کالم/مضامین

وطن عزیز میں قانونِ وراثت اسلامی ہے اس قانون میں اتنا توازن ہے کہ کسی کے ساتھ نا انصافی

وطن عزیز میں قانونِ وراثت اسلامی ہے اس قانون میں اتنا توازن ہے کہ کسی کے ساتھ نا انصافی نا ممکن ہے۔لیکن آج جب ہم جائیداد کی تقسیم پر دست و گریباں ہوتے ہیں تو یہ ہمارے اندر کی بدنیتی ہے۔اگر ہم کسی کی حق تلفی کرتے ہیں،طلاق دینے کے بعد اپنے جملوں کا رد و بدل کر کے فتوی لیتے ہیں ایسا کرنا بہت بڑا جرم ہے۔اس طرح کرنا حق کو باطل کے ساتھ گڈ مڈ کرنے کے مترادف ہے۔یاد رکھیں ضروریات دین کا جاننا ہم سب پر فرض ہے کیونکہ ان مسائل کو جانیں گے توعمل کرپائیں گے۔
امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ کا جمعتہ المبارک کے روزخطاب۔
انہوں نے کہا کہ وضو،نماز اور بنیادی ارکان اسلام پر صحیح عمل کرنے کے لیے ان مسائل کا جاننا ضروری ہے۔اپنے گھروں میں جہاں ہم دنیاوی تعلیم کا اہتمام کرتے ہیں وہاں دینی مسائل سے آگاہی ہونا بھی بہت ضروری ہے۔جب تک وضو کا ایک ایک حصہ سمجھ کر نہ کیا جائے تو نما زکی ادائیگی ہی نہیں ہو گی۔اگر نماز میں ایسا عمل ہو جائے جو نماز کو باطل کر دے تو نماز پڑھتے ہوئے وہ نہ پڑھنے کے برابر ہوگی۔اس لیے روزانہ دس سے پندرہ منٹ گھر میں ایک پریڈ ایسا ہونا چاہیے جس میں دینی مسائل سے آگاہی ملے۔
انہوں نے مزید کہا کہ شریعت اسلامی میں ایسی بات جو دین اسلام میں نہیں ہے اس کو تبدیل کر کے مخلوق کو بتایا جائے یہ اللہ پر جھوٹ باندھنے کے مترادف ہے۔یہ علماء کی ذمہ داری ہے کہ ایسے مسائل میں انتہائی باریکی سے دیکھ کر راہنمائی فرمائیں۔کیونکہ عام آدمی صرف قرآن کریم کا ترجمہ پڑھ کر عمل نہیں کر سکتا جب تک اس کے معنی و مفاہم کی راہنمائی اجماع اور اسوہ رسول ﷺ سے نہ ملے۔
اللہ کریم عمل کی توفیق عطا فرمائیں اور صحیح شعور عطا فرمائیں۔

آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی۔

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You