپاس،چاول،گنا اور مکئی جیسی اہم نقد آور فصلوں پر منفی اثر پڑے گا، ملک کے دو بڑے ڈیم 70 اور 80 کی دہائی کی تعمیر کئے گئے جب ملکی آبادی 7 سے 8 کروڑ تھی آج آبادی 25 کروڑ کے لگ بھگ ہے مگر پانی کے بنیادی ذخائر تقریباً وہی ہیں جو 50 برس قبل تھے اور نہ ہی فصلوں کی جدید آبپاشی پر توجہ دی جارہی ہے جس کی وجہ فی ایکڑ پیداوار میں کمی واقع ہورہی ہے بلکہ میں غذائی بحران بھی ہرگزرتے دن کے ساتھ بڑھتا جارہا ہے مگر کوئی بھی اس اہم مسئلے پر توجہ دینے کو تیار نہیں ہے۔ان خیالات کا اظہار آبی ذخائر میں کمی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ ملک میں سالانہ بنیادوں پر آنے والے سیلاب سے لاکھوں کیوسک پانی ڈیم نہ ہونے کی وجہ سے سمندر کی نذر ہوجاتا اگر اسے محفوظ بنانے کا بندوبست کر لیا جائے تو پانی میں کمی کے مسئلے پر قابو پایاجاسکتا ہے۔انجینئر ندیم ممتاز قریشی نے کہا کہ فصلوں کے ساتھ انسانی آبادی کیلئے پانی کا مسئلہ سنگین صورتحال اختیار کرتا جارہا ہے اگر حکومت نے اس حوالے سے جنگی بنیادوں پر اقدامات نہ اٹھائے تو پاکستان میں خشک سالی کے خطرات مزید بڑھ جائیں گے۔



