کالم/مضامین

عنوان: ھمیں جمہوریت نہیں, عدل و انصاف والا نظام چاہئے

ٹائٹل: بیدار ھونے تک

عنوان: ھمیں جمہوریت نہیں, عدل و انصاف والا نظام چاہئے۔۔۔!!

کالمکار: جاوید صدیقی

ظلم کرنے والے عبرت کا نشان ضرور بنتے ہیں۔ پاکستان کی تاریخ شاہد ھے جس جس صاحبِ اختیار و اقتدار نے اللہ اور اس کے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کی رو گردانی کی یا فرمان کو فراموش کرتے ھوئے اقتدار و اختیارات کے نشے میں ظلم و بربریت کے پہاڑ کھڑے کئے اور اپنی ہی قوم کو چن چن کر اذیت و تکلیف اور بنیادی ضرورتوں سے محروم کیا وہ عبرت کا نشان بن کر دنیا میں رسوا سے ھوئے۔ بیشمار صاحبِ اختیار و اقتدار نے معاشی و اقتصادی قتل گری میں مشغول رھے ملکی اثاثے اور دولت کا بے جا ضیاع کیا اور جاری رکھا اس گمان میں کہ ان سے پوچھنے والا کوئی نہیں اور آئین و قوانین میں پے در پے تبدیلیاں کرکے خود کو محفوظ بناتے رھے لیکن بھول گئے کہ آسمان میں ھونے والے فیصلے انتہائی مضبوط اور طاقتور ھوتے ہیں۔ ھمارے ہاں ایسے بھی صاحبِ اقتدار و اختیارات گزرے ہیں اور بیشتر تا حال ہیں جو انصاف اور عدل کو قطعی پسند نہیں کرتے وہ اقربہ پروری تعصب عصبیت لوٹ مار کو اپنا مرغوب مشغلہ سمجھتے ہیں گویا جمہوریت میں لپٹا جابر و ظالم بادشاہی نظام اور یہ اس نظام کے دلدادہ ہیں کیونکہ کمزور و مجبوروں کو دلاسہ دینا منافقت کی بلندی پر پہنچنا دھوکہ اور جھوٹ سے چمٹے رہنا ان کی عادت نہیں بلکہ فطرت بن چکا ھے۔ انہیں اللہ و رسول کا کوئی خوف نہیں رھا۔ یاد رکھئے یہاں صاحبِ اقتدار و اختیارات میں اشرفیہ۔ نوکرشاہی طبقے اور ہر نجی اداروں کے مالکان و صاحبِ اختیار افسران شامل ہیں۔۔۔۔۔ معزز قارئین!! مجھ سمیت دیگر کالمکار اور مؤرخ لکھتے ہیں اور رہیں گے کہ جب بلوچستان اور سندھ ڈوب رہا ھے تو اربابِ اختیار قوم کو غلامی کی زنجیروں سے آزاد کرنے نکلے ھیں۔ جب پنجاب اور کے پی کے ڈوب رہا ھے تو غداری کا کھیل کھیلا جارہا ھے۔ جب لاشوں کو دفنانے کیلئے خشک زمین ہی میسر نہیں تو ایک مریض کیلئے پورا پاکستان مر رہا ھے لیکن عوام کے لاشوں کی فکر کسی کو نہیں۔ جب کچے مکان پانی کے ریلوں کیساتھ بہتے جارہے ھیں تو ایوانوں میں کرسی کے حصول کیلئے چالیں چلی جارہی ھیں ملک ڈوب رہا ہے تمام گاؤں دیہات قصبہ صفحہ ہستی سے مٹ چکے ہیں اور کچھ مٹ رھے ہیں اور شہر شہر گھنڈرات بنتے جارھے ہیں۔ غریبوں مسکینوں کا سرمایہ حیات ایک پل میں لٹ چکا ہے مستقبل کی خبر نہیں بلکہ موجودہ حالات میں بھی جو لوگ زندہ ہیں ان کا حال پوچھنے والا کوئی نہیں۔ہمیشہ کی طرح پاکستانی عوام اور افواجِ پاکستان ہی قوم کے بہن بھائیوں بزرگوں خواتین اور بچوں کی مدد کر رہے ہیں اور یہی لوگ ہی پاکستان جیسے ملک کی اصل دولت و طاقت ہیں۔ ہمارا آزاد میڈیا ایک مریض کے زخم ڈھونڈنے میں لگی ہے جبکہ سیلاب کےمتاثرین کے زخموں پر مرہم لگانے والا کوئی نہیں یہ ایک حقیقت ہے اور ایسا ہی ہو رہا ہے۔ اس سے پہلے ہزاروں افراد کے ساتھ اس سے زیادہ ظلم ماضی میں ہوچکا لیکن جتنی یک جہتی آج نظر آرہی ہے پہلے کبھی نہیں۔ اتنا ضرور کہنا چاہوں گا کہ جب اقتدار کے نشے میں کسی نا حق پر ظلم ہوگا تو بعد میں ظلم سہنا بھی پڑے گا۔ یہاں یاد دلاتا چلوں کہ میڈیا کے کئی چینلز نے فلاحی ادارے قائم کر رکھے ہیں وہ اپنے فلاحی اداروں کے ذریعے آئیں اور اپنی عوام کو سیلاب سے بچائیں خود بھی خرچ کریں اور صاحبِ دولت کو بھی مستحقین کی مدد کیلئے کود پڑیں۔ یاد رھے صاحبِ اقتدار و ممبران ایوان وفاقی ھوں یا صوبائی قطعی طور پر کچھ نہیں کریں گے انہیں فکر ھے تو اپنی جائز و ناجائز دولت کے تحفظ کی انہیں فکر ھے تو اپنے جرائم کو ڈھانپنے کی انہیں فکر ھے تو اقتدار کے حصول کی یقیناً اب عوام کو خود بدلنا ھوگا ان ظالمین سے چھٹکارا خود پانا ھوگا اور نظام کی تبدیلی کیلئے قوم کے ہر اک فرد کو اپنا مثبت کردار ادا کرنا ھوگا عوام نے دیکھ لیا کہ کوئی ایک اس قابل نہیں۔ وہی ملک آزاد اور ترقی یافتہ ھوتے ہیں جن کی قوم میں عزتِ نفس قوتِ ایمانی حب الوطنی اور جذبہ خیر سگالی شامل ھو قوم خود کو منقسم نہیں رکھتی قوم ایک اتحاد اتفاق یکجہتی کی شکل میں ھوتی ھے جب قوم عصبیت تعصب لسانیت مسلکیت میں تقسیم ھوجائے اس قوم کو ایسے ہی رہبر و حکمراں ملتے ہیں جو ستر سالوں سے ملتے چلے آرھے ہیں اب خود بھی بدلنا ھے اور ملک کو خوشحالی کی جانب بڑھانا ھے۔ ھمیں جمہوریت نہیں ھمیں عدل و انصاف پسند نظام چاہئے۔ دنیا کی ابتدا سے انتہا تک مطالعہ تحقیق غور و فکر کریں تو ایک ہی نظام نظر آئیگا جسے آج ترقی یافتہ امن پسند ممالک اپنائے ھوئے ہیں وہ نظام ہمیں عطا کیا گیا ھے قرآن سے نظام اسلام کہہ لیں یا نظام شریعت یہی ھماری اصل بقاء ھے یہی ھماری ترقی و امن کی ضمانت۔دعا ھے اللہ پاکستان کو سچے نیک سربراہ عطا کرے جن کا ایمان ہی سچ پر قائم ھو جو کہیں سچ کہیں جو بولیں سچ بولیں اور عمل صرف حق پر کریں اور وہ کبھی بھی یو ٹرن نہ لیں کیونکہ یو ٹرن جھوٹ کہلاتا ھے سچا نہیں رھتا۔

آمین یا رب اللعالمین۔۔۔۔۔!!

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You