موت بر حق ھے مگر انسان غافل ھے۔۔۔۔۔ !!

ٹائٹل : بیدار ھونے تک
موت بر حق ھے مگر انسان غافل ھے۔۔۔۔۔ !!
کالمکار: جاوید صدیقی
قرآن پاک کی سورة آل عمران آیت ١٨٥ کا ترجمہ ھے: جان موت کا مزہ چکھنے والی ہے اور قیامت کے دن تمہیں تمہارے اجر پورے پورے دئیے جائیں گے تو جسے آگ سے بچالیا گیا اور جنت میں داخل کردیا گیا تو وہ کامیاب ہوگیا اور دنیا کی زندگی تو صرف دھوکے کا سامان ہے ۔۔ امام احمد بن حنبل متوفی ٢٤١ ھ اپنی سند کیساتھ روایت کرتے ہیں: حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا دنیا مومن کا قید خانہ ہے اور کافر کیلئے جنت ہے ۔۔ کتاب الزھد ص ٣٧ ۔۔ اسی طرح کفار کو جو مسلمانوں کے ہاتھوں شکست کا سامنا ہوتا ہے یا ان کا جانی اور مالی نقصان ہوتا ہے یہ بہت تھوڑا عذاب ہے ان کو پورا پورا عذاب آخرت میں دیا جائیگا جو دائمی عذاب ہوگا ۔۔۔۔ معزز قارئین!! موضوع پر بات کرنے سے قبل اسی عنوان سے جڑے چند ایک واقعات کا ذکر کرنا لازم سمجھتا ھوں تاکہ میرے قارئین کالم کی روح اساس و مقصدیت جان سکیں، سمجھ سکیں۔ یہ واقعات شوشل میڈیا میں موجود ھیں۔پہلا واقعہ کچھ اس طرح سے ھے بس پہاڑی علاقے سے گزر رہی تھی، اچانک بجلی چمکی، بس کے قریب آئی اور واپس چلی گئی، بس آگے بڑھتی رہیّ، آدھ گھنٹے بعد بجلی دوبارہ آئی، بس کے پچھلے حصے کیطرف لپکی لیکن واپس چلی گئی، بس آگے بڑھتی رہی، بجلی ایک بار پھر آئی وہ اس باردائیں سائیڈ پر حملہ آور ہوئی لیکن تیسری بار بھی واپس لوٹ گئی۔ ڈرائیور سمجھدار تھا، اس نے گاڑی روکی اور اونچی آواز میں بولا”بھائیو بس میں کوئی گناہگار سوار ہے یہ بجلی اسے تلاش کر رہی ہے، ہم نے اگر اسے نہ اتارا تو ہم سب مارے جائیں گے”بس میں سراسیمگی پھیل گئی اور تمام مسافر ایک دوسرے کو شک کی نظروں سے دیکھنے لگے، ڈرائیور نے مشورہ دیا. "سامنے پہاڑ کے نیچے درخت ہے، ہم تمام کے تمام ایک ایک کرکے اترتے ہیں اور درخت کے نیچے کھڑے ہوجاتے ہیں ہم میں سے جو گناہگار ہوگا بجلی اس پر گر جائیگی اور باقی لوگ بچ جائیں گے”یہ تجویز قابل عمل تھی تمام مسافروں نے اتفاق کیا، ڈرائیور سب سے پہلے اترا اور دوڑ کر درخت کے نیچے کھڑا ہوگیا۔ بجلی آسمان پرچمکتی رہی لیکن وہ ڈرائیور کی طرف نہیں آئی وہ بس میں واپس چلا گیا دوسرا مسافر اترا اور درخت کے نیچے کھڑا ہوگیا، بجلی نے اسکی طرف بھی توجہ نہیں دی،تیسرا مسافر بھی صاف بچ گیا، یوں مسافر آتے رہے درخت کے نیچے کھڑے ہوتے رہے اور واپس جاتے رہےیہاں تک کہ صرف ایک مسافر بچ گیا یہ گندہ مجہول سا مسافر تھا کنڈیکٹر نے اسے ترس کھاکر بس میں سوار کرلیا تھا۔ مسافروں نے اسے برا بھلا کہنا شروع کردیا، لوگوں کا کہنا تھا: "ہم تمہاری وجہ سے موت کے منہ پر بیٹھے ہیں، تم فوراً بس سے اتر جاؤ” وہ اس سے ان گناہوں کی تفصیل بھی پوچھ رہے تھے جن کی وجہ سے ایک اذیت ناک موت اس کی منتظر تھی مگر وہ مسافر اترنے کیلئے تیار نہیں تھا لیکن لوگ اسے ہر قیمت پر بس سے اتارنا چاہتے تھے، مسافروں نے پہلے اسے برا بھلا کہہ کر اترنے کا حکم دیا، پھر اسے پیار سے سمجھایا اور آخر میں اسے گھسیٹ کر اتارنے لگے۔ وہ شخص کبھی کسی سیٹ کی پشت پکڑ لیتا تھا کبھی کسی راڈ کیساتھ لپٹ جاتا تھا اور کبھی دروازے کو جپھا مار لیتا تھا لیکن لوگ باز نہ آئے، انھوں نے اسے زبردستی گھسیٹ کر اتاردیا ڈرائیور نے بس چلادی بس جوں ہی "گناہ گار شخص” سے چند میٹر آگے گئی،دھاڑ کی آواز آئی، بجلی بس پر گری اور تمام مسافر چند لمحوں میں جل کر بھسم ہوگئے. وہ "گناہگار مسافر” دو گھنٹوں سے مسافروں کی جان بچارہا تھا ۔۔ دوسرا واقعہ کچھ اسطرح سے ھے ایک صاحب ترکی کےراستے یونان جانا چاہتے تھے۔ایجنٹ انھیں ترکی لے گیا یہ ازمیر شہر میں دوسرے لوگوں کے ساتھ برفباری کا انتظار کرنے لگے۔ سردیوں میں یورپ میں داخلے کا بہترین وقت ہوتا تھا۔ برف کی وجہ سے سیکیورٹی اہلکار مورچوں میں دبک جاتے تھے، بارڈر پرگشت رک جاتا تھا، ایجنٹ لوگوں کو کشتیوں میں سوار کرتے تھے اور انھیں یونان کے کسی ساحل پر اتار دیتے تھے، یہ ایجنٹوں کی عام پریکٹس تھی۔ اس صاحب نے بتایا: "ہم ترکی میں ایجنٹ کے ڈیرے پر پڑے تھے ہمارے ساتھ گوجرانوالہ کا ایک گندہ سا لڑکا تھا وہ نہاتا بھی نہیں تھا، اور دانت بھی صاف نہیں کرتا تھا اس سے خوفناک بو آتی تھی تمام لوگ اس سے پرہیز کرتےتھے ہم لوگ دسمبر میں کشتی میں سوار ہوئے ہم میں سے کوئی شخص اس لڑکے کو ساتھ نہیں لے جانا چاہتاتھا، ہم نےاسے روکنےکی کوشش کی لیکن وہ رونا شروع ہوگیا، ایجنٹ کے پاس وقت کم تھا چنانچہ اس نے اسے ٹھڈا مار کر کشتی میں پھینک دیا۔ کشتی جب یونان کی حدود میں داخل ہوئی، تو کوسٹ گارڈ ایکٹو تھے۔ یونان کے کوسٹ کارڈ کو شائد ہماری کشتی کی مخبری ہوگئی تھی۔ ایجنٹ نے مختلف راستوں سے یونان میں داخل ہونے کی کوشش کی، مگر ہر راستے پر کوسٹ گارڈ موجود تھے اس دوران اس لڑکے کی طبیعت خراب ہوگئی وہ الٹیاں کرنے لگا ہم نے ایجنٹ سے احتجاج شروع کردیا۔ ایجنٹ ٹینشن میں تھا، اسے غصہ آگیا اس نے دو لڑکوں کی مدد لی، اور اس گندے لڑکے کو اٹھا کر یخ ٹھنڈے پانی میں پھینک دیا۔ وہ بے چارہ ڈبکیاں کھانے لگا ہم آگے نکل گئے۔ ہم ابھی آدھ کلومیٹر آگے گئے تھے کہ ہم پر فائرنگ شروع ہوگئی، ایجنٹ نے کشتی موڑنے کی کوشش کی۔ کشتی اپنا توازن برقرار نہ رکھ سکی، اور وہ پانی میں الٹ گئی. ہم سب پانی میں ڈبکیاں کھانے لگے، میں نے خود کو سردی، پانی اور خوف کے حوالے کردیا. جب میری آنکھ کھلی، تو میں اسپتال میں تھا مجھے اسپتال کے عملے نے بتایا "کشتی میں سوار تمام لوگ مرچکے ہیں۔ صرف دو لوگ بچے ہیں” میں نے دوسرے زنده شخص کے بارے میں پوچھا ڈاکٹر نے میرے بیڈ کا پردہ ہٹادیا، دوسرے بیڈ پر وہی لڑکا لیٹا تھا، جسے ہم نے اپنے ہاتھوں سے سمندر میں پھینکا تھا، سمندر کی لہریں اسے دھکیل کر ساحل تک لے آئی تھیں۔ مجھے کوسٹ گارڈز نے بچا لیا تھا جبکہ باقی لوگ گولیوں کا نشانہ بن گئے یا پھر سردی سے ٹھٹھر کر مرچکے تھے. میں پندرہ دن اسپتال رہا. میں اس دوران یہ سوچتا رہا: "میں کیوں بچ گیا”؟ مجھے کوئی جواب نہیں سوجھتا تھا. میں جب اسپتال سے ڈسچارج ہورہا تھا، مجھے اس وقت یاد آیا. میں نے اس لڑکے کو لائف جیکٹ پہنائی تھی۔ ایجنٹ جب اسے پانی میں پھینکنے کے لئے آرہا تھا، تو میں نے فوراً باکس سے جیکٹ نکال کر اسے پہنادی تھی. یہ وہ نیکی تھی جس نے مجھے بچالیا مجھے جوں ہی یہ نیکی یاد آئی، مجھے چھ ماہ کا وہ سارا زمانہ یاد آگیا، جو ہم نے اس لڑکے کے ساتھ گزارہ تھا ہم نہ صرف ترکی میں اس کی وجہ سے بچتے رہے تھے، بلکہ وہ لڑکا جب تک ہماری کشتی میں موجود رہا، ہم سب لوگ کوسٹ گارڈز سے بھی محفوظ رہے، یخ پانی سے بھی، اور موت سے بھی ہم نے جوں ہی اسے کشتی سے دھکادیا، موت نے ہم پراٹیک کردیا. میں نے پولیس سے درخواست کی: "میں اپنے ساتھی سے ملنا چاہتا ہوں” پولیس اہلکاروں نے بتایا: "وہ پولیس وین میں تمہارا انتظار کررہا ہے”میں گاڑی میں سوار ہوا، اور جاتے ہی اسے گلے سے لگالیا مجھے اس وقت اس کے جسم سے کسی قسم کی کوئی بو نہیں آرہی تھی. تب مجھے معلوم ہوا میرے ساتھیوں کو دراصل اس کے جسم سے اپنی موت کی بو آتی تھی. یہ ان لوگوں کی موت تھی، جو انھیں اس سے الگ کرنا چاہتی تھی اور وہ جوں ہی الگ ہوئے، سب موت کی آغوش میں چلے گئے۔ اسی طرح تیسرا واقعہ کچھ اس طرح سے ھے کہ میرے ایک بزرگ دوست جوانی میں ارب پتی تھے، لیکن ان کی زندگی کا آخری حصہ حسرت میں گزرا مجھے انھوں نے ایک دن اپنی کہانی سنائی انھوں نے بتایا: "میرے والد مل میں کام کرتے تھے، گزارہ مشکل سے ہوتا تھا ان کا ایک کزن معذور تھا کزن کے والدین فوت ہوگئے اس کے آگے پیچھے کوئی نہیں رہا میرے والد کو ترس آگیا وہ اسے اپنے گھر لے آئے ہم پانچ بہن بھائی تھے گھر میں غربت تھی اور اوپر سے ایک معذور چچا سر پر آ گرا. والدہ کو وہ اچھے نہیں لگتے تھے وہ سارا دن انھیں کوستی رہتی تھیں۔ ہم بھی والدہ کی وجہ سے ان سے نفرت کرتے تھے لیکن میرے والد کو ان سے محبت تھی وہ انھیں اپنے ہاتھ سےکھانا بھی کھلاتے تھے ان کا بول براز بھی صاف کرتے تھے، اور انھیں کپڑے بھی پہناتے تھے۔ اللہ کا کرنا یہ ہوا ہمارے حالات بدل گئے ہمارے والد نے چھوٹی سی بھٹی لگائی یہ بھٹی کارخانہ بنی اور وہ کارخانہ کارخانوں میں تبدیل ہوگیا، ہم ارب پتی ہوگئے۔ سنہ 1980ء کی دہائی میں ہمارے والد فوت ہوگئے۔ وہ چچا ترکے میں مجھے مل گئے، میں نے انھیں چند ماہ اپنے گھر رکھا، لیکن میں جلد ہی تنگ آگیا۔ میں نے انھیں پاگل خانے میں داخل کرا دیا۔ وہ پاگل خانے میں رہ کر انتقال کرگئے۔ بس ان کے انتقال کی دیر تھی ہمارا پورا خاندان عرش سے فرش پر آگیا۔ ہماری فیکٹریاں، ہمارے گھر اور ہماری گاڑیاں ہر چیز نیلام ہوگئی ہم روٹی کے نوالوں کو ترسنے لگے ہمیں اس وقت معلوم ہوا ہمارے معذور چچا ہمارے رزق کی ضمانت تھے۔ ہم انکی وجہ سے محلوں میں زندگی گزار رہے تھے وہ گئے تو ہماری ضمانت بھی ختم ہوگئی. ہمارے محل ہم سے رخصت ہوگئے، ہم سڑک پر آگئے ۔۔۔۔۔ معزز قارئین!!ہم نہیں جانتے ہم کن لوگوں کی وجہ سے زندہ ہیں؟ ہم کن کی وجہ سے کامیاب ہیں؟ اور ہم کن کی بدولت محلوں میں زندگی گزار رہے ہیں؟ ہم یہ بھی نہیں جانتے ہم کس کو بس سے اتاریں گے؟ ہم کس کو کشتی سے باہر پھینکیں گے؟ اور ہم کس کے کھانے کی پلیٹ اٹھائیں گے؟ اور پھر وہ شخص ہمارا رزق، ہماری کامیابی، اور ہماری زندگی ساتھ لے جائیگا۔ ہم ہرگز ہرگز نہیں جانتے، لہٰذا ہم جب تک اس شخص کو نہیں پہچان لیتے، ہمیں اس وقت تک کسی کو بھی اپنی بس یا کشتی اور گھر سے نکالنے کا رسک نہیں لینا چاہئے۔ کیوں؟ کیونکہ ہوسکتا ہے ہمارے پاس جو کچھ ہو، وہ سب اس شخص کا ہو اور اگر وہ چلا گیا تو سب کچھ چلا جائے، ہم ہم نہ رہیں، مٹی کا ڈھیر بن جائیں ۔۔۔ معزز قارئین!! اللہ تبارک تعالیٰ نے واضع طور پر بتادیا کہ موت سے قبل رزق ختم ھوجاتا ھے۔ زندگی کی طوالت اور خوش حالی کیلئے ان ذرائع ان راہوں پر زیادہ استحکامت کیساتھ رہنے کی ضرورت ھے جو موت کو آسان اور شاندار بنادے۔ موت برحق ھے ایک روز لازمی آئیگی مگر موت کی تیاری اور خوبصورتی کیلئے اللہ نے نسخہ ھمیں اپنے پیارے حبیب ﷺ کی اطاعت و پیروی و فرمانبرداری میں رکھا ھے وہ نسخہ نیکی ھے۔ نیکی بیشمار انداز سے کی جاتی ھیں جب ہر بندہ نیکی کے امور پر کاربند ھوجاتا ھے تو معاشرے اور ریاست سے بے چینی، بے امنی و بے سکونی، بے یقینی اور شرارت، خباثت، غلاظت، منافقت اور منفی کردار کا خاتمہ یقینی ھوجاتا ھے، نیکیوں کا عمل شہنشاہ کے دربار سے غریب مسکین دروازے تک پھیلنے سے رحمت، برکت اور فضیلت کے سائے پھیل جاتے ہیں، نیکیوں کے سبب انصاف بلند مقام پر نظر آتا ھے، نیکیوں کے سبب انسانیت فروغ پاتی ھے، نیکیوں کے سبب شرح اموات قلیل ھوجاتی ھیں، ھمارے ملک پاکستان میں صدر، وزیر اعظم، وزراء، مشیران، نوکر شاہی طبقہ، سیاستدان، وکیل و پولیس افسران گو کہ ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے ہر ایک نیکیوں کو اپنا عادت بنالیں اور ہر چھوٹی بڑی نیکی کرنے میں پہل کرتے رہیں تو کوئی شک نہیں ھمارا معاشرہ گلشن کی طرح ہرا بھرا، ترو تازہ، مہکتا، روشن اور خوشحال نظر آئیگا۔ یاد رھے نیکی کو سمجھنا بہت ضروری ھے نیکی خالصتاً اللہ ﷻ اور اس کے حبیب ﷺ کی رضا کیلئے کیجاتی ھیں اور نیکی کا بدل، صلہ رب العزت عطا کرتا ھے۔ یہ یقین ہونا لازمی ھے نیکی کیلئے کوئی شرط نہیں ھوتی نیکی دشمن اور غیر مسلم کے ساتھ بھی کی جاتی ھے، نیکی ہر اچھے عمل کو کہتے ہیں، جس سے دوسرے کو ھماری ذات سے مالی، روحانی، جسمانی اور ہر طرح کا فائدہ ہہنچے۔دعا ھے کہ اللہ ھم سب کو نیکو کاروں میں شامل فرمائے آمین یا رب اللعالمین نیکی کے عادی بندوں کی موت بہت خوبصورت شاندار باوقار ھوتی ھے۔۔۔ !!



