سائنس اور ٹیکنالوجی

میں نے آپکو کئی کائناتی سفر کرائے ہیں جو عموماً زمین سے اوپر خلاؤں کے سفر تھے

کائنات کا خوردبینی سفر
تحریر:محمد یاسین خوجہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں نے آپکو کئی کائناتی سفر کرائے ہیں جو عموماً زمین سے اوپر خلاؤں کے سفر تھے
مگر آج میں آپ کو ایک انوکھا سفر کرانے لگا ہوں
کائنات میں موجود ہر مادی چیز انتہائی چھوٹے ذرات "ایٹم” سے ملکر بنی ہے
چاہے وہ ایک ریت کا ذرہ ہو یا اربوں نوری سال لمبی کوسمک ویب ہو۔۔۔
میرے ساتھ تصور کیجئے کہ آپ ایک ریت کے ذرے سے بھی چھوٹے ہو کر اُس میں گھس
گئے ہیں اور کیا دیکھتے ہیں
اس ریت کے ذرے کے اندر لاکھوں چھوٹے چھوٹے نےذرات نے ہلچل مچا رکھی ہے۔۔۔
یہ ایٹم ہیں
ایٹم اسقدر چھوٹے ہوتے ہیں کہ ایک ریت کے ذرے میں یہ لاکھوں کی تعداد میں سما سکتے ہیں
ایک انسان کا جسم اربوں ایٹموں کے ملنے سے بنتا ہے تو سوچیں زمین کتنے ایٹموں سے بنی ہے
اس سے ہزار گنا بڑا سیارہ مشتری کتنے ایٹموں سے بنا ہے اور اس سے 13لاکھ گنا بڑا سورج کتنے ایٹموں کا مجموعہ ہوگا؟
کہکشاں، کلسٹر، سپر کلسٹر
اور پھر قابلِ مشاہدہ کائنات میں موجود تمام مادے میں کتنے ایٹم ہوں گے؟
ہے ناں دماغ ہلا اور دل دہلا دینے والی بات؟
اسقدر پیچیدہ طریقے سے ہر چیز کی تشکیل
ہوئی ہے
ہمارے سفر کے ابتدائی مرحلے میں ہی
ہمارے دماغ کی چولیں ہل گئیں۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کائنات کے تحقیقاتی سفر میں ہمارے ہاتھ حیرتوں
اور الجھنوں کے سوا کچھ نہیں آتا۔۔
کائنات میں موجود ایٹمز کی اقسام کا تعین پیروڈک ٹیبل (Periodic Table) میں موجود عناصر سے ہوتا ہے۔ اب تک دریافت شدہ عناصر کی تعداد 118 ہے، جن میں سے 92 عناصر قدرتی طور پر پائے جاتے ہیں اور باقی مصنوعی طور پر لیبارٹریز میں تخلیق کیے گئے ہیں۔
یہ عناصر چار مختلف حالتوں میں پائے جاتے ہیں
جن کا زیادہ تر انحصار درجہ حرارت اور دباؤ پر ہوتا ہے
1. ٹھوس (Solid): زیادہ تر دھاتیں اور کئی غیر دھاتی عناصر (جیسے کاربن، سلفر) عام حالات میں ٹھوس حالت میں ہوتے ہیں۔
2. مائع (Liquid): صرف چند عناصر قدرتی طور پر مائع حالت میں موجود ہیں، جیسے پارا (Mercury) اور برومین (Bromine)۔
3. گیس (Gas): ہائیڈروجن، ہیلیم، آکسیجن، نائٹروجن، اور دیگر کئی گیسیں عام حالات میں گیس کی شکل میں موجود ہوتی ہیں
4. پلازمہ (Plasma): اعلیٰ توانائی والے حالات (جیسے ستاروں کے مراکز) میں زیادہ تر عناصر پلازمہ کی شکل اختیار کر لیتے ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کائنات کی ہر چیز جب 118قسم کے عناصر سے مل کر بنی ہے تو یہ اتنی مختلف صورتوں میں کیسے ڈھل جاتی ہیں؟
اور ایٹم کس قوت کے زیر اثر ایک جسم کے اندر باؤنڈ ہوجاتے ہیں؟
مادی اشیاء میں ایٹمز کے باؤنڈ ہونے اور مختلف اشیاء کی تشکیل کی بنیادی وجہ کیمیکل بانڈز اور ایٹم کی ترتیب ہے۔ مختلف اشیاء کی خصوصیات کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ انکے ایٹمز کون سے عناصر کے ہیں، وہ ایک دوسرے کے ساتھ کیسے جُڑے ہیں، اور ان کی ترتیب یا ساخت کیسی ہے۔
ایٹمز کے باؤنڈ ہونے کی وجہ درج ذیل قوتیں
ہوتی ہیں
1۔ برقی مقناطیسی قوت (Electromagnetic Force):
وہ بنیادی قوت ہے جو ایٹمز کو ایک دوسرے کے قریب رکھتی ہے۔

کیمیکل بانڈ (Chemical Bond) وہ قوت ہے جو ایٹمز کو ایک دوسرے کے ساتھ باندھتی ہے اور مالیکیولز کی تشکیل کرتی ہے۔ کیمیکل بانڈز کی بدولت ایٹمز ایک ساتھ رہتے ہیں اور مختلف مادے وجود میں آتے ہیں۔ ان بانڈز کی نوعیت اور مضبوطی مختلف مواد کی خصوصیات کو متعین کرتی ہے۔
کیمیکل بانڈ کی اقسام اور وضاحت:
1. کوویلنٹ بانڈ (Covalent Bond):
یہ تب بنتا ہے جب دو یا زیادہ ایٹمز الیکٹرانز کا اشتراک کرتے ہیں۔
مثال کے طور پر:
پانی (H₂O): ہائیڈروجن اور آکسیجن کے درمیان کوویلنٹ بانڈز ہوتے ہیں۔
کاربن کے مرکبات: جیسے گلوکوز، میتھین، وغیرہ۔
یہ بانڈ مضبوط ہوتے ہیں اور زیادہ تر نامیاتی مرکبات (organic compounds) میں پائے جاتے ہیں
2. آئنک بانڈ (Ionic Bond):
یہ بانڈ اس وقت بنتا ہے جب ایک ایٹم دوسرا ایٹم سے الیکٹران چھین لیتا ہے، اور دونوں ایٹمز آئنز (ions) میں تبدیل ہو جاتے ہیں:
مثبت آئن (cation): الیکٹران دینے والا۔
منفی آئن (anion): الیکٹران لینے والا۔
یہ آئنز برقی کشش (electrostatic attraction) کے ذریعے ایک دوسرے کے ساتھ جُڑتے ہیں۔
مثلاً
نمک (NaCl): سوڈیم اور کلورین کے درمیان آئنک بانڈ۔
یہ بانڈ عام طور پر غیر نامیاتی مرکبات میں پایا جاتا ہے۔
3. میٹالک بانڈ (Metallic Bond):
یہ بانڈ دھاتوں (metals) میں پایا جاتا ہے، جہاں الیکٹرانز آزادانہ طور پر حرکت کرتے ہیں اور دھات کے مثبت آئنز کو باندھ کر رکھتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ دھاتیں:
بجلی اور حرارت کی اچھی موصل (conductors) ہوتی ہیں۔
لچکدار اور مضبوط ہوتی ہیں۔
مثال: لوہا (Fe)، تانبا (Cu)، ایلومینیم (Al)۔
4. ہائیڈروجن بانڈ (Hydrogen Bond):
یہ ایک کمزور بانڈ ہے، جو اس وقت بنتا ہے جب ہائیڈروجن کا ایٹم کسی زیادہ برقی منفی (electronegative) عنصر (جیسے آکسیجن، نائٹروجن یا فلورین) کے ساتھ تعامل کرتا ہے۔
ہائیڈروجن بانڈز پانی کی منفرد خصوصیات کا باعث بنتے ہیں، جیسے:
پانی کا مائع رہنا۔
برف کا پانی سے کم کثیف ہونا۔
2۔وین ڈیر والز فورسز (Van der Waals Forces): یہ کمزور قوتیں ہیں جو غیر قبطی مالیکیولز کو ایک دوسرے کے قریب رکھتی ہیں۔۔
یہ عموماً مائع اور گیس میں پائی جاتی ہیں
اور یہ ایٹمز کی ترتیب سے مختلف مالیکیولز بناتی ہے، اور یہی ترتیب اشیاء کی خصوصیات کو متعین کرتی ہے۔ مثلاً:
کاربن ایٹمز:
اگر کاربن ایٹمز مضبوط کوویلنٹ بانڈ کے ذریعے جُڑیں تو ہیرا (Diamond) بناتے ہیں۔
اگر وہ مختلف تہوں میں جُڑیں تو گریفائٹ (Graphite) بنتا ہے۔
لکڑی اور درخت:
لکڑی میں موجود مالیکیولز (سیلولوز، لیگنن وغیرہ) مختلف عناصر (کاربن، ہائیڈروجن، آکسیجن) کے ذریعے مخصوص ترتیب میں جُڑے ہوتے ہیں۔
3۔ بایومالیکیولز (Biomolecules):
جانداروں کے جسم میں موجود اشیاء (پروٹین، چربی، ڈی این اے) پیچیدہ مالیکیولز پر مشتمل ہوتی ہیں، جنہیں خاص بایوکیمیکل ری ایکشنز کے ذریعے تشکیل دیا جاتا ہے۔
مختلف مادی چیزوں کی تشکیل کے چند اسباب:
1. عنصر کی نوعیت (Element Type):
ہر عنصر کے ایٹمز مختلف تعداد میں پروٹونز، نیوٹرونز، اور الیکٹرانز رکھتے ہیں، جو ان کی خصوصیات کو متعین کرتے ہیں۔
2. ایٹمز کی ترتیب (Arrangement of Atoms):
ایٹمز کی ترتیب اور ان کے بانڈز کے زاویے کسی چیز کو سخت (ہیرا)، نرم (لکڑی)، یا موصل (لوہا) بنا سکتے ہیں۔
3. مائیکروسٹرکچر (Microstructure):
مالیکیولز یا کرسٹل کی مائیکروسکوپک ساخت مواد کی خصوصیات پر اثر ڈالتی ہے۔
یعنی
تمام اشیاء بنیادی طور پر ایٹمز سے مل کر بنی ہیں، لیکن ایٹمز کے جُڑنے کے طریقے، ترتیب، اور ان کے درمیان موجود کیمیکل بانڈز ہی یہ تعین کرتے ہیں کہ کوئی چیز لکڑی ہوگی، لوہا، ہیرا، یا پتھر۔ ان قوتوں اور ترتیب کے فرق کی وجہ سے ہی مادی اشیاء اتنی متنوع اور منفرد ہوتی ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آئیے اب خوردبینی سفر کے دوسرے
مرحلے میں داخل ہوتے ہیں
اب ریت کے ذرے میں موجود لاکھوں ذرات میں سے کسی ایک ذرے پر اپنی توجہ مرکوز
کرتے ہوئے اُس ذرے کے اندر گھستے ہیں
تو ہمیں شدید ذہنی جھٹکا لگتا ہے کہ اس ذرے کے اندر بھی چھوٹے چھوٹے ذرات نے اپنی نقل و حرکت سے ایک محفل سی گرم کی ہوئی ہے
یہ خوردبینی ذرے
(ایٹم) مادے کی بنیادی اکائی یا تعمیراتی بلاکس تو ہیں ہی مگر اس سے بھی حیران کن بات یہ ہے کہ یہ مادے کا سب سے چھوٹا ذرہ ہونے کا اعزاز نہیں رکھتے۔۔۔
ایک ایٹم تین بنیادی ذیلی ذرات پر مشتمل ہوتا ہے:
1. الیکٹران (Electron): یہ ایٹم کے بیرونی حصے میں پایا جاتا ہے اور منفی چارج رکھتا ہے۔
2. پروٹان (Proton): یہ ایٹم کے مرکز (نیوکلیئس) میں پایا جاتا ہے اور مثبت چارج رکھتا ہے۔
3. نیوٹران (Neutron): یہ بھی نیوکلیئس میں پایا جاتا ہے لیکن اس کا کوئی چارج نہیں ہوتا
نیوکلیئس کے اردگرد الیکٹران مختلف توانائی کی سطحوں (شیلز) میں گردش کرتے ہیں۔
ایٹم کے بنیادی ذرات میں الیکٹران سب سے ہلکا اور چھوٹا ذرہ ہے۔ اس کا ماس پروٹان اور نیوٹران کے ماس سے بھی بہت کم ہوتا ہے۔۔۔۔۔
اب کیا الکٹران ہی کائناتی مادے کا سب سے چھوٹا ذرہ ہے؟
ہمارا خوردبینی سفر یہی پر اختتام پذیر ہوتا ہے؟
بعض نظریات کے مطابق جواب نہیں میں ہے
ان کے مطابق
کوارک مادے کے سب سے چھوٹے ذرات ہیں
کوارک کے وجود کی پیشگوئی کوارک ماڈل کے تحت کی گئی تھی، جسے میری گیل-مین اور جورج زویگ نے 1964 میں پیش کیا۔ یہ ماڈل اس وقت کی گئی تجرباتی مشاہدات اور نظریات پر مبنی تھا۔
کوارک ایٹم کے ذیلی ذرات پروٹان اور نیوٹران کے اندر پائے جاتے ہیں۔ تجرباتی طور پر کوارک کی موجودگی کو 1968 میں اسٹینفورڈ لینئیر ایکسلریٹر سینٹر (SLAC) میں تصدیق کیا گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کوارک کو سب سے چھوٹا ذرہ کیوں کہا جاتا ہے؟
کیونکہ
یہ مزید کسی چھوٹے ذرے میں تقسیم نہیں ہوتے (کم از کم موجودہ سائنسی علم کے مطابق)۔
کوارک کا سائز اتنا چھوٹا ہے کہ اسے براہِ راست ناپنا ممکن نہیں، یہ الیکٹران کے مقابلے میں بھی زیادہ باریک اور ناقابل تقسیم ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
کوارک ایٹم میں کہاں موجود ہوتے ہیں؟
کوارک ایٹم کے نیوکلیئس (مرکز) میں موجود پروٹان اور نیوٹران کے اندر پائے جاتے ہیں۔

پروٹان: یہ دو اپ کوارک (Up Quarks) اور ایک ڈاؤن کوارک (Down Quark) پر مشتمل ہوتا ہے
نیوٹران: یہ دو ڈاؤن کوارک (Down Quarks) اور ایک اپ کوارک (Up Quark) پر مشتمل ہوتا ہے۔
کوارک ایک دوسرے کے ساتھ گلوآنز (Gluons) کے ذریعے جُڑے رہتے ہیں، جو مضبوط نیوکلیئر قوت کو منتقل کرتے ہیں۔ یہ قوت کوارک کو ایک دوسرے سے الگ ہونے سے روکتی ہے
آپ ہے قرار ہوں گے یہ جاننے کیلئے کہ
اب کیا ہمارا چھوٹے پن کی جانب سفر کوارک پر آ کر ختم ہو جاتا ہے یا نہیں
یعنی۔۔۔کوارک ہی ایٹم کے سب سے چھوٹے ذرات ہیں؟
حالیہ سائنسی تحقیق کے مطابق، کوارک کو بنیادی ذرات (Elementary Particles) میں شمار کیا جاتا ہے اور یہ مزید تقسیم نہیں ہوسکتے۔
اصولاً ہمارا سفر یہیں ختم ہو جاتا ہے
مگر ایک انتہائی پراسرار اور دلچسپ
( سٹرنگ) تھیوری کہتی ہے نہیں ابھی تو آپ نے اس سے بھی چھوٹی چیز کو دیکھنا ہے
انسانی ذہن اُسکے چھوٹے پن کا اندازہ بھی نہیں کر سکتا اس تھیوری کے مطابق، کوارک خود بھی توانائی کے ارتعاشی دھاگوں (Strings) سے بنے ہو سکتے ہیں۔۔۔
اب یہ
سٹرنگز کیا بلا ہیں؟
سٹرنگ تھیوری کے مطابق، ایٹم کے ذیلی ذرات (جیسے الیکٹران، پروٹان) مزید چھوٹے ذرات پر مشتمل ہوتے ہیں جنہیں سٹرنگز کہا جاتا ہے۔ یہ انتہائی باریک توانائی کے دھاگے جیسے ہوتے ہیں جو مختلف انداز میں ارتعاش کرکے ذرات کی خصوصیات (مثلاً ماس اور چارج) کو تشکیل دیتے ہیں۔

سٹرنگز کتنی چھوٹی ہوتی ہیں؟
سٹرنگز کی لمبائی کا اندازہ پلینک اسکیل پر کیا جاتا ہے سٹرنگز اتنی چھوٹی ہوتی ہیں کہ ایٹم کے مرکز (نیوکلیئس) کی جسامت بھی اس کے مقابلے میں بہت بہت بڑی لگتی ہے۔
مثال
اگر ایٹم کو زمین جتنا بڑا تصور کیا جائے تو سٹرنگ کی جسامت ایک درخت کے پتّے کے برابر ہوگی۔
بعض ماہرین تو یوں کہتے ہیں:
اگر ایٹم کو قابلِ مشاہدہ کائنات کے ڈھانچے جتنا بڑا تصور کیا جائے تو ایک سٹرنگ ایک درخت جتنی بڑی ہوگی۔۔۔
۔۔۔ ۔۔۔۔
سٹرنگز کا کام کیا ہے؟
سٹرنگز کی مختلف اقسام اور ارتعاش کا طریقہ مختلف ذرات کی خصوصیات کو طے کرتا ہے، جیسے:
پروٹان اور نیوٹران کا ماس
الیکٹران کا چارج
کشش ثقل، برقی مقناطیسی قوت، اور دیگر بنیادی قوتوں کا عمل۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فرض کیجیئے۔۔!!
اگر ایک ایٹم میں صرف سٹرنگز ہوتیں
تو اس میں کھربوں کھرب سٹرنگز سما سکتی ہیں کیونکہ سٹرنگز کی جسامت ایٹم کے مرکز کے مقابلے میں بھی نہایت چھوٹی ہے۔…..
اب تصور و توجہ اور ارتکاز کی ساری قوتوں کو اکٹھا کر کے ایک سٹرنگ کو پکڑ لیجئے
اور سوچیں
قابلِ مشاہدہ کائنات میں کتنے ایٹم ہوں گے
کتنے اس کے ذیلی ذرات ہوں گے
کتنے کوارکس ہوں گے اور اگر واقعی
میں موجود ہیں تو کِتنی سٹرنگز ہوں گی؟؟؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس لحاظ سے ایک ریت کے ذرے کے اندر کا سفر بھی کافی طویل ہوگیا کیونکہ ریت کے ایک ذرے کی ساخت کی تشکیل بھی انتہائی پیچیدہ عمل ہے
اب بتائیں میں نے جھوٹ تو نہیں کہا کہ
کائناتی تحقیق اور جستجو میں ہمارے ہاتھ سوائے حیرت و استعجاب کے کچھ نہیں آتا۔۔۔۔
بس بن کے رہ جاتے ہیں تصویر پریشانی کی۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
#محمدیاسینـخوجہ

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You