
ملک کی تاریخ کا سب سے بڑا SCAM منظر عام پرجعل سازوں نے سندھ حکومت کی رٹ کو چیلنج کر ڈالا،
بیوروکریسی نے بھی بھیتی گنگا میں ہاتھ دھو ڈالا،اربوں کی زمین کوڑییو کے مول
سہارنپور سوسائٹی کے الاٹیز کی بالآخر سندھ حکومت نے سن لی۔
محکمہ سندھ کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی ان ایکشن،معاملہ نیب کے حوالے
*سہارنپور سوسائٹی کی 47 ایکڑ زمین صرف اور صرف سہارنپور سوسائٹی کے الاٹیز کی ہے اور کسی کو ایک انچ بھی زمین کا ٹکڑا غیرقانونی طور پر نہیں ملے گا۔سیکریٹری کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی شاہد عبدالسلام*

کراچی (اسٹاف رپورٹر)
کراچی میں بے پناہ جرائم کی وارداتوں کا انعقاد ہونا کوئی نئی بات نہیں لیکن کراچی کا جو سب سے اہم مسئلہ ہے وہ لینڈ گریبنگ اور ناجائز قبضہ عوام کی قیمتی املاک پر جعلی فائلیں بنا کر لینڈ گریبرز قابض ہوجاتے ہیں۔ حال ہی میں ایسا ایک اور واقعہ سامنے آیا جب محکمہ سندھ کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی جو کے حکومت سندھ کا ایک اہم ادارہ ہے اسکے سیکریٹری/ چئیرمین شاہد عبدالسلام کی جانب سے اسکیم 33 کراچی میں واقع 1974 سے قائم سہارنپور سوسائٹی کا پنڈورا باکس کھولا گیا۔چئیرمین/سیکریٹری شاہد عبدالسلام ایک سینئر بیوروکریٹس ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بہترین شہرت کے حامل افسر ہیں۔ اپنی دوران سروس جس محکمہ میں تعینات ہوئے ہیں اس محکمہ میں کوئی نا کوئی اصلاحات کا عمل شروع کیا ہے یا پھر ناکامی کی صورت میں خاموش تماشائی بن کر نہیں بیٹھے بلکہ اس محکمہ کو ہی خیر باد کیا ہے۔شاہد عبدالسلام کا کہنا ہے کے بطور سیکریٹری سندھ کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی کے میرے پاس درجنوں کی تعداد میں سہارنپور سوسائٹی کے الاٹیز کی شکایت روزانہ کی بنیاد پر موصول ہورہی تھی جب میں نے اپنے اسٹاف افسرانو کو اس بات کی تحقیق کرنے کا کہا تو میرے سامنے ہوش روبا انکشافات سامنے آئے کے سہارنپور کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی کے سابقہ انتظامیہ نے تو جعلی فائلیں اور اصل ریکارڈ میں بڑے پیمانے پر چھیڑ چھاڑ کرکے اصل حقدارو کا حق چند پرائیویٹ افراد کو فروخت کر دیا ہے۔۔
چنانچہ فورم طور پر محکمہ کوآپریٹو ہاوسنگ سوسائٹی کی جانب سے نام نہاد سیکریٹری سہارنپور سوسائٹی منظر شاہ گیلانی کو اسکے عہدے سے برطرف کیا بلکہ اسکے خلاف تحقیقات کا بھی حکم دیا اور اس اثناء میں محکمہ کوآپریٹو کے گریڈ 17 ایکس پی سی ایس افسر اور لینڈ ایکسپرٹ مراد عباسی کو تحقیقاتی کمیٹی کا سربراہ بنایا اور سوسائٹی کی دیکھ بھال کی بھی ذمعداری مراد عباسی کو سونپ دی گئی ہے اور مراد عباسی سہارنپور سوسائٹی کے تین سینئر الاٹیز اور کمیٹی ممبران کے ہمراہ تحقیقات بھی کرینگے۔
قریب ایک ہفتے کی دن رات کی محنت کے بعد مراد عباسی سمیت کئی اور دیگر تحقیقاتی اداروں کے سینئر افسران پر مشتمل جے آئی ٹی ٹیم بنائی گئی جس کا اصل مقصد سہارنپور کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی کی 47 ایکڑ سے زائد زمین کے اصل حقائق سے پردہ فاش کرنا تھا۔
تحقیقاتی کمیٹی اور جے آئی ٹی میں شامل افسران کی جانب سے جو رپورٹ منظر عام پر آئی ہے اسکے مطابق سہارنپور سوسائٹی کے 1974 سے قائم ایک کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی ہے 57 ایکڑ زمین بھی سہارنپور سوسائٹی کی ملکیت ہے اور الاٹیز کی زمین ہے اور الاٹیز کی زمین کیسے کوئی پرائیویٹ بلڈرز کو فروخت کر سکتا ہے جبکہ 1974 سے قائم سوسائٹی کی آج تک باؤنڈری وال موجود ہے 1984 میں ادارہ ترقیات کراچی سے LAY OUT پلان سوسائٹی کا منظور شدہ ہے۔500 کے قریب الاٹیز کی لیز سیل ڈیڈ موجود ہے اسکے باوجود بھی سابقہ سوسائٹی کی انتظامیہ اور مختیار کار ائیر پورٹ، اسسٹنٹ کمشنر ائیر پورٹ سمیت ریونیو ڈیپارٹمنٹ کی ملی بھگت سے سوسائٹی کی 47 ایکڑ سے زائد زمین جعلی کاغذات اور این او سی بناکر فروخت کردی گئی جو کے سراسر فراڈ جعلسازی اور دھوکے پر مبنی عمل ہے۔
لہذا جے آئی ٹی کمیٹی اور محکمہ سندھ کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی نے تمام تر کاروائی مکمل کرکے یہ معاملہ اب تحقیقاتی ادارے نیب کے سپرد کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور NAB کو جے آئی ٹی رپورٹ کی کاپی ارسال کردی گئی ہے جس میں کم و بیش 14 سے زائد افراد کا نام شامل کیا گیا ہے جو اصل مجرم اور دھوکہ دہی اور جعل سازی کے ذمعدار ہیں۔
چنانچہ یکم دسمبر 2023 بروز جمعہ محکمہ کوآپریٹو ہاوسنگ سوسائٹی کی ٹیم نے سیکریٹری سندھ کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی کے احکامات پر محکمہ اینٹی انکروچمنٹ سندھ فورس،رجسٹرار کوآپریٹو سمیت علاقائی پولیس کے ہمراہ 47 ایکڑ زمین سہارنپور کی لینڈ گریبرز سے واگزار کرالی گئی ہے۔آپریشن کو کمانڈ کمیٹی ہیڈ مراد عباسی کررہے تھے جبکہ محکمہ اینٹی انکروچمنٹ سندھ کے ڈائریکٹر طارق چانڈیو بھی اپنی فورس کے ہمراہ تمام آپریشن میں موجود رہے۔آپریشن میں سخت مزاحمت کا سامنا رہا مگر محکمہ نے سہارنپور سوسائٹی کا اصل ریکارڈ سمیت دیگر اہم شواہد اکٹھا کرتے ہوئے سوسائٹی کے مرکزی دروازے پر سیل نصب کردی ہے اور بغیر اجازت سیل کو توڑ کرنے جانے والے کو کار سرکار میں مداخلت کرنے کا مجرم سمجھا جائے گا۔
اہم ترین تفصیلات کے مطابق نگراں وزیر اعلی سندھ جسٹس ریٹائرڈ سید مقبول باقر نے بھی ہفتہ وار رپورٹ طلب کرلی ہے اور اس ضمن میں وزیر اعلی کی جانب سے باقاعدہ لیٹر کا اجراء بھی کیا گیا ہے۔
محکمہ کوآپریٹو ہاوسنگ سوسائٹی کی جانب سے بھی متعدد لیٹرز کا اجراء کیا گیا ہے جس کے مطابق سوسائٹی کی 47 ایکڑ زمین پر جعل سازی اور دھوکہ دہی کا ذکر کیا گیا ہے اور کنگز بلڈرز سمیت فلک ناز بلڈرز، مختیارکار اسسٹنٹ کمشنرز کو اس سارے کھیل کا ماسٹر مائنڈ قرار دیا گیا ہے۔



