ملیر 15 احتجاجی دھرنے میں زخمی علی رضا رضوی چار روز مقامی اسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے
*ملیر 15 احتجاجی دھرنے میں زخمی علی رضا رضوی چار روز مقامی اسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہوگئے*
*نماز جنازہ مین نیشنل ہائی وےروڈ پرادا،تدفین وادی حسین قبرستان میں سینکڑوں عمائدین کی موجودگی میں کی گئی*
*نماز جنازہ میں علامہ حسن ظفر نقوی، باقر عباس زیدی، علامہ مختار امامی،علامہ صادق جعفری سمیت عمائدین کی بڑی تعداد موجود*
*شہید علی رضا رضوری نے پاراچنار کے مظلومین کیلئے اپنی جان دی، علامہ حسن ظفر نقوی*
*ملت جعفریہ سندھ حکومت پیپلزپارٹی کی اس بر بریت کوہمیشہ یاد رکھے گی، مرکزی رہنما ایم ڈبلیو ایم*
*قتل اورپر امن دھرنوں پر تشدد،بربریت کرنے والی سندھ حکومت کے خلاف مقدمات درج کر وائیں گے، مرکزی رہنما ایم ڈبلیو ایم*
کراچی (رپورٹ: جاوید صدیقی) کراچی کے علاقے ملیر پندرہ میں احتجاجی دھرنے میں زخمی علی رضا رضوی چار روز مقامی اسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہوگئے۔ شہید ہونے والے علی رضا رضوی کی نماز جنازہ مین نیشنل ہائی وے ملیر پندرہ روڈ پر ادا کردی گئی۔ نماز جنازہ میں مرکزی رہنما ایم ڈبلیو ایم علامہ حسن ظفر نقوی، باقر عباس زیدی، علامہ مختار امامی، علامہ صادق جعفری، علامہ شبیر حسن میثمی، علامہ مبشر حسن، اسد اقبال، علامہ علی انور، علامہ راحت، مولانا موسیٰ علی، مولانا گلزار حسین سمیت مختلف شیعہ تنظیموں کے رہنما شخصیات، علما ء اکابرین سمیت عمائدین کی بڑی تعداد موجود تھی۔ عمائدین نے سندھ حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور قتل کا ذمہ دار سندھ حکومت کو قرار دیا۔ نماز جنازہ علامہ شبیر میثمی نے پڑھائی۔ شرکاء سے خطاب میں مرکزی رہنما ایم ڈبلیو ایم علامہ حسن ظفر نقوی کا کہنا تھا کہ شہید علی رضا رضوری نے پاراچنار کے مظلومین کیلئے اپنی جان دی۔ وہ پرامن احتجاجی دھرنے میں احتجاج کررہے تھے۔ پولیس و رینجرز نے شرکاء پر فائرنگ کی۔ ملت جعفریہ سندھ حکومت پیپلز پارٹی کی اس بربریت کو ہمیشہ یاد رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ امن معاہدے کے بعد آج کرم میں حکومتی کاروان پر دہشتگردی ہوئی واقع کی مذمت کرتے ہیں۔ہمارا پر امن احتجاج کرم ایجنسی میں دہشتگردی کرنے والے انہیں عناصر کے خلاف تھا کہ جنہوں نے راستوں میں بسوں کے کانوائے پر حملے کئے یہی دہشتگرد گزشتہ کئی عرصے سے دہشتگردی کا بازار گرم کئے ہوئے ہیں انکے خلاف آپریشن آخر کیوں نہیں کیا جاتا۔ ہم نے پاراچنار میں انسانی المیہ کے خلاف جہاں راستوں کی بندش، ادویات کی کمی کی وجہ سے ایک سو تیس معصوم بچے شہید ہوگئے تھے، ان مظلوموں سے اظہار یکجہتی کیلئے کرم میں دہشتگردی کرنے والوں اور راستوں کو کھلوانے کیلئے کراچی سمیت ملک گیر پر امن دھرنے دیئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ پر امن دھرنے دینے والوں پر دہشتگردی کی دفعات لگادی گئیں جس میں نا بالغ بچے بھی شامل ہیں۔ رہنما علامہ اصغر حسین شہیدی سمیت انیس نوجوان شامل ہیں اور کچھ اب تک لاپتہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پر امن دھرنے دینے آئے تھے گولیاں پولیس اور رینجرز نے کس کے حکم پر چلائی۔ دو نوجوان شہید اور درجنوں عمائدین زخمی ہوئے خواتین و بچوں پر لاٹھی چارج کیا گیا۔ علامہ حسن ظفر نقوی نے کہا کہ شبیہہ حیدر زیدی اور علی رضا رضوی کے قتل اور پرامن دھرنوں پر تشدد، بربریت کرنے والی سندھ حکومت کے خلاف مقدمات درج کروائیں گے اگر ہمیں انصاف نہیں ملا تو عالمی ادارہ انصاف جائیں گے۔ دریں اثناء شہید علی رضا رضوی کی تدفین وادی حسین قبرستان میں سینکڑوں عمائدین کی موجودگی میں کی گئی جہاں پر رقت مناظر دیکھے گئے۔ شہید علی رضا رضوی نے ورثاء میں دو بچوں اور بیوہ کو سوگوار چھوڑا۔



