عنوان:70 سالوں میں حکومت کرنے والوں کے نام

ٹائٹل: بیدار ھونے تک
عنوان:70 سالوں میں حکومت کرنے والوں کے نام۔۔۔۔۔!!
اسلامی تاریخ ھو یا برصغیر پاک و ہند کی تاریخ بھری پڑی ھے کہ مسلمان حکمران ھو یا سپہ سالار وہ کس قدر الله کا قرب حاصل کیئے ھوئے تھے تاریخ ھمیں بتاتی ھے کہ ان کی ایمانی طاقت دین پر پختگی کی بناء پر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پردہ فرمانے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود بانفسِ نفیس خواب و کیفیت میں احکامات جاری کرتے تھے یاد رہے مسلم سپہ سالار نور الدین زنگی کو دو ملعون و مردود خبیث یہودیوں کی ناپاک غلیث حرکات سے روکنا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ذمہ داری سپہ سالار نور الدین زنگی تو سونپی جو اس نے بہترین انداز میں ادب و احترام کیساتھ نبھائی۔ نورالدین زندگی پوری زندگی اس ذمہداری کو یاد کرکے روتا تھا تڑپتا تھا سجدود میں راتوں رات گزار دیتا تھا کہ مجھ گناہ گار کو شہنشاہ عالم روح الامین رحمت اللعالمین نے مجھ ناچیز کو قبول کیا وہ تشکر کیساتھ کہتا اور روتا کہ شکر ھے کہ حضور کائنات نے اپنی رحمت کی نظر مجھ پر ڈالی۔۔۔ معزز قارئین!! بیشمار ایسے واقعات ھماری تاریخ میں روشن قندیل کی طرح آب و تاب کی طرح چمک رھے ہیں یہ ھماری اور ھماری نئی نسل کی بدقسمتی ھے کہ وہ اپنی اسلامی تاریخ کا مطالعہ کرنے سے کوسوں دور بھاگتی ھے۔۔۔۔معزز قارئین!! ایک اور واقعہ آپ کی خدمت میں پیش کرنے کی جسارت کررہا ھوں۔۔۔۔۔۔
میرا جنازہ وہ شخص پڑھائے جس شخص میں یہ چار خوبیاں ہوں۔ حضرت خواجہ قطب الدین کاکی چشتی غریب نواز رحمتہ اللہ علیہ نے موت سے پہلے کیا وصیت کی؟ جب حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی چشتی غریب نواز رحمتہ اللہ علیہ کی وفات ہوئی تو کہرام مچ گیا۔ جنازہ تیار ہوا، ایک بڑے میدان میں لایا گیا۔ بے پناہ لوگ نمازجنازہ پڑھنے کیلئے آئے ہوئے تھے۔ انسانوں کا ایک سمندر تھا جو حد نگاہ تک نظر آتا تھا۔ جب نماز جنازہ پڑھنے کا وقت آیا، ایک آدمی آگے بڑھا اور کہنے لگا کہ میں خواجہ قطب الدین بختیار کاکی چشتی غریب نواز رحمتہ اللہ علیہ کا وکیل ہوں۔ حضرت نےایک وصیت کی تھی۔ میں اس مجمعے تک وہ وصیت پہنچانا چاہتا ہوں۔ مجمعے پر سناٹا اور سکتا چھا گیا وکیل نے پکار کر کہا۔ حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی چشتی غریب نواز رحمتہ اللہ علیہ نےیہ وصیت کی کہ میرا جنازہ وہ شخص پڑھائے جس کے اندر چار خوبیاں ہوں۔ 1۔ زندگی میں اس کی تکبیر اولیٰ کبھی قضا نہ ہوئی ہو۔ 2۔ اس کی تہجد کی نماز کبھی قضا نہ ہوئی ہو۔ 3۔ اس نے غیر محرم پر کبھی بھی بری نظر نہ ڈالی ہو۔ 4۔ اتنا عبادت گزار ہو کہ اس نے عصر کی سنتیں بھی کبھی نہ چھوڑی ہوں۔ جس شخص میں یہ چار خوبیاں ہوں وہ میرا جنازہ پڑھائے۔ جب یہ بات سنائی گئی تو مجمعے پرایسا سناٹا چھایا کہ جیسےمجمعے کو سانپ سونگھ گیا ہو۔ کافی دیر گزر گئی، کوئی نہ آگے بڑھا۔ آخرکار ایک شخص روتے ہوئے حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی چشتی غریب نواز رحمتہ اللہ علیہ کے جنازے کے قریب آیا۔ جنازہ سے چادر اٹھائی اور کہا۔ حضرت! آپ خود تو فوت ہوگئے مگر میرا راز فاش کردیا۔ اس کے بعد بھرے مجمعے کے سامنے قسم اٹھائی کہ میرے اندر یہ چاروں خوبیاں موجود ہیں۔ یہ شخص وقت کا بادشاہ شمس الدین التمش تھا۔۔۔۔ معزز قارئین!! اب میں اپنے کالم کے عنوان کی طرف آتا ھوں موجودہ حکومت جو وفاق میں پی ٹی آئی صوبوں میں سینٹرل پنجاب, جنوبی پنجاب, کے پی کے اور آزادکشمیر میں اپنی حکومت بنائی بیٹھی ھے جبکہ بلوچستان اور گلگت بلتستان میں جزوی طور پر حکومت ھے البتہ صوبہ سندھ میں پی پی پی کی حکومت ھے اور برسوں سے چلی آرہی ھے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان اور ریاستِ پاکستان اور آئینِ پاکستان کیا اسلامی دینی مذہبی ریاست ھے یا پھر ستر سالوں سے بے دین بے عمل ریاست رہی ھے۔ میرا سوال ان ستر سالوں سے پاکستان میں حکومت کرنے والوں سے ھے کہ کیا جس میں فوجی جرنیل کا بھی دور گزرا ھے کیا تم نے اس ریاست کیساتھ انصاف برتا کیا تمہارا اور تمہارے رفقائے کاروں کا عمل حقیقی طور اسلام کے اصولوں پر کاربند رھا۔ ان ستر سالوں میں فوجی ھو یا سولین دور کسی ایک نے بھی اسلامی تشخص کو پڑوان چڑھانے کیلئے اپنا قلیدی کردار ادا کیا یقینأ میں سمجھتا ھوں نفی میں جواب آئیگا۔ تم پاکستانی حکمرانوں کا طبقہ جو ستر سال سے وقتاً فوقتاً مختلف انداز میں اس عوام پر جبراً حکومت کرتا رہا نہ تم ملک کیلئے بہتر ثابت ھوئے اور نہ ہی دین محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے تم سب کو مرکے جواب دینا ھوگا کئی تو واصل جہنم ھوگئے کسی ایک کے اچھے عمل سے جنتی بن گئے آج وہ مسجد کے احاطے میں سورھے ہیں پنج وقتہ نماز پڑھنے والا سپہ سالار روزانہ آذان سنتا ھے بیشک الله اپنے منتخب کردہ بندوں کو پاک جگہ مدفن کرتا ھے اس ایک کے علاوہ بقیہ کے انجام عوام جان چکے ہیں اور کچھ کے جاننے والے ہیں۔ اگر ھم دین پر لڑی جانے والی حالیہ جنگ کا مطالعہ کریں تو ان بیس سالوں کے درمیان ھمیں ایک ولی صفت سپہ سالار نظر آتا ھے جس نے کئی بار دیدار محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کا شرف پایا اور ہدایتیں وصول کیں پاکستانی ستر سالوں کے حکمران پر سبقت لے جانے والے مجاہدین اسلام و طالبان شہید ملا عمر ھے۔ اسلام کے مخالفین ھمارے ہیروز کی ہرزہ سرائی کرنے سے باز نہیں آئیں گے کیونکہ اسلام مخالف قوتیں دجالی قوتیں ہیں ھمیں ان سب کا مقابلہ کرنا ھے اپنی افواج کا ہمیشہ مورل بلند کرنا ھے کیونکہ دنیائے عالم میں واحد پاکستانی افواج الله اور اسکے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی منتخب کردہ ھے اسلام وطن اور پاکستان کیلئے اپنے اندر جذبہ جہاد کو بیدار کرتے ھوئے زندہ جاوید بنائیں اور جوق در جوق فوج میں شامل ھوکر مقبوضہ کشمیر کی آزادی کو یقینی بنائیں الله ھم سب کا حامی و ناظر رھے آمین۔آخر میں وزیراعظم عمران خان کو کہنا چاہتا ھوں کہ اپنی اور اپنی حکومت کی تعریف کرنا تعریفی تقریبات منعقد کرنا جھوٹوں فاسق منافق کا شیوہ ھے کیونکہ سچ و حق اور عملی کردار کی تعریف دشمن بھی کرتا ھے بہتر یہی ھے کہ اپنی حکومت کی کارکردگی کو بہتر سے بہتر بنائیں اور مہنگائی پرائس کنٹرول کو یقینی بناتے ھوئے عام شہری کی زندگی میں سکون لائیں یہی آپ کی کامیابی ھوگی میڈیا کو عوام نے رد کردیا ھے انہیں اب عوام بھوکنے والے جانور کہتے ہیں جو مالک کی خوش آمد پر بھونکتے ہیں۔۔۔!!
کالمکار: جاوید صدیقی



