*وفاقی حکومت کے قرضوں میں 3ہزار 922ارب کا اضافہ لمحہ فکریہ ہے:انجینئر ندیم ممتاز قریشی*

*وفاقی حکومت کے قرضوں میں 3ہزار 922ارب کا اضافہ لمحہ فکریہ ہے:انجینئر ندیم ممتاز قریشی*
*حکمران عوامی اجتماعات میں تو کفایت شعاری کی باتیں کرتے ہیں مگر خود عمل نہیں کرتے:چیئرمین*
*قرضوں میں اضافے کے باوجود عوام کو درپیش معاشی مسائل کم ہونے کی بجائے بڑھتے جارہے ہیں:گفتگو*
*ملک پر قابض حکمران اپنی بھری ہوئی تجوریوں کو مزید بھرنے کی بجائے ملک اور قوم کے بارے میں نہیں سوچ رہے*
*چیئرمین مستقبل پاکستان انجینئر ندیم ممتاز قریشی کا وفاقی حکومت کے مقامی قرضوں میں اضافے پر تشویش کا اظہار*
( )چیئرمین مستقبل پاکستان انجینئر ندیم ممتاز قریشی نے کہا کہ وفاقی حکومت کے قرضوں میں 3ہزار 922ارب روپے کا اضافہ لمحہ فکریہ اور شاہانہ طرز حکمرانی کا منہ بولتا ثبوت ہے،حکمران عوامی اجتماعات میں تو کفایت شعاری اور سادہ طرز زندگی کی باتیں کرتے ہیں مگر ذاتی اخراجات میں کمی لانے کی بجائے اُن میں اضافے کے مرتکب ہوتے ہیں جس کی وجہ سے ملکی قرضوں میں نا صرف روز بروز اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے بلکہ ٹیکسوں کی شرح میں اضافے کی صورت میں قوم کو اضافی بوجھ الگ سے برداشت کرنا پڑرہا ہے،ستم ظریفی تویہ ہے کہ مقامی اور بیرونی قرضوں میں اضافے کے باوجود عوام کو درپیش معاشی مسائل کم ہونے کی بجائے بڑھتے جارہے ہیں،سٹیٹ بینک کے مطابق دسمبر 2023ء میں وفاقی حکومت کے قرضوں کا حجم 65ہزار 195ارب روپے تھا جس میں مقامی قرضہ 42ہزار 595ارب روپے اور غیر ملکی قرضہ 22ہزار 600ارب روپے تھا،اتحادی حکومت کو چاہیے کہ وہ قرض در قرض کی فرسودہ روایات کو بدلتے ہوئے خودانحصاری کی طرف بڑھے آخر ملک کب تک یونہی آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک سمیت دیگر مالیاتی اداروں کے سہارے آگے بڑھتا رہے گا اور عوام یونہی ان اداروں کی کڑی شرائط کی بھینٹ چڑھتی رہے گی حکمرا ن طبقہ کو ہوش کے ناخن لینے ہوں گے۔ان خیالات کا اظہار وفاقی حکومت کے مقامی قرض میں اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان وسائل سے مالا مال ملک ہے مگر اس کے باوجود ملک کا شمار مقروض اور ترقی پذیر ممالک میں ہورہا ہے اگر حکمران اپنی بھری ہوئی تجوریوں کو مزید بھرنے کی بجائے جذبہ حب الوطنی سے آگے بڑھیں تو نا صرف پاکستان خوشحال ہوجائے گا بلکہ مقامی و بیرونی قرضوں سے بھی جان چھوٹ جائے گی۔
میڈیا سیل مستقبل پاکستان
23-12-2024



