پنجاب

محنت کش کو آج نہیں کل کی فکر سے آزاد کیا جائے!

محنت کش کو آج نہیں کل کی فکر سے آزاد کیا جائے!

انجینئر ندیم ممتاز قریشی
نبی اکرم ؐ کافرمان مبارک ہے ”الکاسب حبیب اللہ“محنت کش اللہ کا دوست ہے۔اگر انسان کی محنت خدا کے قرب اور دوستی کا وسیلہ اور ذریعہ ہے تو پھر کسی بھی انسان کی بے کاری اور سہل پسندی کا کوئی جواز باقی نہیں رہتا۔ ہر انسان اپنی جگہ اہمیت کا حامل، اور عقل و شعور سے مزین ہے۔ سب انسان باہم رشتہ اخوت و مساوات میں جڑے ہوئے ہیں اور انسانیت میں کسی بھی قسم کی تقسیم اور طبقات کا وجود انسانی عظمت و شرف کی حد درجے پامالی کا مظہر اور فطرت کے لازوال اصولوں کے منافی ہے۔لیکن دور حاضر کا یہ المیہ اور کس قدر بد قسمتی ہے کہ آج ہم محنت کی عظمت سے ناآشنا اور بے خبر ہیں۔ جس کا بین ثبوت یہ ہے کہ سماج میں محنت و مشقت کے دھنی افراد کو حشرات الارض جتنی اہمیت بھی نہیں دی جاتی اور ان محنت کشوں کی محنت اور ثمرات پر گلچھرے اڑانے والے سرمائے کے پجاریوں کو سر آنکھوں پر بٹھایا جاتا ہے۔جس کا ردعمل یوں ہوتا ہے کہ محنت کی عظمت کا انکار سامنے آتا ہے۔ محنت کی حوصلہ شکنی اور محنت کش کی تحقیر اور استہزا کا چلن عام ہوجاتا ہے۔ لوگ محنت سے جی چرانے لگتے ہیں اور اس طرح کے معاشرے اجتماعی طور پر زوال کا شکار ہوجاتے ہیں۔ جب کہ اس کے مقابلے میں محنت کی عظمت ایک عالم گیر صداقت اور مسلمہ اصول ہے، جس کو اپنانے والی اقوام مسلسل آگے بڑھتے ہوئے عالمی قیادت کی دعوے دار ہیں اور جن اقوام کے ہاں یہ اصول جڑ نہیں پکڑ سکا وہ اپنے ہاں قدرتی خزانوں اور وسائل سے انجان دوسروں کی دست نگر ہیں۔آج بالعموم سرکاری اور نجی سطح پر مزدور کا حق محنت پورا ادا نہیں کیا جاتا جس کے باعث مشقت کے باوجود محنت کش کو ضروریات زندگی حاصل نہیں ہوپاتیں۔نبی اکرم ؐ نے فرمایا: ”مزدور کی مزدوری اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کرو“ (ابن ماجہ)۔اسلامی جمہوریہ پاکستان میں مذکورہ فرمان پر بھی کم عمل ہوتا ہوا نظر آتا ہے جس کی بنیادی وجہ سے سرمایہ دارانہ نظام اور حکومت کی عدم توجہی ہے جس کی وجہ سے محنت کشوں کا استحصال زور و شور کے ساتھ جاری ہے اور آواز بلند کرنے پر داد رسی تو دور کی بات ان کی چیخ و پکار پر توجہ بھی نہیں دی جاتی۔
ہر سال یکم مئی کو پاکستان سمیت دنیا بھر میں یوم مزدور منایا جاتا ہے۔ یہ دن 1886ء کی اُس جدوجہد کی یاد میں منایا جاتا ہے جب شکاگو میں مزدوروں نے اپنی محنت کے جائز حقوق کے لیے آواز بلند کی۔ ان کا مطالبہ تھا کہ روزانہ صرف آٹھ گھنٹے کام لیا جائے، آٹھ گھنٹے آرام اور آٹھ گھنٹے ذاتی امور کے لیے مختص ہوں۔ ان قربانیوں کے نتیجے میں بین الاقوامی سطح پر محنت کشوں کے حقوق کو تسلیم کیا گیا اور بعد ازاں 1919ء میں انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے قیام نے مزدوروں کو عالمی سطح پر تحفظ فراہم کرنے کا آغاز کیا۔پاکستان میں یوم مزدور کی اہمیت بے حد ہے، مگر بدقسمتی سے آج بھی ہمارے ملک میں مزدوروں کی حالت ناگفتہ بہ ہے۔ پاکستان میں تقریباً 7 کروڑ 40 لاکھ سے زائد مزدور ہیں، جن میں سے 72 فیصد دیہی علاقوں میں غیر رسمی شعبے میں کام کر رہے ہیں۔ حکومت نے اگرچہ کم از کم اجرت 37 ہزار روپے ماہانہ مقرر کی ہے، لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ بیشتر مزدور 15 سے 20 ہزار روپے میں کام کرنے پر مجبور ہیں۔ ان کے پاس نہ تو معیاری صحت کی سہولتیں ہیں اور نہ ہی ان کے بچوں کو معیاری تعلیم میسر ہے۔یونیسف کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں تقریباً 2 کروڑ 30 لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں اور ان میں اکثریت مزدوروں کے بچوں کی ہے۔ صحت کے شعبے میں حکومت کی سرمایہ کاری جی ڈی پی کا محض 1.2 فیصد ہے، جس کی وجہ سے مزدور طبقہ معمولی بیماریوں میں بھی شدید اذیت میں مبتلا رہتا ہے۔ملک میں ایمپلائیز اولڈ ایج بینیفٹس انسٹی ٹیوشن (EOBI) جیسے ادارے موجود ہیں، مگر محض چند لاکھ مزدور ان میں رجسٹرڈ ہیں۔ باقی مزدور سوشل سیکیورٹی، معقول پنشن، اور پیشہ ورانہ تحفظ جیسی بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔ انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے کنونشنز کے تحت ہر مزدور کو منصفانہ اجرت، محفوظ ماحول، اور اجتماعی سودے بازی کا حق حاصل ہے۔ پاکستان ان کنونشنز پر دستخط کر چکا ہے، لیکن بدقسمتی سے ان پر عملدرآمد نہ ہونے کے برابر ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت مزدوروں کے لیے حقیقی اور نتیجہ خیز پالیسی تشکیل دے۔ کم از کم اجرت کو مہنگائی کے تناسب سے بڑھایا جائے، مزدوروں کی صحت اور تعلیم پر خصوصی توجہ دی جائے، غیر رسمی شعبے کے مزدوروں کو رجسٹر ڈکر کے انہیں قانونی تحفظ فراہم کیا جائے اور بچوں کی مفت اور معیاری تعلیم کو یقینی بنایا جائے۔ مزدور یونینز کو آزادی دی جائے تاکہ وہ اپنے حقوق کے لیے آزادانہ جدوجہد کر سکیں۔یوم مزدور محض ایک چھٹی کا دن نہیں، بلکہ یہ ایک تقاضہ ہے کہ ہم اپنی قومی پالیسیوں کا رخ ان ہاتھوں کی طرف موڑیں جو ہماری معیشت کا پہیہ چلاتے ہیں۔ اگر ہم نے اپنے محنت کشوں کو وہ مقام نہ دیا جو ان کا حق ہے تو ترقی کے خواب ادھورے ہی رہیں گے۔آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم محض رسمی طور پر سال میں ایک دفعہ ”یوم مزدور“ منانے سے چند قدم آگے بڑھیں۔ ہمیں اپنے زوال کو عروج و اقبال میں بدلنے کے لیے ماہ و سال کے تمام صبح و شام بندہ مزدور کے نام کرنے ہوں گے اور اللہ کے اس دوست کے پسینے کی بو اک اعلیٰ ترین خوشبو کی مانند اپنے اوپر چھڑکنا ہوگی اور محنت کش کی دست بوسی کا راز جان کر آقائے دو جہاں ؐ کی اس عظیم سنت کا احیا کرنا ہوگا۔
مستقبل پاکستان کا منشور اور پالیسی مزدوروں کے حوالے سے نہایت واضح اور دوٹوک ہے۔ہمارا ماننا ہے کہ مزدور قوم کی ریڑھ کی ہڈی ہیں اور انہیں وہ تمام حقوق دیے جانا لازم ہے جو ایک باعزت شہری کو حاصل ہوتے ہیں۔ مستقبل پاکستان کے منشور میں درج ذیل نکات شامل ہیں:
مزدوروں کی کم از کم اجرت کو مہنگائی کے تناسب سے ہر سال از سر نو طے کیا جائے گا۔تمام مزدوروں کو سوشل سیکیورٹی اور صحت انشورنس فراہم کی جائے گی۔مزدوروں کے بچوں کے لیے مفت اور معیاری تعلیم کا بندوبست کیا جائے گا۔غیر رسمی معیشت کے مزدوروں کو بھی رجسٹرڈ کر کے ان کے حقوق کی ضمانت دی جائے گی۔مزدور یونینز کو مکمل آزادی دی جائے گی اور ان کے ساتھ اجتماعی سودے بازی کو قانونی تحفظ دیا جائے گا۔ریٹائرڈ مزدوروں کے لیے معقول پنشن اسکیمیں بنائی جائیں گی۔مستقبل پاکستان کا خواب ایک ایسا پاکستان ہے جہاں محنت کش صرف اپنے آج کی نہیں بلکہ اپنے کل کی فکر سے بھی آزاد ہو۔
٭٭٭

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You