موسمیاتی تبدیلی:انسانی بقاء کیلئے خطرہ

موسمیاتی تبدیلی:انسانی بقاء کیلئے خطرہ!
انجینئر ندیم ممتاز قریشی
پاکستان میں بڑھتی ہوئی موسمیاتی تبدیلی جہاں خوراک کی کمی اور دیگر مسائل میں اضافے کا باعث بن رہی ہے وہاں اس سے انسانی بقاء کو لاحق خطرات بھی ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتے جارہے ہیں۔موسمیاتی تبدیلی سے رونما ہونے والے مسائل کسی ایک ملک تک محدود نہیں ہیں بلکہ اس نے دنیا کے بیشتر ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔دنیا کے ترقی یافتہ ممالک تو موسمیاتی تبدیلی پر قابو پانے کیلئے کوششیں کررہے ہیں مگر اس حوالے سے اسلامی جمہوریہ پاکستان میں کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں اٹھائے جارہے جس کی وجہ سے صورتحال آنے والے دنوں میں مزید گھمبیر ہوتی ہوئی نظر آرہی ہے۔شدید موسمیاتی کیفیات پانی کی کمی کے لیے خطرہ ہونے کے علاوہ، ذرائع آمدن اور زراعت کے لیے بھی تیزی سے خطرات پیدا کر رہی ہیں ہر موسم گرما میں، مون سون کی شدید بارشیں پنجاب اور سندھ کی زرخیز زمینوں میں اچانک سیلاب، جائیداد کو نقصان اور زندگیوں سے ہاتھ دھو بیٹھنے کا سبب بنتی ہیں۔ یہ نتائج ہر سال کے ساتھ ابتر ہو رہے ہیں۔گندم جو کہ پاکستان کی قومی غذا میں فائبر کا بنیادی ذریعہ اور مجموعی طور پر غذائی تحفظ کا ایک اہم تعین کنندہ ہے، ملک میں اس کی کل طلب تقریباً کئی ملین ٹن ہے مگر اس بار گرمی کی لہروں اور کھاد کی بڑھتی قیمتوں کے سبب پہلے سے زیادہ غذائی بحران کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے اور طلب اور رسد کے اس فرق کو ایک غیر مستحکم عالمی منڈی سے گندم کی درآمد کے ذریعے ختم کیا جاتا ہے،یہ ایک ایسا ملک کہ جس کی 40 فیصد آبادی شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہے اس کیلئے تشویش کی ایک سنگین وجہ ہے۔
اقوام متحدہ کی موسمیاتی تبدیلی کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی دنیا کے سمندروں کے تحفظ کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے جس سے انسانی سرگرمیوں کی وجہ سے ہونے والی ماحولیاتی تبدیلیوں سے جاری دیگر خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ سمندروں میں کچھ سنگین تبدیلیوں بشمول سمندروں کے درجہ حرارت،سطح سمندر اور تیزابیت میں اضافے کا باعث بن رہی ہیں۔رپورٹ کے مطابق سمندر طویل عرصے سے انسانوں کی جانب سے زمین پر سب سے زیادہ کاربن اخراج کی وجہ سے ہونے والی ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات کا خمیازہ برداشت کررہے ہیں۔سمندر زمین پر گرمی کا سب سے بڑا سنک ہیں جو موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے 90 فیصد اضافی گرمی جذب کرتے ہیں۔ سمندروں کی طرف سے فضا سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کو جذب کرنے سے ان کی تیزابیت میں اضافہ ہوتا ہے، اسی وجہ سے جہاں آکسیجن کی سطح کم ہو رہی ہے، اس کے ساتھ سمندر کے موجودہ نمونوں میں بڑی تبدیلیاں بھی آ رہی ہیں یہ تبدیلیاں بالآخر سمندری حیاتیاتی تنوع اور ساحلی اور غیر ساحلی کمیونٹیز کی زندگیوں اور معاش پر دیرپا اثرات کا باعث بنتی ہیں، جن میں نشیبی ساحلی علاقوں میں رہنے والے تقریباً 680 ملین لوگ اور دنیا کے بڑے ساحلی شہروں میں سے نصف میں تقریباً 2 ارب لوگ شامل ہیں۔ عالمی معیشت میں سمندروں کا سالانہ 15 کھرب ڈالر کا حصہ ہے اور یہ تعداد 2030 تک دوگنا ہو کر30کھرب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے جوکہ اب موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثر ہوتی ہوئی نظر آرہی ہے۔
غربت اور مہنگائی کی بلند شرح اور بنیادی خدمات تک محدود رسائی کی شکل میں پاکستان پہلے ہی ایک اقتصادی بحران سے دوچار ہے۔ سیاسی عدم استحکام، موسمیاتی تبدیلی اور غذائی عدم تحفظ ملک کے پہلے سے موجود مسائل میں مزید بگاڑ لائے گا، چونکہ ذرائع معاش پر، موسمیاتی تبدیلیاں اثرانداز ہوتی ہیں، ایسے میں داخلی سطح پر ہجرت اور ہزاروں افراد کی نقل مکانی، وسائل پر مبنی تنازعے کا باعث ہو سکتی ہے۔ 2010ء کے تباہ کن سیلاب نے کسانوں کی بڑی تعداد کو کام کی تلاش میں شہروں کی جانب ہجرت پر مجبور کر دیا تھا۔ آنے والے برسوں میں موسم کی بدولت صحت کو لاحق خطرات بھی بڑھ سکتے ہیں جس سے ملک میں صحت کے محدود انفرااسٹرکچر پر بھی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ کراچی میں گرمی کی شدید لہریں ملیریا، ڈینگی اور گیسٹرو کی وبا پھوٹنے کا باعث بن چکی ہیں۔ حکومت کو سماجی اقتصادی مسائل کی دلدل میں گھرے ملک کے لیے ان موسمیاتی تبدیلیوں کو ایک سنگین خطرہ سمجھنے کی ضرورت ہے۔کاربن کے اخراج میں کمی پاکستان کے لیے گلوبل وارمنگ کے اثرات میں کمی لانے کا سبب ہوگی۔ حکومت کو تمام بڑے شہروں میں ماس ٹرانزٹ منصوبے متعارف کروانے اور صارفین کو بجلی سے چلنے والی گاڑیوں پر منتقلی کی ترغیب دینی چاہیے۔ یہ تیل کی درآمد کے بھاری بھرکم بل میں کمی لانے میں بھی مدد دے گا اور تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے سبب ہونے والی مہنگائی سے بھی عوام الناس کو کچھ سکھ ملے گا۔ صارفین کے لیے سولر پینل کے سازوسامان پر سبسڈی کی شکل میں حکومت شمسی توانائی کے لیے ترغیب دلا سکتی ہے، جو بجلی کی رسد پر بڑھتے دباؤ میں کمی میں مدد دے گی۔تاہم موسمیاتی تبدیلی کے معاملے سے تن تنہا حکومت نہیں نمٹ سکتی ہے، لہذا کمیونٹی کی مدد بھی ضروری ہے۔ پاکستانیوں کو موسمیاتی تبدیلیوں کے مضر اثرات اور آبی تحفظ کی اہمیت سے بہتر طور پر باخبر کیا جانا چاہیے اور پاکستان کو ایک ایسی معیشت کی تعمیر پر غور کرنے کی ضرورت ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف زیادہ پائیدار، ہمہ گیریت کی حامل ہو قابل تجدید توانائی کے ذرائع جیسے شمسی اور ہوا کی طاقت میں سرمایہ کاری، توانائی کی کارکردگی کو فروغ دے کر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو کم کرنا اور جنگلات کی کٹائی کو کم کرنا، پانی کی دستیابی کو بڑھانے اور پانی کے ضیاع کو کم کرنے کے لیے پانی کے انتظام کے طریقوں کو بہتر بنانا، انتہائی موسمی واقعات کے لیے ابتدائی انتباہی نظام تیار کرناہوگا
٭٭٭



