کالم/مضامین

عنوان : ھم جنس پرست قانون 34 ممالک میں رائج ھے

*ٹائٹل : بیدار ھونے تک*

*عنوان : ھم جنس پرست قانون 34 ممالک میں رائج ھے۔۔۔۔!!*

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میری امت پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ اسلام کا صرف نام اور قرآن کے صرف الفاظ باقی رہ جائیں گے، حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا: آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ علم کو اس طرح نہیں اٹھائے گا کہ لوگوں کے سینے سے نکال لے، بلکہ علماء کو ایک ایک کرکے اٹھاتا رہے گا یہاں تک کہ جب کوئی عالم نہیں رہے گا تو لوگ جہلاء کو اپنا راہنما بنا لیں گے۔ ان سے مسائل پوچھے جائیں گے تو وہ بغیر علم کے فتویٰ دیں گے، وہ خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں تم سے ایک ایسی حدیث ضرور بیان کروں گا جو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنی اور میرے سوا اس حدیث کو تم سے کوئی بیان بھی نہیں کر سکتا۔ میں نے آپ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: قیامت کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ علم اُٹھا لیا جائے گا، جہالت پھیل جائے گی، زنا اور شراب پینے کی کثرت ہو جائے گی، مرد کم ہو جائیں گے، عورتیں بڑھ جائیں گی۔۔۔۔۔ معزز قارئین!! ھم اس زمانے میں داخل ھوچکے ھیں جسکی آگاہی ہمیں احادیث نے دے رکھی ھے اب ذرا احادیث کی روشنی میں آج کے حالات کا تناظر کیا جائے تو ھم مکمل اترتے نظر آرھے ھیں حقیقت تو یہ ھے کہ ھم مومن تو درکنار ایک سچے مکمل مسلمان تک نہیں، ھم میں غیر مسلموں کی برائیاں اور بدکاریاں لبریز ھیں ھمیں دیکھ کر کافر بھی شرماتا ھے، ھم قرآن و حدیث کے بجائے یہود و مشرکین کے طرز عمل طرز زندگی اور احکامات کی پیروی کو ہی اہمیت دیتے ھیں اور انہیں ہی اپنا نجات دہندہ سمجھ بیٹھے ہیں یہ سب امریکہ کی غلامی کے سبب ذہن کاری ھورہی ھے جس میں ایک جانب یہودی لابی تو دوسری جانب قادیانی لابی بھرپور متحرک ھوکر کارفرما ھے جس نے ھم مسلمانوں کا ایمان ختم کر ڈالا ھم ایمان سے خالی مسلماں ہوکر رہ گئے ھیں۔ ذرا امریکہ کے منفی عزائم دین محمدی ﷺ کے برخلاف ھونے والے عمل کی طرف دیکھیں شائد آپکی آنکھیں اور مردہ دل بیدار ھوجائے، ۔۔۔۔ معزز قارئین!! امریکہ، کینیڈا، یورپ، برطانیہ اور آسٹریلیا سمیت دیگر دنیاوی آزاد پرست ممالک کو جنت سمجھنے والے ذرا غور کیجئے گا کہ آپ کی نئی نسلوں کا کیا بھیانک انجام ھوگا وہ دین سے دور اور بدکاری و بدفعلی سے ہرگز محفوظ نہیں رہ سکیں گے تو ملاحظہ کیجئے کیوں؟؟ کیونکہ امریکہ نے واضع اپنا موقف دیا ھے کہ دنیا کے تمام ممالک کو بڑی طاقتوں کیساتھ اچھے تعلقات قائم کرنے کیلئے ہم جنس شادی یعنی "عورت سے عورت یا مرد سے مرد” کو قبول کرنا ہوگا۔ اس وقت چونتیس ممالک ہیں جہاں ہم جنس شادی کو قانونی حق حاصل ہے ان میں اندورا، ارجنٹائن، آسٹریلیا، آسٹریا، بیلجیم، برازیل، کینیڈا، چلی، کولمبیا، کوسٹاریکا، کیوبا، ڈنمارک، ایکواڈور، فن لینڈ، فرانس، جرمنی، آئس لینڈ، آئرلینڈ، لکسمبرگ، مالٹا، میکسیکو، نیدرلینڈز، نیوزی لینڈ، ناروے، پرتگال، سلووینیا، جنوبی افریقہ، اسپین، سویڈن، سوئٹزرلینڈ، تائیوان، برطانیہ، ریاستہائے متحدہ امریکہ اور یوراگوئے خاص طور پر شامل ھیں۔ جرمنی نے ابھی ابھی اس قانون پر دستخط کئے ہیں جس میں یہ اعلان کیا گیا ہے کہ ھم جنس پرستی اور آزادی نفس خواہش اب کوئی بدکاری نہیں، یعنی بھائی اور بہن شادی کرسکتے ہیں، جیسے ماں اور بیٹا، باپ اور بیٹی وغیرہ۔ میامی شہر کو اب عوام میں سیکس خریدنے کا شہر قرار دیا گیا ہے۔ اسکا مطلب ہے: راستے میں، چرچ، مسجد، بازار، فٹ بال کے میدان، اگر آپ کو سیکس کی ضرورت ہو تو آپ کسی بھی وقت بغیر کسی پریشانی کے اس سے لطف اندوز ہوسکتے ہیں۔ کینیڈا نے حیوانیت "جانوروں کے ساتھ جنسی تعلقات” کی اجازت دیدی۔ اسپین میں: فحش فلمیں۔
ہائی اسکولوں اور یونیورسٹیوں میں اجازت ہے۔ نابالغوں کی جسم فروشی کی اجازت دی گئی ہے۔ مارگ لوکر کا دعویٰ ہے کہ کوئی بھی دس سالہ لڑکی جو جنسی لذت کا تجربہ کرتی ہے، کوئی بھی اسے یہ جاننے سے منع نہ کرے کہ اسکا جسم کیسے کام کرتا ہے۔ آخرکار امریکہ نے شیطانی گرجا گھروں کو کھولنے کی اجازت دیدی۔۔۔۔ معزز قارئین!! آپ لوگ اپنے حصول رزق اور ضروریات زندگی میں مشغول ہیں اور شیطان آپکو رحمت الٰہی سے دور کرنے کیلئے زیادہ سے زیادہ ایمانی روحوں کو اپنے ساتھ کھینچنا چاہتا ہے۔ اسلام کے بارے میں بات کرنا اتنا مشکل لیکن گپ شپ کرنا اتنا ہی آسان کیوں ہے خاص کر فٹ بال اور سیاست کے بارے میں؟ یاد رھے کہ جنسی بے راہ روی آج پوری دنیا کو تباہ کر رہی ہے. اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ایک وقت آئے گا جب انسان پانچ چیزوں سے محبت کرے گا اور پانچ چیزوں کو بھول جائیگا … وہ دنیا کی لذت کو پسند کریں گے اور قیامت کے دن کو بھول جائیں گے … وہ پیسے سے محبت کریں گے اور احتساب کے دن کو بھول جائیں گے کہ انہوں نے پیسہ کیسے حاصل کیا اور خرچ کیا … وہ تخلیق شدہ چیزوں سے ڈریں گے اور خالق کو بھول جائیں گے … وہ خوبصورت گھروں سے محبت کریں گے اور اپنی قبروں کو بھول جائیں گے … وہ گناہوں کو پسند کریں گے اور اللہ سے معافی مانگنا بھول جائیں گے … اس کے بارے میں سوچیں؟ … اول. ابدی زندگی = آزاد … دوئم. مسجد میں داخلہ = مفت … سوئم. اسلام کی طرف سے پیش کردہ نجات = مفت … چہارم. اللہ کی محبت = مفت … پنجم. زندگی کی سانس = آزاد … اے. سگریٹ = تنخواہ … بی. جسم فروشی = ادائیگی … سی. شراب = تنخواہ … ڈی. نائٹ کلب داخلہ فیس = ادائیگی … ای. دنیا پر حکمرانی کرنے کی طاقت = تنخواہ تو جب جنت مفت ہے تو لوگ جہنم کی قیمت کیوں ادا کرتے ہیں؟ … دو بار سوچیں … اللہ پر یقین رکھیں نجات پائیں گے. ہم ہمیشہ ویلنٹائن ڈے کے بارے میں سوچتے ہیں …سالگرہ … والد کا دن … ماں کادن … بچوں کا دن … کسانوں کا دن … استاد کا دن …کرسمس کا دن … یوم آزادی … اِس دن …اُس دن … دن بدن … کیا ھم نے کبھی قیامت اور قیامت کے بارے میں سوچا ہے؟ کیا ھم بچ جائیں گے یا برباد ہوجائیں گے؟ اگر ھم سیدھے راستے، اسلام کے راستے، حق کے راستے پر ہیں، تو ھمارے دوستوں اور رشتہ داروں کا کیا ہوگا؟ انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن پاک کے بارے میں بتا کر اپنی محبت کا اظہار کرنا چاہئے۔۔۔۔!!

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You