کالم/مضامین

غیر کو یا رب وہ کیونکر منع گستاخی کرے گر حیا بھی اس کو آتی ہے تو شرما جائے ہے

قلم کی گستاخی-قلمکار : خان آصف علی خان آف لوند خوڑ

غیر کو یا رب وہ کیونکر منع گستاخی کرے
گر حیا بھی اس کو آتی ہے تو شرما جائے ہے

اے ۔۔بی ۔۔سی ۔۔ڈی ۔۔فرنگی کی زبان میں۔۔ اے ۔۔پہلے آتا ہے مگر ہماری مسلمانوں کی زبان میں۔۔ بی ۔۔پہلے آتا ہے اور اس کے بعد۔۔ اے ۔۔۔آتا ہے، ۔۔۔۔جی ہاں ۔۔۔بی بسم اے اللہ۔۔۔

گھنی سفید باریش داڑھی جسے ہماری گاوں کی زبان میں سُوچا، اور باقی زبانوں میں سُچی کہتے ہیں ایک ضعیف جوان جس کو ضلع مردان کی عوام شاہ بابا کے نام سے جانتی ہے ان کے پاس ایک قلم ہے اور اس قلم کی خاص بات یہ ہے کہ وہ پاگل ہے۔۔جی ہاں بلکل پاگل،سچ کے علاوہ لکھتا ہے نہیں اور ضدی بھی ہے اور کیوں نہ ہو ۔۔خان کا قلم ہے بھائی ۔۔۔۔پٹھان کا قلم ہے،

اڑ جائے کسی بات پر ،کسی کی نہیں سُنتا،
یہ "قلم” مجھے ،پٹھان لگتا ہے۔

یہ تو تھے خان بابا ان کے ساتھ

بی ون کے سی ای او جناب سید باچہ صیب جو کسی تعارف کے محتاج نہیں،نہایت نڈر، بے باک اور اپنے پیشے سے نہایت مخلص شخصیت ، ان کی صحافت پر میر ا لکھنے کی میرا قلم گستاخی کرنے جا رہا ہے امید ہے کہ میرے قلم کو جان کی امان ضرور ملے گی۔

انتہائی ذہانت کے حامل یہ افراد معاشرے کے وہ مجاہد ہیں جس کی تلوار معاشرے میں امر بالمعروف نہی ان لمنکر کا کردار ادا کر رہی ہے۔۔ذہانت بذات خود کوئی چیز نہیں۔ انسان کا تجربہ مشاہدہ اور علم ہی درحقیقت اس ذہانت کو تشکیل دیتا ہے۔ آپ اپنے ارد گرد کتنی چیزوں کا مشاہدہ کرسکتے ہیں ،کیا کچھ دیکھ اور محسوس کر سکتے ہیں ،کیا کچھ جانچ سکتے ہیں ،کیا کچھ آپ کی سوچ پر حاوی ہوتا ہے دراصل یہی آپ کا مشاہدہ ہے۔آپ زندگی میں کہیں آتے جاتے ہیں۔ مختلف قسم کے لوگوں سے ملتے ہیں۔آپ محسوس کر سکتے ہیں کہ آخر اس جگہ میں لوگوں کا رویہ یا کام کرنے کا طریقہ کار ایسا ہے تو کیوں ہے؟ یہاں کہ لوگ فلاں جگہ کے لوگوں سے کتنے مختلف ہیں؟ ایک فرد دوسرے کے ساتھ کیسا رویہ رکھے ہوئے ہے؟ یہ سب مشاہدے کی ہی مختلف جہات ہیں

’’ قلم‘‘ اس کامل اور قابل ِ فہم تجزیاتی صلاحیت کو کہتے ہیں جو انسان کو کسی مادی یا غیر مادی شے کے منفی یا مثبت پہلوؤں سے روشناس کراتی ہے۔سورہ العلق میں ہے کہ اﷲ نے قلم کے ذریعے علم سکھایا۔ جامع ترمذی کی حدیث 2233 میں حضور پاک ﷺ سے مروی ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے سب سے پہلے قلم کو پیدا کیا۔

عربی زبان میں ’’ قلم‘‘ کے معنی کاٹنے یا تراشنے کے ہیں۔ یہ ایک عمومی تجربے میں آئی حقیقت ہے کہ تراشنے اور کاٹنے سے ہی کوئی چیز انسانی استعمال کے قابل بنتی ہے۔ اور ایک لفظ ہے ۔۔تسخیر۔۔۔تسخیر کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مثلاً سورج اگر مشرق سے طلوع ہوتا ہے تو انسان اس تسخیر کے بعد اسے مغرب، شمال یا جنوب سے بھی طلوع کروا سکے گا۔ تسخیر کا مطلب یہ ہے کہ انسان ان تخلیقات کے فائدے اور نقصان پر محدود دست رس حاصل کر کے اس کا محدود استعمال کرے۔

لہذا قلم کے حوالے سے دونوں ہی معانی لازم و ملزوم ہیں کہ’’ قلم‘‘ انسان کی اس کامل و قابل ِ فہم تجزیاتی صلاحیت کو کہتے ہیں جو انسان کو کسی مادی یا غیر مادی شے کے منفی یا مثبت پہلوؤں سے روشناس کراتی ہے اور وہ اس کی بنیاد پر اپنی زندگی کے چھوٹے بڑے فیصلے کرتا ہے اور مادی طور پر قلم اس شے کو بھی کہتے ہیں جس سے عموماً لفظوں کو تحریری شکل ملتی ہے۔

قلم کا ذکر میں فرمایا کہ ۔۔ ۔ ۔۔ انسان کو اللہ تعالی نے قلم کے استعمال سے لکھنے کا فن سکھایا جو بڑے پیمانہ پر علم کی اشاعت و ترویج ترقی اور نسلا بعد نسل اس کی بقا و تحفظ کا ذریعہ بنا۔ اگر وہ الہامی طور پر انسان کو قلم و قرطاس اور کتابت کے فن کا یہ علم نہ دیتا تو انسان کا علم اور اس کی صلاحیت و لیاقت اور قابلیت ٹھٹھر اور سکڑ کر رہ جاتی اور اس کو نشو و نما پانے ،پھیلنے اور ایک نسل کے علوم ،اس کی تاریخ اور تہذیب و روایات دوسری نسل تک پہنچنے اور آگے مزید ترقی کرنے کا موقع ہی نہ ملتا ۔ اس سے کسی کو انکار نہیں کہ قلم کی قوت بہت بڑی قوت ہے ۔

اس قوت اور طاقت نے قوموں میں انقلاب برپا کیا ان کے ذھن و فکر میں تبدیلی پیدا کی،قلم علم کی دولت کے اظہار کا بہترین وسیلہ اور ذریعہ ہے اپنی دعوت کو عام کرنے اور اپنی فکر کو دوسروں تک منتقل کرنے اور اپنے علم و معلومات کو دوسروں تک پہنچانے میں قلم سب سے اہم رول ادا کرتا ہے ۔

ظلم اور کرپشن اور بے انصافی کے خلاف آواز اٹھانا ایک صحافی اور قلم کار کی ذمہ داری ہے ۔ اس کو اسلام نے ضروری قرار دیا ہے سورہ شعراء میں ہے ۔۔۔۔تو نے نہیں دیکھا کہ وہ ہر میدان میں پر مارتے پھرتے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ جو خود نہیں کرتے مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے اور اللہ کو بہت یاد کیا ۔

صاحب قلم و قرطاس کے لئے یہ کسی طرح جائز نہیں ہے کہ وہ دوسروں پر زبانی یا تحریری کسی شکل میں جھوٹ باندھے *انما یفتری الکذب الذین لا یومنون* الخ

جھوٹ تو وہ لوگ بناتے ہیں جن کو اللہ کی باتوں پر یقین نہیں اور وہی لوگ جھوٹے ہیں )سورہ نحل ۱۰۵)

کسی کی دل آزاری تقریر کے ذریعہ ہو یا تحریر کے ذریعہ یہ سخت گناہ کی بات ہے ۔
ایک صحافی اور قلم کار کو اپنی تحریروں میں اعتدال اور عدل و انصاف کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے کسی قوم اور جماعت سے دشمنی ان کو انصاف اور راہ اعتدال سے ہٹنے نہ دے حال میں عدل و انصاف سے کام لے ۔

الغرض بات کا اختتام ان ہیروں ۔۔۔بی ون ۔۔۔اور ۔۔۔اے ون ۔۔کو خراج تحسین پیش کرتا ہوا میرا قلم بالکل عار محسوس نہیں کر رہا

کہ زندگی میں کامیابی کے لئے بیدار مغزی اور توازن بہت ضروری ہے

اور یہ ہی ان دونوں لکھاریوں کا خاصہ ہے ،

*******بی ون ،اے ون۔۔۔یو آر نمبر ون، دا ۔۔ورک از ڈن۔۔*******۔

یہ گستاخی یہ چھیڑ اچھی نہیں ہے اے دل ناداں
ابھی پھر روٹھ جائیں گے ابھی تو من کے بیٹھے ہیں

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You