ویلفیئر کالونی: شہر قائد کا ایسا علاقہ جہاں ہر گھر میں ایک "مریض” موجود ہے

(خبر رساں ایجنسیاں): کراچی کے ضلع شرقی کے وسط میں واقع کرنال ویلفیئر کالونی ایک پسماندہ علاقہ ہے، جو غربت کے عذاب کے ساتھ،ساتھ آلودہ ترین پانی کے وبال کا بھی شکار ہے۔ گزشتہ 15 سالوں سے، یہاں کے رہائشی بورنگ کے کھارے پانی پر انحصار کرنے پر مجبور ہیں کیونکہ علاقے میں صاف پانی کی کوئی سہولت موجود نہیں۔ طویل عرصے سے نمکین پانی کے مسلسل استعمال کی وجہ سے ،موجودہ وقت میں کرنال ویلفيئر کالونی کے ہر گھر میں کم از کم ایک "مریض” موجود ہے۔
جلد کی بیماریاں، پتھری، جوڑوں کے مسائل، گردوں کی بیماریاں، نظامِ ہضم کی شکایات اور بالوں کا وقت سے پہلے سفید ہونا یہاں عام ہیں۔ بچوں کی بڑی تعداد خارش اور فنگل انفیکشن میں مبتلا رہتی ہے، جبکہ بالغ افراد دائمی درد اور اعضا کی خرابی سے لڑ رہے ہیں۔
کرنال ویلفيئر کالونی کے رہائشی سجاد قریشی بتاتے ہیں کہ ہمارے علاقے کے ہر گھر میں کوئی نہ کوئی ایسا شخص موجود ہے جو کھارے پانی کے استعمال کی وجہ سے بیمار ہے، سجاد قریشی کا مزید کہنا تھا "فنگل انفیکشن سب سے زیادہ عام ہے، اور اس مرض نے تقریبا ہر شخص کو متاثر کیا ہے۔ ہمیں ان مسائل سے نمٹنے کے لیے مفت طبی کیمپوں کی اشد ضرورت ہے۔”
شہر قائد کے اس پسماندہ ترین علاقے میں "قریشی برادری” آباد ہے، جو غربت کا شکار ہے، اور مہنگے نجی علاج کی استطاعت نہیں رکھتی۔ اکثر لوگ حکومتی اسپتالوں میں موجود ناکافی اور غیر معیاری صحت کی خدمات کی وجہ سے وہاں جانے سے گریز کرتے ہیں، جس کی وجہ سے یہ کمیونٹی قابلِ اعتماد طبی سہولیات سے محروم ہے۔
ان مشکلات کے درمیان، کراچی واٹر اینڈ سیوریج سروسز امپروومنٹ پروجیکٹ (KWSSIP) اور نیشنل رورل سپورٹ پروگرام (NRSP) کے اشتراک سے امید کی ایک کرن روشن ہوئی ہے۔ کرنال ویلفيئر کالونی میں ایک پروجیکٹ کا آغاز ہوا ہے جسے ورلڈبینک کی فنڈگ حاصل ہے۔ اس پروجیکٹ میں صاف پانی کی فراہمی، خراب سیوریج نظام کی بحالی، اور کمیونٹی کو متحرک کرنے (Community Mobilization) جیسے اہم امور شامل ہیں۔
"ہم ان اقدامات کے لیے شکر گزار ہیں۔ صاف پانی اور مناسب سیوریج صرف ضروریات نہیں بلکہ ہر انسان کا حق ہیں۔ یہ کوششیں ہماری برادری کے لیے امید کا باعث ہیں جو طویل عرصے سے مشکلات برداشت کر رہی ہے،” ان خیالات کا اظہار علاقے کے ایک اور رہائشی رمضان قریشی کی جانب سے کیا گیا۔
ویلفیئر کالونی کی صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ پسماندہ علاقوں میں صاف پانی اور قابلِ رسائی طبی سہولیات کی کتنی اشد ضرورت ہے۔ مسلسل تعاون اور مستقل اقدامات کے ساتھ، امید کی جا سکتی ہے کہ یہ نظرانداز کیا گیا علاقہ اپنی دیرینہ مشکلات پر قابو پا سکے گا اور صحت مند زندگیوں اور روشن مستقبل کی راہ ہموار ہوگی۔



