منشیات کے خلاف پاکستان کی جنگ-مضمرات اور چیلنجز

منشیات کے خلاف پاکستان کی جنگ-مضمرات اور چیلنجز
ڈاکٹر ثناء عمران
افغانستان میں تیار ہونے والی منشیات صرف اس کی سرحدوں تک محدود نہیں رہتیں، بلکہ یہ خطے اور دنیا بھر میں پھیل جاتی ہیں۔ افغانستان کے ساتھ 2611کلومیٹر طویل سرحدہونے کی وجہ سے پاکستان،افغانستان سے آنے والی منشیات کا سب سے پہلے شکار ہوتا ہے ۔ اپنی جغرافیائی لوکیشن کی وجہ سے منشیات کی بین الاقوامی اسمگلنگ کیلئے، “ٹرانزٹ اور شدید متاثر ریاست” ،کے طور پر استعمال ہونا , پاکستان کو معاشی اور معاشرتی تکلیفات میں بھی مبتلا کرتا ہے۔ ان تمام مشکلات کے باوجود، پاکستان منشیات کے خلاف اپنی جدوجہد میں ثابت قدم رہتے ہوئے ،دنیا کو منشیات سے پاک کرنے کے عزم پرڈٹّا رہتا ہے۔ منشیات کے خلاف جنگ میں پاکستان، علاقائی اور عالمی سطح پر اپنا حصہ ڈالتاہے۔ صرف سال2024 کے دوران پاکستان نے 361 میٹرک ٹن منشیات ضبط کیں ، جن کی مالیت یو ایس ڈالرز میں بیس بلین سے زیادہ بنتی ہے۔
پاکستان کی افغانستان کیساتھ جغرافیائی ہمسائیگی، اسے دہشت گردی، اسمگلنگ اور منشیات کی تجارت جیسے خطرات سے دوچار رکھتی ہے۔ افغانستان دنیاکی کُل منشیات کا ۴۰ فیصداور افیون کی پیداوار کا ۹۰ فیصد پیدا کرتاہے۔ افغانستان میں تیار ہونے والی منشیات کے پھیلاؤسے، پوری دنیا بالخصوص جنوبی اور مغربی ایشیا پرمنفی اثرات مرتب ہوتے ہیں جوکہ خلیجی ریاستوں کے ذریعے یورپ اور امریکہ کو بھی متاثر کرتے ہیں- ایک انتہائی پیچیدہ جیوگرافی کا حصہ ہونے کے باوجود اور اندرونی و بیرونی چیلنجز کے ساتھ بھی، پاکستان ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر منشیات کے خلاف جنگ میں ہمیشہ سے نمایا ں کردار ادا کرتاآرہا ہے
پاکستان منشیات اسمگلنگ کے بدنام زمانہ’جنوبی راستے'(Southern Route) پرواقع ہے، جو افغانستان میں بننے والی منشیات کے مضر اثرات سے ہمیشہ متاثر رہتا ہے۔ مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث عناصر اور منشیات مافیا کے درمیان بڑھتی ہوئی شراکت داری اور منشیات کی تجارت سے منسلک بھاری اقتصادی فوائد، صورتحال کو مزید پیچیدہ بناتے ہیں، نتیجتاً ڈیمانڈ اور سپلائی کی جزئیات تبدیل ہو جاتی ہیں جس کا منفی اثر معاشرہ پر عدم استحکام کی صورت میں پڑتاہےساتھ ہی قانون نافذ کرنے والے اداروں (LEAs) کو مزید چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔اس سب سے ظاہر ہوتا ہے کہ منشیات کے خلاف پاکستان کی جنگ انتہائی مشکل حالات میں پُر عزم طریقے سے لڑی جارہی ہے
قومی انسدادِ منشیات پالیسی – 2019 کے تحت، پاکستان اپنے معاشرے کو نشے کی لعنت سے آزاد کرنے کے لیے کوششیں کررہاہے۔ پاکستان کی منشیات کے پھیلاؤ کے خلاف کاوشوں کو عالمی ادارے جیسے اقوام متحدہ کا ادارہ برائے منشیات و جرائم (UNODC)، اقوام متحدہ کی منشیات کے حوالے سے کمیشن (CND)، امریکی ڈرگ انفورسمنٹ ایڈمنسٹریشن (DEA)،برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (NCA) اور انٹرپول وغیرہ سب تسلیم کرتے ہیں۔
یہاں پر افغانستان میں منشیات کی صورتحال کا جائزہ لینا بھی نہایت ضروری ہے۔ 2022 میں عبوری افغان حکومت نے پوست کی کاشت پر پابندی عائد کی تھی۔ جس کے نتیجے میں افغانستان میں پوست کی کاشت میں 95فیصد نمایاں کمی واقع ہوئی۔ جو 2022 میں 232,000 ہیکٹر سے کم ہو کر 2023 میں صرف 10,800 ہیکٹر رہ گئی تھی اور جس کا ذکر UNODC رپورٹ -2024 میں بھی کیا گیا ہے ۔ تاہم، اس پابندی کے ساتھ دس ماہ کی رعایتی مدت بھی افغان حکومت کی جانب سے دی گئی تھی جس عرصے میں پہلے سے موجود تیار شدہ منشیات کو فروخت کرنے کی اجازت شامل تھی۔ نتیجتاً منشیات کی قیمتوں میں ڈیمانڈ بڑھنے اور سپلائی کم ہوجانے کی وجہ سے کئی گنا اضافہ ہوا اور یوں موجودہ اسٹاک پر ڈھیروں منافع کمایا گیا
UNODC کی رپورٹ کے مطابق2022 میں پوست کی کاشت پر پابندی انتہائی غیر موثر ثابت ہوئی کیونکہ اس کے بعد افغانستان میں پوست کی کاشت دوبارہ19فیصد تک بڑھکر 12,800 ہیکٹر تک پہنچ گئی، اسی طرح افیون کی پیداواربھی 433 میٹرک ٹن تک پہنچ گئی۔ مزید برآں، افغانستان میں پوست کی کاشت شمال مشرقی علاقوں میں اور زیادہ پھیل گئی بالخصوص صوبہ بدخشاں میں 300 فیصد سے زیادہ اضافہ دیکھنے کو ملا۔ *دراصل یہ اس خطے میں پوست کی کاشت میں اضافے کی اصل کہانی ہے جس کے مطابق پوست کی کاشت اور افیون کی پیداوار میں اتار چڑھاؤ ،افغانستان میں ہی مرکوز ہے اوریقینی طور پر پاکستان کا اس سے کوئی تعلق نہیں بنتاہے * ۔
افغانستان ایک طرف عالمی سطح پر افیون کا ۹۰ فیصد سے زائد حصہ پیدا کررہا ہے جبکہ دوسری طرف پاکستان نے 2001 سےآج تک عالمی سطح پر پوست سے پاک ریاست کا درجہ برقرار رکھا ہوا ہے۔
افغانستان سے متصل پاکستان کے دشوار گزار سرحدی علاقوں میں معمولی سطح پر پوست کی کاشت ظاہر ہونے پر حکومت پاکستان ہر سال پوست کو تلف کرنے کی مہم (Poppy Eradication Campaign) کے ذریعے اُسے فوراً ختم کردیتی ہے۔2024/25 کی پوست تلف کرنے کی مہم کے دوران پاکستان نے بلوچستان، خیبر پختونخوا اور سندھ کے دور دراز علاقوں میں فصلوں کو تلف کیا۔ان فصلوں کی نشاندہی کیلئے کے لیے جدید نگرانی کےذریعوں جیسےکہ سیٹلائٹ امیجری کا استعمال کیا گیا۔ پوست کی فصلوں کے خاتمے کے لیے ڈرون، ٹریکٹر ،زرعی مشینری اور ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا۔ دور دراز اور ناقابل رسائی علاقوں میں، پوست کی فصلوں پرفضائی اسپرے کرکے فصلوں کو تلف کیا گیا۔ پاکستان میں پوست کی کاشت کے خلاف آپریشنز محض علامتی نہیں تھے بلکہ یہ منظم اعدادوشمار سے ثابت اور زمین پر تصدیق شدہ تھے۔ اس وقت بھی ،2025/26میں کاشت ہونے والی پوست اپنے ابتدائی مراحل میں ہے، جہاں وفاقی اور صوبائی ادارے کاشت سے پہلے ہی احتیاطی تدابیر پر مشترکہ لائحہ عمل تیار کر چُکے ہیں۔
سال ۲۰۲۵ میں بھی پاکستان نے مختلف اقسام کی منشیات جیسے ہیروئن، حشیش اور مصنوعی منشیات میتھ ایمفیٹامائن کی انتہائی کثیرمقداریں ضبط کی ہیں جنکی قیمت غیر قانونی مارکیٹوں میں اربوں ڈالر بنتی ہے ۔ اگر پاکستان کے اداروں کی جانب سے اسمگلنگ کی راہ میں یہ مداخلت نہ کی جاتی ، تو یہ منشیات عالمی سطح تک پھیل جاتیں، اور بین الاقوامی سطح پر منشیات کی لت اور جرائم کیلئے غیر قانونی سرمایہ کو بڑھانے کا باعث بنتیں ۔ پاکستان نے نہ صرف منشیات کی اسمگلنگ روکنے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے، بلکہ منشیات اسمگلنگ کے نیٹ ورکس کے خلاف بھی ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار ثابت ہوا ہے۔
پاکستان کی ۲۴۱ ملین آبادی میں سے ۱۷۰ ملین افراد ، ۱۸سے ۳۵ سال کی عمر کے نوجوان ہیں۔ نوجوانوں کی اتنی بڑی تعدادکی وجہ سے پاکستان منشیات کی طلب میں کمی لانے کے لیے آگاہی مہمات اور معاشرے کی مدد سے منشیات کے پھیلاؤ کو روکنے کی ہر ممکن کوشش کر رہا ہے۔ پاکستان کی اینٹی نارکوٹکس فورس (ANF)مصنوعی منشیات خاص طور پر آئس کے خلاف ملک گیر مہم کی قیادت کر رہی ہے۔ تعلیمی اداروں پر خصوصی توجہ مرکوزکرتے ہوئے منشیات مخالف ایک منظم مہم چلائی جا رہی ہے تاکہ یونیورسٹیوں، کالجوں اور اسکولوں کو منشیات اور نشہ آور اشیاء سے پاک کیا جا سکے۔ ANFکی جانب سے اسلام آباد، کوئٹہ، کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں منشیات کے عادی افرادی کی بحالی کے مراکز بھی قائم کئے گئے ہیں، جہاں منشیات کے عادی افراد کو مفت علاج کی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں ۔ان تمام اقدامات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر منشیات کے مسئلے سے لاپرواہ نہیں ہے، بلکہ یہ ریاست اپنے شہریوں اور عالمی ذمہ داریوں کی حفاظت کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔
پاکستان کا پیغام واضح ہے: یہ ایک ذمہ داراور خود مختار ریاست ہے، جو اپنے شہریوں اور اقوام عالم کو منشیات کے ناسور سے بچانے کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرے گی۔ ہر سال بڑی مقدار میں منشیات کی ضبطگی اورپوست کی کاشت کا خاتمہ، اور 2001 سے مسلسل پوست سے پاک ملک ہونے کا درجہ، پاکستان کی منشیات کیخلاف غیر متزلزل عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ عالمی برادری کوبے بنیاد الزمات کی بجائے منشیات کے مسئلے کو مؤثر طریقے سے حل کرنے کے لیے پاکستان کی ان کوششوں کو تسلیم کرنا چاہیے اور اُس کی بھر پور مدد کرنا چاہیے ۔
ڈاکٹر ثنا عمران اسلام آباد کی ایک مشہور یونیورسٹی میں درس و تدریس کے شعبے سے منسلک ہیں ۔ رابطہ chivalier37@gmail.com پر کیا جاسکتا ہے ۔




